عمران خان کہا کرتے تھے کہ شیخ رشید کو تو میں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔ آج شیخ صاحب ان کی کابینہ میں وزیر ہیں۔

عمران خان کہا کرتے تھے کہ میں مر جاؤں گا مگر بھیک نہیں مانگوں گا۔ آج وہ بھیک مانگنے جاتے ہیں اور واپسی پر اپنے خصوصی خطاب میں پوری قوم کو بھیک ملنے پر مبارکباد بھی دیتے ہیں۔

عمران خان کہا کرتے تھے کہ حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی شرائط مان کر معیشت کا بیڑا غرق کردیا۔ آج وہ معیشت کی ’’بحالی‘‘ کےلیے آئی ایم ایف سے قرض لے رہے ہیں۔
عمران خان گزشتہ حکومتوں پر عوام سے پٹرول پر ہوشربا ٹیکس وصول کرنے پر کڑی تنقید کیا کرتے تھے۔ آج وہ خود بھی یہی کررہے ہیں۔

عمران خان بجلی، پانی، گیس کی قیمتیں بڑھانے پر گزشتہ حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لیا کرتے تھے۔ آج وہ نہ صرف یہ سب کرچکے ہیں بلکہ اب گھروں میں موٹریں لگانے پر بھی ٹیکس لگا رہے ہیں۔

عمران خان روپے کی بے قدری کا ماتم کیا کرتے تھے۔ آج وہ قومی معیشت کی ’’بحالی‘‘ کےلیے روپے کی قدر کو بری طرح گرا چکے ہیں۔

عمران خان پرویز الہٰی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیا کرتے تھے۔ آج انہوں نے اس ’’ڈاکو‘‘ کو پنجاب اسمبلی کا اسپیکر بنادیا ہے۔

عمران خان ایم کیو ایم کو قاتل، دہشتگرد، بھتہ خور، مافیا اور نجانے کیا کیا کہا کرتے تھے۔ آج ان کی کابینہ میں ایم کیو ایم کے 2 وزیر شامل ہیں۔

عمران خان میٹرو بس کو قومی معیشت پر بوجھ، غیرضروری، شوکیس پروجیکٹ، بھاری کمیشن اور کرپشن کا منصوبہ قرار دیا کرتے تھے۔ آج وہ پشاور میں میٹرو ٹریک بچھا رہے ہیں۔

عمران خان اورنج لائن ٹرین کو میگا کرپشن و میگا کمیشن کا ذریعہ اور لاہور کی ثقافت کی بربادی کا منصوبہ کہا کرتے تھے۔ آج ان ہی کی حکومت اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے کام کررہی ہے۔

عمران خان نواز حکومت کی قطر سے ایل این جی ڈیل کو میگا کرپشن اسکیم کہا کرتے تھے۔ آج ان کی حکومت اسی ڈیل کے تحت قطر سے ایل این جی امپورٹ کررہی ہے۔

عمران خان شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر نہ بنانے کی کوشش کرتے رہے لیکن پھر پیچھے ہٹ گئے۔

عمران خان شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی دینے کی مخالفت کرتے رہے مگر پھر پسپا ہوگئے۔

عمران خان کہا کرتے تھے کہ نئے پاکستان میں باہر سے لوگ نوکریوں کی تلاش میں آیا کریں گے۔ آج وہ سعودی عرب، یو اے ای و دیگر ممالک سے پاکستانیوں کو نوکریاں دینے کی درخواستیں کررہے ہیں۔

عمران خان نوازشریف کو مودی کا یار کہا کرتے تھے۔ اب وہ کئی بار بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا چکے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کو کلبھوشن کا ذکر نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنانے والے عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد شاید ہی کبھی اس بھارتی جاسوس کا ذکر کیا ہو۔

وزیراعظم بنتے ہی وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کی دیواریں گرانے اور انہیں یونیورسٹیوں، لائبریریوں یا سیرگاہوں میں بدل ڈالنے کا اعلان کرنے والے عمران خان وزارت عظمیٰ ملنے کے تقریباً 7 ماہ گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک اس ضمن میں ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکے۔ الٹا وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کرنے کے بعد سعودی ولی عہد اور ان کے وفد کو وہاں ٹھہرانے پر ’’شریکوں‘‘ سے طعنے سننے پر مجبور ہوگئے۔

بہرحال، جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے اور جو ہونا ہے وہ بھی ہو کر ہی رہنا ہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ حاکم وقت کی ہر ادا کو یوٹرن، بے وفائی، جھوٹ، منافقت یا کوئی بھی اور نام دے کر خوامخواہ اپنا خون جلاتے رہیں یا مثبت تبدیلیوں کو خوش آمدید کہیں اور پروردگار سے ان میں ’’خیر و برکت‘‘ کی دعا کریں۔ ساتھ ہی یہ دعا بھی کرتے رہیں کہ ’اسٹیٹس کو‘ کو توڑنے کا نعرہ لگاکر حکومت میں آنے والے خان صاحب یوٹرن بے شک لیتے رہیں لیکن وہ مثبت ہوں، منفی نہیں۔ اور سیاسی نہیں حقیقی معنوں میں ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہوں۔ کیونکہ کم از کم اب تک تو ہر گزرتا دن واضح کرتا جارہا ہے کہ خان صاحب بہت تیزی سے نمک کی کان میں مل کر نمک ہونے یا اسٹیٹس کو کی روایتی سیاست کو اپنی پوری توانائی کے ساتھ اپنانے یا پرانے پاکستان میں واپسی کےلیے پیہم کوشاں ہیں۔ جیسے کہ وہ اپنی خواہشات اور اعلانات کے مطابق پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو 100 فیصد آزاد کرنے کے برعکس، نجی ٹی وی چینلز پر غیراعلانیہ سنسرشپ اور سوشل میڈیا پر قدغن کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

لاپتہ افراد کے معاملے میں خاموشی کو بہتر حکمت عملی سمجھ رہے ہیں۔

پانی کی قلت سمیت بلوچستان کے دیگر مسائل کے حل کی جانب ان کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر دہائی دینے والے عمران خان نے سانحہ ساہیوال کے لواحقین کے گھر جاکر تعزیت تک نہیں کی۔

طاہر داوڑ کے قاتلوں کی گرفتاری بھی ریاست کی ترجیحات میں کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔

پروفیسر ارمان لونی کا خون بھی ریاست کی بے حسی کو ختم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔

حکومت کے 7 ماہ پورے ہو گئے لیکن پولیس ریفارمز سے ایف بی آر ریفارمز تک، نیب ریفارمز سے جوڈیشل ریفارمز تک اور الیکٹورل ریفارمز سے سابق فاٹا میں ضمنی صوبائی انتخابات اور اس کے پختونخوا میں مکمل انضمام تک، ابھی سارے وعدے ہوا میں ہی معلق ہیں۔

اور ہاں! وہ ڈیموں کی تعمیر کا قصہ کیا ہوا؟ سوائے اشتہارات کے، کیا ریاست نے اس سمت ایک بھی عملی قدم اٹھایا ہے؟

اور پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں؟

یہ تو سچ ہے کہ خان صاحب ابھی مکمل طور پر بڑے نہیں ہوئے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ بڑے ہورہے ہیں۔ بس دعا ہے کہ ان کی یہ ’’جوانی‘‘ قومی مفاد کی قربانی یا سمجھوتوں کی عادت پر منتج نہ ہو۔

express news