ٓاسلام آباد – جمعیت علما ئے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کی زبان سے کبھی خفا نہیں ہوتا۔ میری بات ثابت ہورہی ہے کہ عمران خان بیرونی ایجنٹ ہیں۔ کیچر اچھالنا سیاست سے منفی رجحان ہے۔ وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ اپنی جگہ موجود ہے۔ بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی میں تنخواہ نہیں لیتا تھا میں نے اگر کوئی غلط کاروبار کیا ہے تو سامنے لائیں۔

پیر کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری تحریک 2018کے انتخابات کے بعد شروع ہوئی اور ہم نے اسلام آباد دھرنے اور آزادی مارچ تک 15کامیاب ملین مارچ کیسے اور ہم نے آئین و قانون کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ عام انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک قومی و عوامی بن چکی ہے اور تمام عوام اور سیاسی جماعتیں ملک میں آزاد انہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ قوتوں نے دھاندلی کے ذریعے موجودہ وزیر اعظم کو کرسی پر بٹھا یا، ہم ان سے تعاون نہیں کرسکتے مگر گلے شکوے ضرور کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات پر فوج کو اثر انداز نہیں ہونا چاہیے یہی ہمارا واضح موقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری چوہدری برادران سے بہت کچھ باتیں ہوئی ہیں اور کچھ یقین دہانیاں بھی ہوئی ہیں اور اتنے سادہ ہم بھی نہیں ہیں کہ اتنی قوت کے ساتھ ہم اسلام آباد آئے اور اتنی آسانی سے واپس چلے گئے۔ ہمارا ہدف وزیر اعظم اور جعلی حکومت سے استعفی ہے  اور ہم اس پر برقرار ہیں اس حوالے سے تمام اپوزیشن کے ساتھ ملکر کام کیا جارہا ہے  اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں اسلام آباد سے چلا گیا ہوں تو سکون ہے مگر ایسا نہیں ہے ہمارا احتجاج ملک بھر میں بڑھتا جارہا ہے اور اگلے سال 2020ء کے ابتدائی مہینوں میں نئے الیکشن ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میری یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے کہ

عمران بیرونی ایجنٹ ہے کیوں کہ لندن میں میئر کے الیکشن کے دوران عمران خان نے وہاں یہودی تنظیم سی ایف آئی کی حمایت کی جو اسرائیلی حمایت یافتہ تنظیم ہے۔ 1995میں سی پیک پر میری سربراہی میں کمیٹی نے چین سے بات چیت کی۔ کمیٹی میں چین سے بات چیت کا آغازہواتھا اس سی پیک پر کتنی محنت کی گئی پھر پیپلز پارٹی نے بھی اسے جاری رکھا اور پھر نوازشریف حکومت نے اس کو حتمی شکل دی اور کام شروع کیا مگر جب پی ٹی آئی حکومت آئی تو اس نے سی پیک کو برباد کردیا اور کس طرح اس حکومت نے چین کو مایوس  اور ناراض کیا اور سی پیک کو روکنے کیلئے نواز شریف پر پانامہ کا کیس بنایا گیا

اور ان کو نااہل کیا گیا اور آج کل جو امریکہ کا سی پیک پر بیان آیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کس کا ایجنڈا ہے اور ایک وقت آئے گا کہ اس شخص (عمران)کو وزیر اعظم کس نے بنایا اور اس وزیر اعظم کو قوم کے ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر لایا گیا۔انہوں نے کہاکہ مزہب اور سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کسی اور کا ہوگا یہ میرا نہیں ہے۔میرے نزدیک سیاست مذہب کا حصہ ہے۔ میرا آئین ختم نبوت سمیت اسلامی دفعات کا تحفظ دیتا ہے  تو پھر مذہب اور سیاست ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے دھرنے کے بعد بھی تعلقات بہت اچھے ہیں تاہم اگر ایک پارٹی اپنے کارکنوں کو تیار نہین کرسکی اور وہ دھرنے میں شامل نہیں ہوسکی تو اس میں کوئی غلط بات نہیں مگر جس پارٹی نے جتنی بھی شرکت کی ہم اس کے مشکور ہیں۔