کمیونسٹ پارٹی کے اخبار نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا کی معروف ترین آن لائن ای کامرس کمپنیوں میں سے ایک چینی کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما نے چائنا بیلٹ اور روڈ گلوبل ٹریڈ انفرااسٹرکچر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جیک ما کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے اور اب ان کے حوالے سے انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے اس وقت 8 کروڑ 90 لاکھ ارکان ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار پیپلز ڈیلی کی جانب سے ایک آرٹیکل میں چین کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے افراد کی خدمات کو سراہا تھا جن میں جیک ما بھی شامل تھے۔

جیک ما کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے پہلے امیر ترین کاروباری شخص نہیں بلکہ پراپرٹی آئیکون اور وانڈا گروپ کے بانی وانگ جیان لین بھی اس کے ارب پتی اراکین میں شامل ہیں۔

تاہم اس سے قبل جیک ما کی رکنیت ظاہر نہیں کی گئی تھی کیونکہ وہ سیاست سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پیر کو شائع کیے گئے آرٹیکل میں پیپلز ڈیلی نے کہا تھا کہ جیک ما وہ پارٹی رکن ہیں جنہوں نے چائنا بیلٹ اور روڈ گلوبل ٹریڈ انفرااسٹرکچر کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا ہے، یہ منصوبہ چین کے صدر شی جن پنگ کا ہے۔

پیپلز ڈیلی نے بتایا کہ انہیں چین کے صوبے سنکیانگ میں چینی خصوصیات رکھنے والے سوشلزم کے آؤٹ اسٹینڈنگ بلڈر کا اعزاز دیا جاچکا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت نجی کاروباری افراد کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ وہ کاروبار کے لیے ایک ایسے پیچیدہ ماحول میں موجود ہیں جہاں اکثر صنعتوں پر ریاستی معیشت کا غلبہ ہے اور نجی کاروبار خوش آئند ثابت نہیں ہوسکتے ہیں۔

صدر شی جن پنگ نے نجی کاروباروں میں کمیونسٹ پارٹی کے اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں جن کے تحت کوئی بھی کمپنی جس میں پارٹی کے 3 اراکین سے زیادہ موجود ہوں وہ پارٹی سیل قائم کریں یا وہ قریبی فرمز میں شامل ہوجائیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں چینی صدر نے نجی ملازمتوں اور روزگار کی نئی اقسام میں اضافے پر شنگھائی میں حکام کو بتایا تھا کہ ’ ہمیں پارٹی اراکین کی تعلیم او ر مینیجمنٹ میں بہتر کردار ادا کرنا ہے اور بہتر کردار ادا کرنے میں ان کی رہنمائی کرنی ہے‘۔

سرکاری نیوز ایجنسی ژن ہوا کے مطابق شی جن پنگ کمیونسٹ پارٹی اور کاروبار کو مزید قریب لانے کی کوشش کررہے ہیں اور پارٹی آرگنائزیشنز سے متعلق قوانین میں بھی تبدیلیاں کررہے ہیں۔

ژن ہوا کے مطابق’ نجی کمپنیوں میں قائم پارٹی سیل کمپنی کو سرکاری قواعد وضوابط کی پابندی کرنے سے متعلق رہنمائی کریں ‘۔

علی بابا کی ترجمان کا کہنا تھا کہ جیک ما نے 2014 میں نیویارک اسٹاک ایکسچنج سے متعلق کاغذی کارروائی میں کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت ظاہر نہیں کی تھی تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ اس وقت پارٹی رکن تھے یا نہیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ ستمبر میں جیک ما نے علی بابا کی سربراہ کے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، وہ ماضی میں چینی ریاست سے ایک بازو کے فاصلے پر رہنے کو ترجیح دینے کا اشارہ دے چکے ہیں۔

انہوں نے 2007 میں ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کہا تھا کہ ’ میرا فلسفہ ہے کہ حکومت سے محبت کریں لیکن ان سے شادی کبھی نہ کریں‘۔

تاہم کمیونسٹ پارٹی کے ممبران پارٹی میں شمولیت کے وقت حلف اٹھاتے ہیں کہ ’ پارٹی سے وفادار رہیں گے، فعال رہیں گے، زندگی بھر کمیونزم کی بقا کے لیے لڑیں گے، پارٹی اور لوگوں کے لیے کچھ بھی قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے اور پارٹی کو کبھی دھوکا نہیں دیں گے‘۔