اسلام آباد: سپریم کورٹ نے عطاءالحق قاسمی کی بطور چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) تقرری کے حوالے سے زیر سماعت کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ان پر سرکاری خزانے سے ہونے والے 27 کروڑ روپے کے اخراجات کے آڈٹ کروانے کا بھی حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے عطاءالحق قاسمی کی بطور چیئرمین پی ٹی وی تقرری کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کی سرزنش کی اور انہیں کھڑے ہونے کا حکم دیا اور پھر ان سے ان کا نام بھی دریافت کیا۔

سماعت کے دواران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ عطاء الحق کو استحقاق سے زائد رقم کیسے دی گئی جس پر فواد حسن فواد نے بتایا کہ وزیراعظم کے حکم پر انہیں یہ ادائیگی کی گئی۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ عدالت میں وہ قانون پیش کیا جائے جس کے تحت یہ ادائیگیاں کی گئی جس پر فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ یہ تمام ادائیگیاں زبانی حکم پر کی گئیں تھیں۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا سرکاری کام زبانی حکم پر ہوتے ہیں؟

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ بیوروکریٹس کو کچھ کہیں تو ہڑتال کرتے ہیں، حالت تو یہ ہے کہ اتنے بڑے بیوروکریٹ کو قانون کا علم ہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے فواد حسن فواد کو قانون کی کتاب دینے کا حکم دیا جس کے بعد چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کتاب میں پڑھ کر بتایا جائے کہ زبانی احکامات پر کام کیسے ہوتے ہیں اور وفاقی حکومت کے پاس چیئرمین پی ٹی وی کی تقرری کے اختیارات کہاں ہیں؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 23 دسمبر 2015 کو وزیراعظم کا حکم نامہ وزارتِ اطلاعات کو موصول ہوا تو اسٹیبلشمنٹ کے لیٹر کو مدنظر رکھے بغیر عطاءالحق قاسمی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عطاءالحق قاسمی کی بطور چیئرمین پی ٹی وی تقرری بد نیتی پر مشتمل تھی۔

چیف جسٹس نے فواد حسن فواد سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیوں نہ آپ کے خلاف مقدمہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں بھیج دیا جائے۔

فواد حسن فواد نے عدالت کو بتایا کہ ہمیشہ سے وزیراعظم کے زبانی احکامات پر یہ منظوری ہوتی رہی ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جب آپ کی تقرری کی منظوری ہوئی اس وقت کو چیلنج کیا گیا تھا جس پر فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں یہ پریکٹس موجود نہیں تھی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فواد حسن فواد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں آپ کے پاس کوئی ایسا اختیار موجود نہیں جس کے تحت آپ وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دے دیں۔

فواد حسن فواد نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایسا ہوتا رہا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جو بات کہ رہے ہیں اسے اپنے پاس لکھ لیتے ہیں۔

فواد حسن فواد نے عدالت کو مزید بتایا کہ عطاءالحق قاسمی کو مراعات دینے کی منظوری نہ تو انہوں نے دی اور نہ ہی اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے دی تھی بلکہ یہ فنانس ڈویژن نے دی تھی۔

انہوں نے درخواست کی کہ ان کے اس بیان کو بطور بیانِ حلفی لیا جائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا بیان بے معنی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت وزارتِ خزانہ والوں کو بھی بلائے گی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عطاءالحق قاسمی کی تقرری کی منظوری وزارتِ اطلاعات کی سمری پر ہوئی جس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ مجھے وہ قانون دکھایا جائے جس پر چیئرمین کو ملنے والے پانچ ہزار کو 15 لاکھ بنایا گیا۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو قانون دکھایا جائے ورنہ نواز شریف کو نوٹس جاری کر دیا جائے گا کیونکہ نواز شریف اس وقت وزیراعظم تھے لہٰذا عطاء الحق قاسمی کی بطور ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کے کیس میں نواز شریف آکر نتائج بھگتیں۔

فواد حسن فواد نے اپنے بیان کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ عطاءالحق قاسمی کی تقرری کی سمری بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھیجی تھی جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور فنانس بورڈ نے اس کی توثیق کی اور پھر بعد میں وزیراعظم نے تقرری کی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری کی ہدایت انہوں نے یا پھر وزیراعظم نے نہیں کی تھی بلکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کی تھی۔

عطاء الحق قاسمی کی وکیل عائشہ حامد نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی کو 600 ملین روپے کا ریونیو ملا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عطاءالحق قاسمی کی تقرری قانون کے خلاف ہوئی، کیا ایڈووکیٹ عائشہ حامد ان کی تقرری کا دفاع کررہی ہیں؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس معاملے میں کیا بدنیتی ہوئی ہے جس پر عائشہ حامد نے کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ اس تقرری میں بد دیانتی ہوئی ہے کیونکہ کمپنی آرڈیننس کے کچھ قوانین کا اطلاق پی ٹی وی پر نہیں ہوتا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عطاءالحق قاسمی نے سفارتکاری میں بھی خدمات سرانجام دیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عطاءالحق قاسمی کے پاس سفارتکاری کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک میں بندر بانٹ نہیں ہونے دیں گے۔

عدالتِ عظمیٰ نے عطاءالحق قاسمی کی تقرری پر فیصلہ محفوظ کر لیا جبکہ ان پر سرکاری خزانہ سے ہونے والے 27 کروڑ روپے کے اخراجات کے آڈٹ کروانے کا بھی حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ عطاءالحق قاسمی کو 23 دسمبر 2015 کو پی ٹی وی کا چیئرمین تعینات کیا گیا تھا تاہم ان کے حوالے سے تنازع اپریل 2017 میں سامنے آیا تھا جب انہوں نے خود کو ایم ڈی پی ٹی وی منتخب کر لیا تھا۔

تنازع سامنے آنے کے بعد سیکریٹری اطلاعات سردار احمد نواز سکھیرا کو قائم مقام ایم ڈی پی ٹی وی تعینات کیا گیا تھا جبکہ انہوں نے دسمبر 2017 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

عطاءالحق قاسمی نے مبینہ طور پر وزرات اطلاعات و نشریات کے مایوس کن رویے سے دلبرداشہ ہو کر بطور چیئرمین پی ٹی وی 14 دسمبر 2017 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔