اسرائیل جو ایک نسل پرست صہیونی ریاست ہے، اور اس کا وجود چونکہ صہیونیوں نے بوڑھے استعمار برطانیہ کی مدد سے عالم اسلام کے قلب فلسطین پر غاصبانہ طور پر سنہ 1948ء میں قائم کیا تھا۔ تاہم ستر برس کے اس غاصبانہ قبضہ اور تسلط کے نتیجہ میں آج بھی صہیونیوں کے اندر خوف اور شکست کا خطرہ پہلے کی نسبت زیادہ پایا جا تا ہے۔ اور اس بات کا ثبوت صہیونیوں کی بڑھتی ہوئی بوکھلاہٹ اور فلسطین کے علاقوں میں بڑھتے ہوئے مظالم اور خطے میں دہشت گرد گروہوں کی پیداوار سمیت ان کی مدد کرنا جیسے معاملات ہیں۔ جس کا مقصد صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی سیکورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

دوسری طرف صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی سرپرست ریاست امریکا ہے کہ جس کا ہر حکمران اسرائیل کے تحفظ اور بقاء کو اپنے ایمان اور امریکی دستور کا کلیدی حصہ سمجھ کر صہیونیوں کے تمام جرائم کی سرپرستی کرتا ہے۔ بلکہ ساتھ ساتھ ان جرائم کی انجام دہی کے لیے اربوں ڈالرز کا اسلحہ بھی امداد کے نام پر دیا جاتا ہے۔ جبکہ فلسطینی قوم جو نہتے اور پا برہنہ ہیں، ہر طرح سے ان تمام مظالم کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اس بات پر قائم ہیں کہ اپنے وطن اور سرزمین سے کسی طور پر بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔

امریکی سرپرستی میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا پہلا ہدف یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح فلسطینیوں کو فلسطین سے دستبردار کر ڈالے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے ماضی میں بھی فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر جبری طور پر ہجرت کروائی گئی تھی، اور یوم نکبہ کو سات لاکھ سے زائد فلسطینی اپنے ہی وطن سے آوارہ کر کے نکال دئیے گئے تھے جو پڑوسی ممالک بشمول لبنان، شام، اردن اور مصر میں پناہ گزین کیمپوں میں جا کر آباد ہوئے؛ اور آج ان کی تیسری نسل وہاں پر جوان ہو رہی ہے۔

اسرائیل گذشتہ ستر برس سے یہی کوشش کر رہا ہے کہ ظلم وجبر اور استبداد کے ذریعہ ملت فلسطین کو اپنے ہی وطن اور گھر سے بے دخل کر دے، اور پورے فلسطین پر قابض ہو کر اسے ناجائز اور جعلی ریاست اسرائیل کا حصہ بنا لے۔

امریکا اور اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم و ستم سمیت تمام ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے کے باوجود بھی فلسطینی قوم بالخصوص نوجوانوں اور بالعموم بزرگوں اور ہر طبقہ فکر کے فلسطینی باشندوں کے دلوں سے ان کے وطن کی محبت اور لگن کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ تاہم اب امریکی شیطان اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل نے حالیہ دور میں نیا ہتھکنڈا جو اپنایا ہے اس میں خطے میں موجود عرب حکمرانوں اور ریاستوں کو اسرائیل کا دوست بنانے کا کام کیا جا رہاہے، تا کہ ان عرب بادشاہوں کی مدد سے فلسطینیوں کی باقی ماندہ زمین اور علاقوں پر شب خون مارا جا سکے۔ عرب دنیا کے حکمرانوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے ہیں کہ جو پہلے خفیہ تھے، لیکن اب کافی حد تک اعلانیہ بھی ہو چکے ہیں۔

صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اسرائیل کی سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ وہ ایک ایسی زمین پر قائم ہوا ہے کہ جس کے باشندے اپنی زمین کو چھوڑنے پر رضا مند نہیں ہیں، اور ستر سالوں سے اسرائیل کے مقابلہ پر کھڑے ہیں اور مزاحمت کر رہے ہیں۔ جبکہ اسرائیل ایسی صورتحال کے تسلسل میں خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا ہے۔

لیکن گزشتہ چند ایک سالوں میں اور بالخصوص گذشتہ دو برسوں میں جس طرح سے عرب دنیا کے حکمران اور اسرائیل کے مابین قربتیں بڑھنے لگی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ شاید اب صہیونیوں کا خیال ہے کہ کچھ خطرات کم ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس فلسطینی مسلسل اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، اور یہ جد وجہد نہ تو کسی عرب ملک کے حاکم کے کہنے پر شروع ہوئی تھی اور نہ ہی کسی عرب ملک کے بادشاہ کے کہنے پر ختم کی جا سکتی ہے۔ فلسطین کے عوام اپنے حقوق کی بقاء اور اپنے دفاع کی جنگ اپنے حوصلہ اور جذبہ کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

گذشتہ برس کے آخری چند ماہ میں اسرائیلی حکام کی عرب حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں کافی اہم رہی ہیں، اور اس بات کی دلیل ہیں کہ سنہ 1948ء کے بعد سے جس طرح سے عرب ممالک کے حکمرانوں نے اسرائیل کو ناجائز تصور کیا تھا، اب شاید اس تصور سے منحرف ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی تجزیہ نگار دورے گولڈ کے مطابق عرب اسرائیل تعلقات کی اہم پیشرفت میں گزشتہ چند ماہ میں عمان اورعرب امارات میں ہونے والے واقعات کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئی اور گہری پیشرفت وجود میں آ چکی ہے۔ اکتوبر2018ء کے آخری دنوں میں صہیونیوں کے وزیرا عظم نیتن یاہو نے اچانک ہی عمان کا دورہ کیا، اور اس دورے میں ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ یہ گذشتہ دو عشروں سے زیادہ عرصے میں اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی۔ سلطان کے ہاں نہایت پرتکلف دعوت اور روایتی عمانی موسیقی سے تواضع کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کو بتایا کہ سلطان سے ان کی ’بات چیت بہت اچھی‘ رہی، اور یہ وعدہ بھی ہوا ہے کہ آئندہ ایسی ملاقاتیں ہوتی رہیں گی۔

صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم کی درج بالا بات بالکل درست ثابت ہوئی۔ کیونکہ جب اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں خوش خبری سنائی تو اس موقع پر کھیلوں اور ثقافت کی اسرائیلی وزیر میری رجا متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں موجود تھیں، جہاں وہ جوڈو کے بین الاقوامی مقابلے دیکھ رہی تھیں۔ ان مقابلوں میں اسرائیل کی ایک کھلاڑی نے طلائی تمغہ جیتا تو اس موقع پر عرب امارات کے دارلحکومت میں اسرائیلی ترانہ کی دھن بھی بجائی گئی، یہ بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ اس موقع پر صہیونی جعلی ریاست کی وزیر کھیل و ثقافت قومی ترانہ کی دھن سن کر آب دیدہ ہو گئیں۔ جزیرہ نما عرب کی سرزمین پر یہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

اسی طرح اسرائیل عرب ممالک کے ساتھ ریلوے لائن بچھانے کی منصوبہ بندی کو بھی حتمی شکل دے چکا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سرکاری سطح پر عمان یا متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات موجود ہی نہیں ہیں۔

عرب دنیا کے حکمرانوں اور اسرائیل کی قرابت میں آئے روز ہونے والا اضافہ جہاں ایک طرف فلسطینیوں کی بے مثال جدوجہد کو سبوتاژ کر رہا ہے وہیں اسرائیل کےلیے خطے میں کھلم کھلا بدمعاشی اور دہشت گردی کے راستے بھی کھول رہا ہے؛ اور یہ دہشت گردی بالآخر خطے میں موجود اسرائیل کے قرابت دار عرب حکمرانوں کو بھی اپنی آگ میں لپیٹ لے گی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمران اور بادشاہ اپنے انجام اور عاقبت سے بے خبر امریکی و صہیونی کاسہ لیسی میں غرق ہو چکے ہیں۔

سابق اسرائیلی سفارتکار دورے گولڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل عرب تعلقات کے بڑھتے ہوئے رحجان سے اسرائیل کی مشکلات میں کمی ہونے کا امکان پیدا ہوچکا ہے۔ انہوں نے عرب دنیا اور اسرائیل کے مابین ملاقاتوں اور تعلقات کے راز کو افشا کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ملاقاتیں کوئی نئی بات نہیں بلکہ کئی برسوں کا تسلسل ہیں اور اس طرح کی ملاقاتیں اسرائیل کےلیے کامیابی کی کنجی ہیں۔ اس تجزیہ نگار کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ عرب دنیا کے فرمانروا اور اسرائیل کے حکمران اب ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں لیکن ماضی میں کوئی بھی قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ تاہم اب صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔ سابق اسرائیلی سفارتکار کے تجزیئے کے مطابق، عرب خلیجی حکمرانوں کی اسرائیل سے قریب آنے کی ایک وجہ اسرائیل اور ان عرب ممالک کا ایران مخالف ہونا ہے۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران پر قابو رکھنے کےلیے ٹرمپ انتظامیہ بھی خلیج میں امریکی اتحادیوں اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات کی زبردست حامی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں فلسطین اور اس کے عوام شدید خطرات سے لاحق ہو رہے ہیں، القدس خطرے میں ہے۔ خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں، نئے اتحادوں اور صدر ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد کہ وہ اسرائیل عرب تنازعے کو ختم کرنے کےلیے اس ’صدی کا سب سے بڑا معاہدہ‘ کرانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، فلسطینیوں کی فکرمندی میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ فلسطینیوں کو خطرہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اُن پر دباؤ بڑھانے کےلیے سعوی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی ریاستوں کی جانب دیکھ رہی ہے اور یہ امریکی انتظامیہ، فلسطینیوں کو ایک ایسے امن معاہدے پر مجبوراً رضامند کرانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے ان کے دیرینہ مطالبات پورے نہیں ہوتے۔

فی الحال صرف مصر اور اردن ہی وہ عرب ممالک ہیں جو اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن قائم کرنے کا عمل بہت پہلے رک چکا ہے لیکن گزشتہ سال اسے ایک اور دھچکا لگا۔ وہ فلسطینی عوام جو مقبوضہ بیت المقدس کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں، انہوں نے اسے صدر ٹرمپ کی طرف سے اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کردیا ہے۔ انھوں نے یہ کہہ کر واشنگٹن سے اپنے تعلقات ختم کرلیے کہ یہ قدم تصفیہ کرانے والے کسی منصف کا نہیں ہوسکتا۔ لیکن اس کے باوجود مشرق وسطی کےلیے امریکا کے ایلچی جیسن گرین بلاٹ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم کے عمان کے دورے کے حوالے سے پرجوش بھی ہیں۔ اپنی ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم ’ہماری امن کی کوششوں کےلیے نہ صرف مدد گار ہے بلکہ اسرائیل، فلسطین اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان استحکام اور خوشحالی کی فضا قائم کرنے کےلیے ضروری بھی ہے۔‘

دوسری طرف عرب دنیا کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امن مذاکرات کی بحالی میں سعودی عرب کو جو کردار دیا گیا تھا، وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد شکوک کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بیان میں بنیامن نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگرچہ خاشقجی کی ہلاکت ایک ’ہولناک‘ خبر تھی لیکن اس سے سعودی عرب کے اندر عدم استحکام پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اصل اور بڑا مسئلہ ایران ہے۔ بحرین نے اسرائیل کی جانب سے اس ’واضح مؤقف‘ کو اسی طرح سراہا ہے جیسا اس نے گزشتہ دنوں عمان کو اسرائیلی وزیراعظم کی آمد پر سراہا تھا۔

یہ امکان کم ہی ہے کہ عرب ممالک جلد ہی اسرائیل کو پوری طرح گلے لگا لیں گے، اس لیے فی الحال ہمیں دونوں فریقوں کے درمیان ایسے دعوت ناموں اور پر جوش انداز میں ہاتھ ملانے کے مناظر ہی کو کافی سمجھنا پڑے گا جن کے بارے میں ہم کل تک سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

اس تمام تر صورتحال کا اثر اب پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہو چکا ہے جو ماضی میں پاکستانی حکمرانوں کی اسرائیلی عہدیداروں کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں خفیہ ملاقاتوں کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ تاہم دور حاضر میں تل ابیب سے پرواز کرکے آنے والے طیارے کی اسلام آباد میں لینڈنگ ہو اور دس گھنٹے قیام ہو یا پھر سابق جنرل کا اسرائیل حمایت میں لیکچر یا پھر حکومتی جماعت کی رکن قومی اسمبلی کی طرف صہیونیوں کی حمایت اور اسرائیل کےلیے راہ ہموار کرنے جیسے بیانات اور تقریریں ہوں، سب کے سب ریکارڈ پر موجود ہیں اور ایک نئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔

ایسے حالات میں خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ اب پاکستان نے جن ممالک کےلیے ویزا پالیسی کا اعلان کیا ہے ان میں اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو بھی پاکستانی ویزا دیا جائے گا۔ یہ انتہائی خطرے کی بات ہے اور پاکستان کے آئین اور نظریاتی بنیادوں سمیت بانیان پاکستان کی اساس سے انحراف کے مترادف ہے۔ چونکہ پاکستان کی سیاست اور آنے والی حکومتوں کے حکمران عام طور پر امریکا کے بعد سعودی عرب اور امارات کو اپنا سب سے بڑا پیشوا اور مسیحا مانتے ہیں تاہم اس مریدی میں یقیناً پاکستان پر انہی عرب ممالک کی طرف سے یہ دباؤ بھی ضرور ہوگا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کو نرم کیا جائے۔

بہرحال! خلاصہ یہی ہے کہ حالیہ دور میں فلسطینی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جو مثالی ہے، جبکہ عرب دنیا کے حکمران اسرائیل کے ساتھ قربتیں پیدا کرکے نہ صرف فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی پیٹھ میں بھی چھرا گھونپا جا رہاہے۔ اس صورتحال سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے کےلیے مسلم دنیا اور عالم انسانیت کی خطرناک دشمن صہیونی جعلی ریاست اسرائیل ہے جو عنقریب ان عرب قرابت داروں کو بھی اپنے شکنجے میں دبوچ ڈالے گی لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

بلاگ کے اختتام پر سابق پاکستانی جنرل غلام مصطفی کی بات کو دہراتا ہوں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان تل ابیب میں بیٹھ کر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی چوکیداری بھی کرلے تب بھی یہ اسرائیل، پاکستان کو نہیں چھوڑے گا اور موقع ملتے ہی پاکستان کے خلاف اپنا ہر قسم کا وار کرے گا۔ اب پاکستان سمیت تمام عرب دنیا کے حکمرانوں کو چاہیے کہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔

صابر ابو مریم

express news