امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق عراق میں امریکہ کی سربراہی میں تعینات فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ آٹھ جنوری کو ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل امریکی صدر اور وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ اس واقعے میں کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا تھا اور صرف تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔

سی این این نے امریکی عسکری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد 11 تھی۔

فوجی اتحاد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زخمی فوجی اہلکاروں میں سے کئی کو احتیاطً جرمنی منتقل کیا گیا ہے تاہم طبعی معائنے اور مکمل صحت یابی کے بعد یہ فوجی عراق میں اپنی ڈیوٹی پر لوٹ آئیں گے۔

یاد رہے کہ تین جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آٹھ جنوری کو رات گئے عراق میں دو ایسے فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی مقیم تھے اور اس کارروائی کے دوران ایران نے 16 میزائل داغے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کی جانب سے بھی امریکی فوجیوں کے حملوں میں زخمی ہونے کا اعتراف کیا گیا، تاہم ان کا کہنا تھا ‘اس حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔’

ایرانی میزائل حملے کا نشانہ بننے والی ایئربیس کے مناظر

سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن بل اربن کے مطابق ‘عین الاسد کے اڈے پر کیے گئے حملے میں کئی فوجیوں کو سر پر چوٹ آئی۔ ان کا علاج کیا گیا اور فی الحال ان کا مزید معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ‘

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘اعلیٰ حکام کی جانب سے تنبیہ کے بعد حملے کے وقت عین الاسد اڈے پر موجود ڈیڑھ ہزار فوجی حفاظتی بنکروں میں چلے گئے تھے۔’

خیال رہے کہ جنرل سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت اور جواب میں ایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے تاہم اب اس میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔

آٹھ سال بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کی امامت میں نمازِ جمعہ

ادھر ایران میں ملک کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای جمعے کو دارالحکومت تہران کی ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کی امامت کر رہے ہپں۔ گذشتہ آٹھ سالوں میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای جمعے کی نماز کا خطبہ خود دیں گے۔

ایران کی نیوز ایجنسی مہر نیوز کے مطابق 2012 کے بعد پہلے مرتبہ 80 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای تہران کی مسجدِ مصلیٰ میں جمعے کی نماز پڑھائیں گے۔ تاہم نیوز ایجنسی نے ملک کے رہبرِ اعلیٰ کے اس اقدام کو موجودہ صورتحال سے نہیں جوڑا۔

آخری مرتبہ جب آیت اللہ خامنہ ای نے نماز جمعہ کی امامت کی تھی تب 2012 میں ایران میں اسلامی انقلاب کو 33 سال مکمل ہوئے تھے۔ نیوز ایجنسی نے ایرانی حکام کے حوالے سے کہا کہ ’ایرانی قوم ایک مرتبہ پھر اپنا اتحاد اور عظمی کا مظاہرہ کرے گی۔‘

Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei addressing a meeting in Tehran, Iran, 08 January 2020

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کے مہدی خلجی کہتے ہیں کہ جمعے کی نماز کی امامت علامتی طور پر ان مواقع کے لیے مخصوص کی گئی ہے جب ملک کی اعلیٰ ترین قیادت نے کوئی اہم پیغام دینا ہو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخی طور پر ایرانی رہنما یہ کام اپنے وفادار مذہبی رہنماؤں کو سونپتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج کی جانب سے گذشتہ ہفتے ایک مسافر بردار یوکرینی طیارے کو غلطی سے مار گرائے جانے کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔

ایرانی قیادت پر دباؤ ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ملک کی معیشت کی بگڑتی صورتحال سے کیسے نمٹ رہے ہیں۔

بدھ کے روز صدر روحانی نے قومی اتحاد کے لیے اپیل کی تھی تاہم ایرانی قیادت میں ایک انتہائی غیر عمومی شگاف کی علامت اس وقت دیکھنے کو ملی جب صدر روحانی نے فوج سے کہا کہ وہ طیارہ گرائے جانے کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کریں۔

یاد رہے کہ آٹھ جنوری کو تہران ایئر پورٹ سے پرواز بھرنے کے آٹھ ہی منٹ بعد یوکرینی طیارہ، جس کی منزل یوکرین کا دارالحکومت کیئو تھی’ زمین پر آن گِرا تھا۔ اس حادثے میں طیارے پر سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ابتدا میں ایران نے طیارہ گرائے جانے میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا تاہم 11 جنوری کو ایران نے اعتراف کرتے ہوئے اسے ‘انسانی غلطی’ قرار دیا تھا۔

Grey line

’بظاہر خامنہ ای ایرانی فوج کا دفاع کرنا چاہتے ہیں‘

بی بی سی فارسی کے کسرا ناجی کا تجزیہ

آخری مرتبہ جب ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے تہران میں جمعے کی نماز پڑھائی تھی تو عرب سپرنگ اپنے عروج پر تھا۔

اس موقعے پر انھوں نے عربی میں خطبہ دیا یعنی ایک ایسا خطبہ جسے عرب دنیا بھی بھی سمجھا جا سکے۔ وہ عرب دنیا کی اس وقت کی صورتحال کو اسلامی دنیا میں شعور کی آمد کے طور پر بیان کرنا چاہتے تھے۔ ان کا تجزیہ غلط تھا۔

اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا دفاع کرنا چاہتے ہیں جن پر یوکرینی طیارے کو گرائے جانے اور پھر کئی روز تک اس کا انکار کرنے کے حوالے سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے وہ طلبہ اور مظاہرین پر مزید کریک ڈاؤن کا حکم نہ دے دیں۔

حکام نے جمعے کے روز پاسدارانِ انقلاب کی حمایت میں ریاستی طور پر ملک گیر مارچوں کی کال دے رکھی ہے۔ تہران میں اس سلسلے میں تیاریاں جاری ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ حامیوں کو سڑکوں پر لا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

Grey line

منگل کو سرکاری ترجمان غلام حسین اسماعیل نے بتایا کہ ان افراد کو یوکرینی طیارے کو گرانے کے حوالے سے تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

اس طیارے کے گرنے کی اطلاعات سے کچھ دیر قبل ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے جوابی کارروائی کے طور پر عراق میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغنے شروع کیے تھے۔

ایرانی حکام نے جب سے یوکرینی ایئرلائن کے طیارہ کو ‘نادانستہ طور پر’ مار گرانے کا اعتراف کیا ہے، تب سے ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔

ان مظاہروں میں چند مظاہرین ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف نعرے لگاتے بھی دکھائی دیے۔

فی الحال یہ مظاہرے تہران اور اصفہان کی سڑکوں تک ہی محدود ہیں اور ان میں یونیورسٹی کے طلبا کی بڑی تعداد شامل ہے اور ساتھ ہی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد بھی جنھیں طیارے کے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر غصہ ہے۔

اس طیارے میں 100 سے زائد ایرانی شہری بھی موجود تھے اور ایرانی حکومت لگاتار تین روز تک اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتی رہی۔ ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کے سوشل میڈیا پر مناظر کی وجہ سے ملک میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ مظاہرین حکام کی جانب سے آغاز میں سچ نہ بتانے کی مذمت کر رہے ہیں لیکن ان مظاہروں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای مخالف نعرے بھی سننے میں آئے ہیں۔

بی بی سی اردو

ایران کے میزائل حملے میں ہمارے 11 فوجی زخمی ہوئے، امریکی سینٹرل کمانڈ

Posted by 24 News HD on Thursday, January 16, 2020