امریکی فوجی 13 جنوری کو عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں واقع عین الاسد ائیربیس پر ایرانی میزائل حملے کی جگہ پر کھڑے ہیں۔

عراق میں امریکا کے ایک فوجی اڈے پر گذشتہ ماہ ایران کے میزائل حملے میں دماغی طور پر متاثر ہونے والے فوجیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور امریکی فوج متاثرہ فوجیوں کی تعداد میں پچاس فی صد اضافے سے متعلق ایک رپورٹ کی تیاری کررہی ہے۔

ایک امریکی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ایرانی حملے سے دماغی طور پر متاثر ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد اب ایک سو سے بڑھ گئی ہے۔گذشتہ ماہ ایران کے میزائل حملے سے متاثرہونے والے فوجیوں کی تعداد 64 بتائی گئی تھی۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے آٹھ جنوری کو عراق میں امریکی فوج کے زیر استعمال دو اڈوں پر میزائل داغے تھے۔ میجر جنرل قاسم سلیمانی تین جنوری کو علی الصباح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملے کے فوری بعد کہا تھا کہ اس میں امریکی یا عراقی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ایران کے میزائل حملے کے وقت الانبار میں واقع عین الاسد ائیربیس پر ڈیڑھ ہزار سے زیادہ امریکی فوجی موجود تھے۔ وہ ایرانی میزائل حملے کی پیشگی اطلاع ملنے کے بعد بنکروں میں چھپ گئے تھے۔

اس میزائل حملے کے بعد سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی فضائیہ کے کمانڈر ائیرفورس جنرل امیر علی حاجی زادہ نے ایک عجیب دعویٰ کیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ ان کا مقصد امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنا نہیں بلکہ امریکا کی ’’فوجی مشین‘‘ کو نقصان پہنچانا تھا۔

انھوں نے حملے کے ایک روز بعد کہا تھا کہ:’’ہم اس آپریشن میں کسی کو ہلاک نہیں کرنا چاہتے تھے،اگرچہ اس میں دسیوں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’اگر ہم کسی کو ہلاک کرنا چاہتے تو پھر ہم اس آپریشن کو ایک اور انداز میں ڈیزائن کرتے جس سے پہلے ہی ہلے میں پانچ سو(امریکی) ہلاک ہوجاتے۔اگر وہ اس کا جواب دیتے تو دوسرے مرحلے میں 48 گھنٹے کے اندر مزید چار سے پانچ ہزار(امریکی) ہلاک ہوجاتے۔‘‘

پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’’القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا مناسب ردعمل یہ ہوسکتا ہے کہ خطے سے امریکی فوجیوں کو نکال باہر کیا جائے۔‘‘