فائل فوٹو

پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار آخرکار وزیراعظم عمران خان کابھی اعتمادکھوچکے ہیں لیکن اس اعلیٰ عہدے کیلئے اپنی پارٹی میں اندرونی لڑائی کے خطرے کے باعث وہ انہیں تبدیل کرنے کاجلد بازی میں فیصلہ نہیں کریں گے۔

لہٰذا جب وزیراعظم نے نیا چیف سیکریٹری لانے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے ٹرانسفر اور پوسٹنگ، ترقیاتی کام تیزکرنے اور میڈیا امیج بہترکرنے کیلئےاس کی تشہیر کرنے کے حوالے سے انہیں کچھ فیصلے لینےکیلئے بااختیار بھی بنایا۔

اس کے علاوہ انہیں اسلام آباد سے منظوری لیے بغیر کوئی بھی سمری وزیراعلیٰ کو براہِ راست نہ بھیجنےکی کچھ مخصوص ہدایات بھی دی گئیں۔ اگریہ رپورٹس درست ہیں کہ چیف سیکریٹری کو قابوکرنےکیلئے پی ٹی آئی کے 20 ایم پی ایز کے فارورڈ بلاک کے پیچھے بزدارخود ہیں تویہ ان کےحق میں نہیں ہو گا اور وزیراعظم خود بھی اسے پسند نہیں کریں گے۔

 ایک ماہ قبل ان کےلاہور دورےکے دوران وزیراعظم نے ان کی تعریف کی تھی لیکن میڈیا میں ان کے خراب امیج پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ کے ترجمان تین بار تبدیل کرنے کے باوجود وزیراعظم کو مثبت نتائج نا مل سکے۔ بزدار کو سپورٹ کرنے کی خاطر وزیراعظم ایک کے بعد ایک آئی جی پولیس لائے اور چیف سیکریٹریز کو بھی تبدیل کیا، بیوروکریسی میں بھی کئی بار تبدیلیاں کیں لیکن راجنپور کے شخص کیلئے ان کی سپورٹ بے کار ہی گئی۔

 حتٰی کہ پی ٹی آئی کا مضبوط سوشل میڈیا گروپ بھی بزدار کو اٹھا نا سکا کیونکہ ان میں سے بہت سوں کا خیال تھا کہ مسئلہ خود وزیراعلیٰ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے خود بھی اپنے ترجمان کو تین یاچار بار تبدیل کیا۔ موجودہ وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو صمصام بخاری، میاں اسلم اور حتیٰ کہ شہباز گل کےبعددوسری بارلایاگیاہے۔ 

درحقیقت ان میں سے کوئی بھی ذمہ دار نہیں تھا کیونکہ انہیں’جعلی امیج‘ اور ’جعلی کارکردگی‘ ظاہر کرنے میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ بزدار کو مضبوط اپوزیشن یعنی پاکستان مسلم لیگ(ن) کی جانب سے اور نہ ہی کسی اہم اتحادی یعنی پاکستان مسلم لیگ(ق)کی طرف سےکسی بڑےچیلنچ کاسامنا نہیں تھا سوائے اس کے کہ گجرات کے چوہدری کمزور وزیراعلیٰ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔

حقیقی چیلنج جس کا بزدار کو سامنا کرنا پرا اور اس کا مقابلہ نہ کرسکے یہ تھاکہ وہ 25جولائی 2018کے اتنخابات سے قبل پی ٹی آئی میں ایک اجنبی تھےاور اعلیٰ عہدے کیلئے دوڑ میں شامل نہیں تھے وہ عمران خان کا پہلا انتخاب بھی نہیں تھے۔ عمران کو اس وقت پہلا دھچکہ لگا اور پنجاب کے سیاسی اور ترقیاتی منصوبے ختم ہوگئے جب سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر اور ان کی پارٹی کے سینئر نائب صدر جہانگیر ترین کو نااہل قراردیا۔

اگرچہ ان کےاور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل شاہ محمود قریشی کے درمیان ہمیشہ ہی لڑائی رہی ہے لیکن پارٹی چیئرمین نے ہمیشہ شاہ محمود کے مقابلے میں جہانگیر ترین پر زیادہ اعتماد کیا ہے۔ ان دونوں گروپوں میں لڑائی نے ایک نیا موڑ لیا جب شاہ محمود قریشی نےاعلیٰ عہدہ لینے کیلئے پنجاب میں اسمبلی کی سیٹ کیلئے بھی الیکشن لڑا لیکن وہ ہار گئے اور این اے کی سیٹ جیت گئے۔ 

اس سے شاہ محمود کے کیمپ میں کئی سوال اٹھے اور انہوں نے شکست کیلئے جہانگیر تیرین کو الزام دیا۔ اس دوڑ میں شامل دیگر لوگوں میں علیم خان بھی شامل تھے جو 2018 کے انتخابات تک لاہور سے مضبوط امیدوار تھے اور نیب انکوائری سے قبل ان کی گرفتاری کےبعد تک انہیں وزیراعظم کا اعتماد بھی حاصل تھا۔

جیو نیوز