لامہ بریانی عرف برڈ فلو اور قہر خداوندی چشم گل چشم عرف سوائن فلو ویسے تو ایک دوسرے کے سائے کو بھی پتھر مارتے ہیں، نقش پا پر بھی تھوکتے ہیں اور نام سننا بھی گوارا نہیں کرتے لیکن پاکستان کے لیڈروں کی طرح جو ہزارہا اختلافات کے باوجود ’’کرسی‘‘ کے لیے ایک جیسے ’’تحفظات‘‘ رکھتے ہیں، اسی طرح یہ دونوں بھی کم از کم ایک چیز پر متفق نظر آتے ہیں اور وہ چیز عورت ہے۔ کیونکہ دونوں ہی اس معاملے میں ’’وحدت‘‘ کے بجائے ’’کثرت‘‘ کے علمبردار ہیں۔

دونوں کے خیالات اس مقام پر پہنچ کر تقریباً ویسے ہی ہو جاتے ہیں جیسے غالب آموں کے بارے میں رکھتے تھے کہ میٹھے ہوں اور بہت ہوں۔

لیکن اس اتفاق کے باوجود بھی ’’نفاق‘‘ کا مظاہرہ کرنا نہیں بھولتے۔ مثلاً اگر ’’علامہ‘‘ کہے کہ ’’خوبصورت ہوں اور بہت ہوں‘‘ تو قہر خداوندی اپنی دانست میں شدید مخالفت کرتے ہوئے کہے گا کہ نہیں۔ بہت ہوں اور خوبصورت ہوں۔ بظاہر خوبصورت ہوں اور بہت ہوں ۔۔۔اور ۔۔۔بہت ہوں اور خوبصورت ہوں میں فرق نظر نہیں آتا۔ لیکن بہت بڑا فرق ہے۔ ایک فقرے میں زور ’’خوبصورت‘‘ پر ہے اور دوسرے میں ’’بہت‘‘ پر، تقدیم و تاخیر میں ہی اصل معانی ہوتے ہیں۔

کبھی کبھی دونوں ’’خوبصورت‘‘ کے مقابل ’’جوان‘‘ کا لفظ بھی استعمال کر لیتے ہیں لیکن ’’بہت‘‘ میں دونوں کے درمیان اختلاف بالکل نہیں ہے۔اور اس کا اپنا ایک مخصوص پس منظر ہے، بلکہ دونوں کی ’’نفسیاتی گرہ‘‘ ایک ہی ہے۔ علامہ کی علامنی میں اب وہ دم خم نہیں رہا ہے جو کبھی تھا زلف ایاز میں۔ اور قہر خداوندی کی ’’نعمت عظمیٰ‘‘ بھی اولاد کے ڈبل ڈبل پھیرے لگا کر ڈھانچہ بن چکی ہے۔

لیکن ان کی ’’محرومی قسمت‘‘ یہ ہے کہ علامنی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی اس لیے والدین اسے نہ صرف ٹی وی ڈراموں کی طرح بیٹا بیٹا کہتے تھے بلکہ اس کے گلے سے پٹا اور دوپٹہ نکال کراسے لڑکوں کی صحبت میں بھی کھلاچھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے اس کا مزاج جارحانہ، تشدد پسندانہ اور دست درازانہ بن گیا تھا، رائج الوقت ہر قسم کی گالیاں بھی اس کا تکیہ کلام ہوتی تھیں اور ہاتھ پیروں کو بھی بے تحاشہ استعمال کر کے علامہ کے مقالات اور مکالمات کے مقابل ’’مکا لات‘‘ کی صورت دیتی تھی۔

چنانچہ علامہ شدید خواہش کے باوجود اور بے سہارا خواتین کی سرپرستی کے لیے چار تک کی رعایت کو استعمال نہیں کر پائے اور اب وہ ازکار رفتہ ہو چکی ہیں۔ لیکن علامہ مرغن چرغن اطعام اور آرام ہی آرام کی وجہ سے ظاہری طور پر بڈھے ہیں لیکن جی چاہنے کے باوجود نکاح ثانی اور سوئم، چہارم کی رعایت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کہ اب اس کے بیٹے جوان ہو چکے اور ہاتھوں پیروں کے استعمال میں اپنی ماں پر گئے ہیں۔

قہر خداوندی کی بیوی تو ایسی نہیں ہے، اللہ میاں کی گائے ہے جسے گونگی بہری ہونے پر علامہ نے نعمت عظمیٰ قرار دیا ہوا ہے۔ لیکن یہ گلاب کا پھول اپنے ارد گرد چار عدد خونخوار بھائی کانٹوں کی طرح رکھے ہوئے ہے اور جسے قہر خداوندی سالوں کے بجائے سالار کہتا ہے اور وہ اپنے اپنے پیشے کے سالار بھی ہیں اور سپاہ بھی۔چنانچہ اب یہ دونوں عمر اور جذبات کے ایسے مقام پر ہیں جہاں پریکٹیکل تو ممکن نہیں لیکن تھیوریکل کے لیے فارغ ہی فارغ ہیں۔ جب بھی کوئی خاتون برقعے میں ملبوس گزرتی ہے اور جب تک وہ نظر آتی رہتی ہے یہ دونوں نہ صرف اسے شناخت کر چکے ہوتے ہیں کہ فلاں کی بیوی یا بہن یا ماں ہے۔

ایک دن آخر پوچھ ہی لیا کہ ہم تو اگر اپنی بیوی بھی برقعے میں دیکھ لیں گے تو پہچان نہیں پائیں گے لیکن تم لوگ یہ سب کچھ کیسے جان لیتے ہو۔ علامہ نے تو کچھ نہیں کہا لیکن قہرخداوندی نے جواب دے دیا، بولا، یہ تجربے کی بات ہے بہت ریاضت اور اساتذہ کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرنا پڑتا ہے۔لیکن وہ سراسر جھوٹ بول رہا تھا کیونکہ اس کے بعد جب ہم ریڈیو اور ٹی وی آنے جانے لگے اور وہاں کے ادھیڑ عمر پروڈیوسروں اور افسروں کو نوجوان اداکاراؤں، فنکاراؤں اور گلوکاراؤں پر رسوائی کی حد تک ریشہ خطمی ہوتے ہوئے دیکھا تو سوچ بچار کے بعد معمہ سمجھ آگیا کہ یہاں بھی وہی برڈ فلو اور قہر خداوندی والا معاملہ تھا۔

ادھیڑ عمری میں جب اپنی بیویاں ازکار رفتہ ہو جاتی ہیں تو ’’دو‘‘ باتیں ایک ساتھ ہو جاتی ہیں، ایک تو بیوی بیچاری کا بھی دم خم نکل جاتا ہے جو تھوڑا بہت باقی ہوتا ہے وہ اولاد اور ان کی شادیوں کی فکر میں جھونک دیتی ہے اس لیے دیر سے کیوں آئے؟ کہاں جاتے ہو؟ کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو؟ یہ کیوں کیا وہ کیوں نہیں کیا؟ اس قسم کے سوالات کرنا چھوڑ دیتی ہے بلکہ بڈھے کے گھر میں ’’ہونے‘‘ سے زیادہ نہ ہونا پسند کرتی ہے۔ تب مرد کو ’’برا برا‘‘ سوجھنے لگتا ہے اور پھر اپنے گھر میں بیوی کا پرانا جھری دار اور ناقابل دید چہرہ دیکھ دیکھ کر اتنا اوب ہو چکا ہوتا ہے کہ ہر نیا اور جوان چہرہ دیکھ کر اس کی رال ٹپکنا شروع ہو جاتی ہے ۔ بلکہ ہم نے تو ایسے ٹی وی، ریڈیو والوں کو بھی دیکھا ہے جو نہایت کریہہ المنظر نوجوان لڑکیوں پر ریشہ خطمی ہو جاتے ہیں بلکہ ایک خاص ڈائریکٹر صاحب کو جب ایک ایسی لڑکی پر پھسلتے دیکھا تو کھوج کی تو نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لڑکی کے حسن پر نہیں اس کی میٹھی آواز پر نچھاور تھا کیونکہ اس کی بیوی کی آواز انتہائی کرخت اور ڈرا دینے والی ہوگئی تھی۔