طیب اردگان کو چیلنج کرنے کیلئے ارکان اسمبلی نے پارٹی بدل لی

18

استنبول: ترک صدر کے قبل از وقت انتخابات کے اعلان کے نتیجے میں ان کی حریف امیدوار کا ساتھ دینے کے لیے اپوزیشن جماعت کے ایک درجن سے زائد ارکان نے پارٹی تبدیل کرلی۔

واضح رہے انتخابات کے اس اعلان کا فائدہ طیب اردگان کی صدارت کو پہنچ سکتا تھا۔

سیکولر نظریات کی حامل ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے 15 ارکان اسمبلی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ‘آئی پارٹی’ میں شمولیت اختیار کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ جمہوریت کے مفاد میں کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے صدارتی انتخابات کے 24 جون کو انعقاد کے قبل از وقت اعلان کے بعد سے ترکی میں یہ موضوع زیر بحث ہے، اس اعلان کے بعد امیدواروں کے چناؤ اور انتخابات کی تیاری کے حوالے سے اپوزیشن مشکلات کا شکار ہے۔

اس سے قبل یہ انتخابات نومبر 2019 میں منعقد ہونا تھے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ادارے ‘اناطولو نیوز’ کے مطابق ترکی کے الیکٹورل بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ دیگر 10 جماعتوں کے ساتھ ‘آئی پارٹی‘ بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہے، اس فیصلے سے سیاسی تناؤ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے اس سے قبل آئی پارٹی کو پارلیمنٹ میں کم نشستوں کے باعث اہلیت کا مسئلہ درپیش تھا، جو اب سی ایچ پی کے ارکان کی شمولیت کے بعد 20 سیٹوں کی تعداد حاصل ہونے کی وجہ سے حل ہوجائے گا۔

آئی پارٹی کی بانی میرل ایکسینر، جو سابقہ وزیر داخلہ بھی رہ چکی ہیں، طیب اردگان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے ایک مضبوط حریف سمجھی جارہی ہیں۔

اس سے قبل وہ اردگان اور ان کی حلیف جماعتوں سے شکست کھا چکی ہیں، لیکن اب 20 ارکان کی جانب سے نامزد کیے جانے پر صدارتی انتخاب لڑنے کی اہل ہیں، جبکہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے والے افراد کو عوام سے ایک لاکھ دستخط حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یاد رہے ایک سال قبل، طیب اردگان نے صدارتی ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم کے اختیارات ختم کر کے ترکی کے نظام حکومت کو صدارتی کر دیا تھا اور تمام تر اختیارات صدر کو منتقل کر دیئے تھے، اس کے اثرات اگلے انتخابات میں محسوس کیے جائیں گے۔

یونانی صدر کا ترکی کے ساتھ فوجیوں کے تبادلے سے انکار
یونان کے صدر پروکوپس پاولوپولس نے ترکی کی 2 یونانی قیدی فوجیوں کے ترک فوجیوں کے ساتھ تبادلے کی پیشکش مسترد کردی، جو 2016 کی ناکام بغاوت میں ملوث تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2 یونانی فوجیوں کا یونان میں رہائش پذیر 8 ترک فوجیوں کے ساتھ تبادلے کا مطالبہ ناقابل فہم ہے۔

واضح رہے کہ یونانی فوجیوں کو 2 مارچ کو ترکی کی سرحد عبور کرنے بعد جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جو ان کے مطابق دھند کے سبب راستہ بھٹک گئے تھے۔

2016 میں ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد 8 ترک فوجیوں نے ملک سے فرار ہو کر یونان میں پناہ لے لی تھی۔

ایک نجی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں ترک صدر طیب اردگان کا کہنا تھا کہ یونان کی جانب سے فوجیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس پر ہم نے ان سے بغاوت میں ملوث ایف ای ٹی او سے تعلق رکھنے والے 8 ترک فوجیوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا، اگر وہ مان جاتے ہیں تو ہم یونانی فوجیوں کی رہائی پر غور کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ‘ایف ای ٹی او’ کی اصطلاح ترک حکومت کی جانب سے مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کی تنظیم کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جن پر بغاوت کی سازش رچنے کا الزام لگایا گیا تھا، تاہم فتح اللہ گولن نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔