افغانستان میں برطانیہ سے لے کر روس و امریکہ تک ،اپنے وقت کی سبھی بڑی طاقتوں کی جارحانہ فوجی مداخلت اور غاصبانہ قبضے کی کوششوں کاسب سے بڑا سبب اس کےبے مثل و لا محدود قدرتی وسائل کے وہ ذخائر ہیں جو اُس کے پہاڑوں اور اس کی سنگلاخ زمینوں کے نیچے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کسی خاص مقصد و حکمت کے تحت اور کسی خاص وقت کے لیے ، وہاں بافراط محفوظ کر رکھے ہیں۔

وکی پیڈیا پر موجود تفصیل کے مطاق سونا ،تانبا ،لیتھیم ،یورینیم ،زِنک ،آئرن اُور (لوہا،الحدید )،بارائٹ Bariteکوبالٹ ، کرومائٹ ، کوئلہ ،قدرتی گیس اور ہائڈروکاربن یعنی پٹرول اور ڈیزل وغیرہ تمام پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ ہیرا،پنًا، زمرد اور عقیق وغیرہ قیمتی پتھروں کی سبھی اقسام کے، جیسے اور جتنےوسیع ،قدیم اور متنوع ذخائرزیر زمین افغانستان میں ہیں وہ دنیا میں اور کہیں نہیں ہیں اور فی الواقع اپنی نظیر خود آپ ہیں ۔

ایک پاکستانی نیو کلئیر سائنٹسٹ نے آج سے قریب چالیس برس قبل ۔۸۰۔۱۹۷۹ میں افغانستان میں، روسی جارحیت کےکچھ ماہ بعد شایع اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ گمان غالب یہی ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ بیش قیمت ذخائر امام مہدی ؑکے لیے محفوظ رکھے ہیں کہ جب وہ بحکم الٰہی تشریف لائیں گے ،تو’’ پوری دنیا کو عدل و انصاف سے اُسی طرح بھر دینے کے لیے، جس طرح وہ اُس وقت ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی‘‘،اِن قدرتی وسائل کا استعمال کریں گے !

افغانستان کی پچھلے سو برسوں کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ وقت کے فرعونوں قارونوں اور نمرودوں نے کوشش تو بہت کی ،بے گناہ انسانوں کا بے دریغ خون بہا کے اپنے نامئہ اعمال بھی خوب سیاہ کیے، لیکن، با لآخر، شکست ہی اُن کا مقدر بنی !

پہلے برطانیہ ،پھر سوویت یونین ، جو افغان جارحیت میں ناکامی کے نتیجے میں ٹوٹ پھوٹ کے محض روس رہ گیا ! اوراب ، یورپ کے ’ناٹو‘ ممالک کے’فرار ‘کے بعد خود امریکہ، ۱۷ برسوں میں کئی لاکھ افغانوں کا خون بہانے کے باوجود ذلت اور شرمناک ناکامی کے ساتھ اپنے ’ فرار‘ کو باعزت بنانے کے لیے اُنہی افغان طالبان کے ساتھ اکتوبر ۲۰۱۸ سے ’ مذاکرات ‘میں مصروف ہے جنہیں اس نے ’دہشت گرد ‘ قرار دے کر ان کی استیصال کی کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے ۔آج صورت حال یہ ہے کہ خود امریکیوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ اس تھوپی ہوئی جنگ میں ہار گیا ہے۔

ہمارا مسئلہ بھی یہ ہے کہ ہم مسلمان قرآن پر صد فی صد عمل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے دائمی دشمنوں(المائدہ ۔۸۴) کی سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہ ہمیں جس طرح چاہتے ہیں استعمال کر لیتے ہیں ۔پہلے صہیونی سامراج نے ہمیں سوویت یونین کے اشتراکی فاشزم کے خلاف بنام جہاد استعمال کیا اور افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کرنے والوں کو ہمیشہ ’مجاہدین ‘ کے لقب سے یاد کیا لیکن روس کی شکست کے بعد جب امریکی انتظامیہ سے وابستہ و پیوستہ لیڈروں نے امریکی اور ناٹو فوجوں کی مدد سے روس کی خالی کی ہوئی جگہ پرقبضہ کر لیا اور طالبان نےروس کی طرح ان غیر ملکی طاقتوں کے انخلا کی مہم شروع کر دی تو صہیونی سامراج نے راتوں رات کل کے ’مجاہدین ‘ کو ’دہشت گرد ‘ قرار دے کران ہی کے خلاف جنگ شروع کردی !

زیر زمین قدرتی وسائل کے خزانوں کے علاوہ افغانستان میں افیم کی کاشت بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور سامراجی طاقتوں نے وہاں ’سَتٍِ افیم (کوکین )‘بنانے کے کارخانے لگا رکھے ہیں جس کی اسمگلنگ سے وہ کروڑوں ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔طالبان کے نمودار ہونے اور سیاست میں سرگرم ہونے سے قبل افغانستان کا ایک اور بڑا مسئلہ قبائل کی باہمی خانہ جنگی اور راستوں کا محفوظ نہ ہونا تھا ۔مال تجارت اور غیر مسلح یا کم مسلح قافلوں کا آئے دن لوٹ لیا جا نا یا لُٹ جاناافغانستان کا ’معمول ‘ تھا ۔طالبان کا ’’سب سے بڑا کارنامہ ‘‘اور صہیونی قارونی سامراج کے نزدیک اُن کا سب سے بڑا ’’ناقابل معافی قصور‘‘ یہی ہے کہ اُنہوں نے نہ صرف افیم کی غیر قانونی کاشت ، کوکین سازی کے کارخانے اور اُس کی اسمگلنگ بند کروادی بلکہ قبائلی جنگجوؤں اور قبائلی خانہ جنگیوں پر قابو پا کے افغانستان کے راستوں کو ’محفوظ ‘بنا دیا!بس یہی ان کے دائمی دشمنوں کو ہضم نہیں ہو سکا اور اپنے ہم نوا قبائلی جنگجوؤں کی مدد سے کابل کے مرکزی اقتدار سے طالبان کو بے دخل کر دیا گیا ۔لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ستر پچہتر فی صد افغانستان کل بھی طالبان کے قبضے میں تھا اور آج بھی ہے !

اہل ایمان کے دائمی دشمنوں کے لے پالک حامد کرزئی سے لے کر موجودہ صدر اشرف غنی تک کی افغان حکومت کابل سمیت افغانستان کے بمشکل بیس پچیس فی صد علاقے تک محدود ہے !

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ امریکہ ۔طالبان مذاکرات میں اشرف غنی کی نام نہاد حکومت افغانستان اور طالبان مخالف حکومت ہند کا کوئی نمائندہ،ہزار کوششوں کے باوجود ابھی تک شریک نہیں ہو سکا ہے ۔اور ہمیں یقین ہے کہ اشرف غنی جیسے لیڈروں کے دن اب بہت تھوڑے ہیں ۔

افغانستان ، کوکین کی لعنت اور خانہ جنگیوں کی وحشت و عصبیت سے پاک ہو کے رہے گا۔ہزارہ ،تاجک قبائل اور طالبان سب کو گزشتہ چالیس برسوں کے خونیں تجربات نے بہت کچھ سکھا دیا ہے ۔چھے ماہ سے جاری مذاکرات میں جو چیز نمایاں ہے وہ یہی کہ کابل و قندھار سمیت پورے افغانستان میں ایک ایسی مرکزی حکومت کی تشکیل اب زیادہ دور نہیں جس میں صرف پشتون (یا پختون قبیلے ) ہی نہیں سبھی سنی، شیعہ ،تاجک اور ہزارہ قبائل کی مناسب اور باعزت نمائندگی ہوگی ،ان شاءاللہ !

رہا یہ سوال کہ برصغیر پر اس کیا اثرات ہوں گے ْ تو ایک بات یقینی ہے کہ یہ اثرات مثبت اور پائدار ہوں گے ۔کچھ باتیں ایسی ہیں جو بہر حال ہمارے ذہنوں میں صاف اور واضح طور پر، کم از کم اب کہ جب ہم اکیسویں صدی کے تیسرے دہے میں قدم رکھنے کے قریب ہیں ، ہمہ دم روشن رہنی چاہیئں ۔

ایک تو یہ کہ جسے ’برصغیر ‘کہا جاتا ہے وہ فی الواقع’ برًِ عظیم‘ ہے ۔میانمار اور بنگلہ دیش سے بھارت پاکستان اور افغانستان و ایران تک سبھی علاقے جو چھے آزاد اور خود مختار ملکوں میں تقسیم ہیں وہ سب زمینی راستے سے جڑے ہوئے ہیں۔کوہِ اَراکان(برما) سے کوہ ِہند و کُش (افغانستان ) تک پورا سلسلہ پہاڑوں سے تو مربوط ہے ہی اب،پچھلے چالیس برسوں کے دوران چین کی مدد سے ، بالائے کوہ ،ہمالیائی سڑک راستے سے بھی جڑ چکا ہے۔ یعنی آپ اَراکان سے چلیں تو میدانی علاقوں میں اُترے بغیر آپ ،ہمالیہ ، کوہ قراقرم اور ہند وکش کی بلندیوں کو پار کرتے ہوئے’ کوہِ نہاوَند ‘ (ایران ) تک پہنچ سکتے ہیں !

اور اس پورے مذکورہ خطے میں، بحیثیت مجموعی ، آبادی کس کی سب سے زیادہ ہے ؟ صہیونی ، یرقانی اور قارونی سامراج ،ممکنہ ’تیسری جنگ عظیم ‘، اسی خطے میں چاہتا ہے،جس کے لیے اُن کی سازشیں اور تیاریاں ،خفیہ اور علانیہ ،مسلسل جاری ہیں۔ یاجوج ماجوج اور دجال کے فتنے اور ان کی سرکوبی کے لیے حضرات عیسی و مہدی علیہم السلام کی آمد اِن ہی علاقوں سے مخصوص ہے ،جس کے بعد، پوری دنیا کو عدل و قسط سے اُسی طرح بھر جانا ہے جس طرح وہ اس وقت ظلم اور جور سے بھری ہوئی ہو گی! فھل من مدکر ؟

جسارت