برطانوی اخبار دی گارجین نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج افغان طالبان کے بانی اور سابق امیر ملاعمر کو ان کے بیس کے قریب کئی برس تک رہائش رکھنے کے باوجود تلاش کرنے میں ناکام رہی جبکہ وہ اپریل 2013 میں زابل میں انتقال کر گئے تھے۔

گارجین نے اپنی رپورٹ میں افغانستان سے رپورٹنگ کرنے والے ڈچ صحافی اور مصنف بیٹ ڈیم کی کتاب ‘سرچنگ فار اینمی’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملاعمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی گئی تھی اور وہ افغانستان میں امریکی بیس سے چند فرلانگ دور رہتے تھے۔

صحافی نے اس سوانح میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ایک مرتبہ ان کے گھر میں کارروائی کی تھی لیکن وہ ملا عمر کے لیے تعمیر کیے گئے خفیہ کمرے کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

برطانوی اخبار نے نئی کتاب میں ہونے والے انکشافات کو امریکی خفیہ ایجنسیوں کی شرم ناک ناکامی قرار دیا ہے کیونکہ امریکا میں نائن الیون کے بعد ملاعمر کے سرکی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے ملاعمر کو بھی القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی طرح پاکستان میں موجود ہونے کا خیال ظاہر کیا جاتا رہا تھا حالانکہ وہ ان کے مرکز کے قریب موجود رہتے تھے۔

کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کتاب میں 2001 کے بعد ملاعمر کے طالبان پرعملی کنٹرول کو بھی واضح کیا گیا ہے جبکہ طالبان 2013 میں ان کی وفات کے بعد دو سال تک بھی انہیں امیر تسلیم کرتے رہے اور تاحیات انہیں اپنا سربراہ تسلیم کررکھا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ملاعمر بی بی سی پشتو کی نشریات باقاعدگی سے سنتے تھے لیکن کسی خبر یا رپورٹ پر اپنا ردعمل بہت کم دیتے اور یہاں تک اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی خبر پر کوئی ردعمل نہیں آیا۔

واضح رہے کہ ڈچ صحافی بیٹ ڈیم نے ‘سرچنگ فار اینمی’ کے نام سے ڈچ زبان میں سوانح تحریر کی ہے جو گزشتہ ماہ شائع ہوئی تھی اور اس کے چند اقتباسات کا زومیا تھنک ٹینک نے انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا تھا جو صرف دو اخباروں کو دیے گئے تھے۔

بیٹ ڈیم 2006 سے افغانستان سے رپورٹنگ کررہے ہیں اور اس کتاب پر گزشتہ 5 برس سے زائد عرصے سے کام کررہے تھے۔ وہ اس سے قبل افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔

کتاب میں شائع مواد کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ طالبان دور کے اہم رہنما جبار عمری سے ایک ملاقات ہوئی جو ملاعمر کی سچی کہانی سنانے کا مصدقہ ذریعہ تھے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ افغانستان میں کشیدگی کے ابتدائی چار برس میں ملا عمر خطے کے دارالحکومت قالات میں رہتے تھے اور یہ رہائش امریکی بیس ایف او بی لغمان اور افغان حکومت کے صوبائی گورنر کے کمپاؤنڈ سے چند قدم کے فاصلے پر تھی۔

رپورٹ کے مطابق ان کی رہائش جبار عمری کے سابق ڈرائیور عبدالصمد استاذ کے گھر میں تھی جو ایک چھوٹا سا کمپاؤنڈ تھا تاہم افغانستان کی روایت کے مطابق اونچی دیواریں تھیں جس کے کونے پر ایک خفیہ کمرہ بنایا گیا تھا اور اس کے دروازے کو چھپانے کے لیے دیوار میں ایک بڑی الماری کی شکل دی گئی تھی۔

ڈچ صحافی نے لکھا ہے کہ گھر کے مکینوں کو بھی مہمان کی شناخت کے حوالےسے کچھ نہیں بتایا گیا تھا تاہم اتنا معلوم تھا کہ طالبان کے اعلیٰ سطح کے رہنما ہیں جبکہ معلومات کو ظاہر کرنے پر ان کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

امریکی فوجیوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز دو مرتبہ ملاعمر کے اتنے قریب آگئی تھیں کہ وہ ٹھوکر بھی مارسکتے تھے جن میں سے پہلی دفعہ ملاعمر اور جبار عمری برآمدے میں تھے لیکن فوجی اندر داخل ہوئے بغیر چلے گئے۔

ڈچ صحافی کے مطابق امریکی فورسز نے دوسری مرتبہ ان کے گھر کی تلاشی لی لیکن وہ خفیہ کمرے کو تلاش کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد انہوں نے اپنا ٹھکانہ بدل لیا اور قالات کے قریبی ضلع شینکہ منتقل ہوئے۔

بیٹ ڈیم کا دعویٰ ہے کہ جبار عمری نے اپنے امیر کے لیے ایک چھوٹے دریا کے قریب خفیہ رہائش گاہ تعمیر کی تھی جو مضافات میں تھی اور وہاں سے فرار ہونا بھی آسان تھا جبکہ ان کے یہاں منتقل ہونے کے فوری بعد امریکی فوجیوں نے چند میل کے فاصلے پر دوسرا بیس تعمیر کرنا شروع کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جب جنگ عروج پر تھی تو امریکی ایف او بی ولویرین اور نیٹو ممالک سمیت ایک ہزار فوجی قریبی بیس میں تھے اور ملا عمر کو بھی پکڑے جانے کا خدشہ تھا لیکن وہ دوبارہ وہاں سے واپس نہیں گئے۔

ملاعمر یہاں رہائش کے دوران بہت کم باہر نکلتے تھے تاہم دھوپ کے لیے کبھی باہر آتے تھے اور زیادہ وقت چھپے رہتے تھے کیونکہ امریکی طیارے فضا میں گردش کرتے رہتے تھے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملاعمر کو دوحہ میں طالبان کے دفتر کھولنے اور اپنی سرپرستی کے لیے بھی کہا گیا تھا جس کے ذریعے امریکا سے مذاکرات کا راستہ کھولنا تھا۔

جبارعمری نے ڈچ صحافی کو بتایا کہ ‘یہ ہمارے لیے بہت خطرناک تھا کیونکہ بعض اوقات ہم اور غیرملکی فوج کے درمیان ایک ٹیبل جتنی چوڑائی کا فاصلہ ہوتا تھا’۔

انہوں نے کہا کہ ملاعمر کے حوالے سے صرف دو بھائی آگاہ تھے لیکن گاؤں کے دیگر افراد کو اتنا معلوم تھا کہ یہاں طالبان کے ایک سینئر رہنما رہائش پذیر ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جب افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ افراد کی جانب سے حکومت میں کرپشن اور شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس آئیں تو ملاعمر کو گاؤں والوں کی طرف سے تحائف بھی آنے لگے جس میں کھانا اور کپڑے شامل ہوتے تھے۔

ڈچ صحافی کے مطابق ملاعمر کے پاس نوکیا کا ایک پرانا موبائل بغیر سم کے تھا جس کو وہ اپنی آواز میں قرآن کی تلاوت ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

جبار عمری کا کہنا تھا کہ ملاعمر 2013 میں کھانسی، متلی اور بھوک میں کمی کا شکار ہوئے لیکن کسی قسم کی دوا لینے سے انکار کیا جبکہ عمری نے انہیں ڈاکٹر بلانے یا پاکستان لے جانے کی پیش کش کی لیکن وہ انکاری رہے اور 23 اپریل کو انتقال کرگئے۔

انہوں نے کہا کہ ملاعمر کو رات کے اندھیرے میں دفنایا اور اس کی ویڈیو بنائی تاکہ ان کے بیٹے یعقوب اور سوتیلے بھائی عبدالمنان کو دکھا سکیں، انہوں نے 2001 سے ملاعمر کو نہیں دیکھا تھا لیکن انتقال کے بعد ان کی رہائش گاہ میں کئی مرتبہ آئے اور تصدیق کے لیے ان کی قبر کشائی پر اصرار کرتے رہے۔

بعد ازاں انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زابل کے دور دراز علاقے میں سادہ قبرستان میں ملاعمر دفن ہیں۔

ڈان نیوز