الیکشن کمیشن آف پاکستان ( ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا جبکہ ایم پی اے ضیاء اللہ آفریدی کے خلاف عمران خان کا ریفرنس بھی خارج کردیا۔

خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے پارٹی تبدیل کرنے پر ضیاء اللہ آفریدی کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے ضیاء اللہ آفریدی کے خلاف عمران خان کا ریفرنس2-3 کی اکثریت سے مسترد کرتے ہوئے اسے خارج کردیا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن میں درخواست گزار یوسف علی نے تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست دائر کی تھی اور موقف اختیار کیا تھا یہ انتخابات بوگس تھے۔

درخواست کی سماعت کے دوران تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کا ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کرایا۔

انٹرا پارٹی انتخابات میں کل 2 لاکھ 56 ہزار 997 ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے کل ووٹرز 17 لاکھ ہیں۔

جواب میں بتایا گیا کہ انصاف پینل کو ایک لاکھ 89 ہزار 55 جبکہ احتساب پینل کو ایک لاکھ 41 ہزار سے زائد ووٹ ملے جبکہ 26 ہزار 255 ووٹ ضائع ہوئے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار یوسف علی کے وکیل نے پی ٹی آئی انتخابات کی تفصیلات مانگتے ہوئے کہا کہ پارٹی آئین میں خود سے غیر قانونی طریقے سے ترمیم کی گئی۔

جس پر تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ دوسری جماعت یہ کیسے دیکھ سکتی ہے اس سے ووٹ کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔

وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس عمل کی خود تصدیق کرسکتا ہے، ایسے ریکارڈ دینے سے ووٹر کا فون نمبر لیک ہوجائے گا اور پتہ چل جائے گا کہ ووٹ کس نے کاسٹ کیا۔

چیف الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا اور درخواست گزار یوسف علی کی درخواست خارج کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخبات جائز قرار دے دیے۔