سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر الریاض میں صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں

سعودی عرب کی ایک عدالت نے معروف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے جرم میں پانچ افراد کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے اور مقدمے میں ملوث ہونے کے جرم میں تین افراد کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لکھاری جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018ء کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔وہ قونصل خانے میں اپنی بیوی کو دی گئی طلاق کے کاغذات کی تکمیل کے سلسلے میں گئے تھے۔اس دوران میں وہاں موجود اہلکاروں سے ان کا جھگڑا ہوگیا تھا۔پھرانھیں قتل کردیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر نے سوموار کے روز الریاض میں ایک نیوز کانفرنس میں عدالت کے فیصلے کااعلان کیا ہے۔سعودی عرب کے شاہی دیوان کے سابق مشیر سعود القحطانی کے خلاف بھی اس کیس میں ملوّث ہونے کے الزام میں تحقیقات کی گئی تھی لیکن پبلک پراسیکیوٹر کے بہ قول ان کے خلاف فرد جرم عاید نہیں کی گئی۔

سعودی انٹیلی جنس کے سابق نائب سربراہ احمد العسیری سے بھی اس کیس کی تحقیقات کی گئی تھی لیکن انھیں ناکافی شواہد کی بنا پر رہا کردیا گیا ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ عدالت نے تین افراد کو جرم کی پردہ پوشی اور قانون کی خلاف ورزی کے جرم میں قصور وار قرار دے کر مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

استنبول میں جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں سعودی حکام نے اکیس سعودیوں کو گرفتار کیا تھا۔پبلک پراسیکیوٹر نے اپنی تحقیقات کے بعد ان میں سے گیارہ افراد کے خلاف فرد جرم عاید کی تھی۔عدالت نے ان میں سے تین افراد کو بے قصور قرار دیا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس سال ستمبر میں سی بی ایس کے پروگرام ’’60 منٹ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جمال خاشقجی کے قتل کو ایک سنگین جرم قراردیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے عدالت سے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے جمال خاشقجی کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق ان مجرموں نے 29 ستمبر2018ء کو سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی اور پھر 2 اکتوبر کو قتل کے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ان میں سے کسی ایک نے وہاں نصب نگرانی کے کیمرے بھی ناکارہ بنا دیے تھے۔ تحقیقات کے بعد اس شخص کی شناخت ہوگئی تھی۔

ان میں سے ایک مجرم نے مقتول کی گھڑی اور عینک سمیت دوسری ذاتی اشیاء قونصل خانے کی عمارت سے نکلنے کے بعد ایک کوڑے دان میں پھینک دی تھیں۔سعودی انٹیلی جنس کے سابق نائب سربراہ کے حکم پر ایک ٹیم جمال خاشقجی سے بات چیت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔اس ٹیم نے مقتول کو ترکی سے سعودی عرب واپسی آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔اس مشن کے لیڈر نے تین گروپوں پر مشتمل ایک پندرہ رکنی ٹیم تشکیل دی تھی.

استغاثہ کے مطابق جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے گئے تھے اور اس کو قونصل خانے سے باہر استنبول ہی میں کہیں ٹھکانے لگا دیا گیا تھا۔پانچ مجرموں نے ان کی لاش کو قونصل خانے سے باہر منتقل کیا تھا اور ان میں سے ایک نے کٹے ہوئے جسمانی اعضاء کو اس واقعے میں ملوث ایک مقامی شخص کے حوالے کیا تھا۔

استغاثہ نے اپنی تحقیقات کے بعد کہا تھا کہ ملزموں نے انٹیلی جنس کے سابق نائب سربراہ کوایک جھوٹی رپورٹ پیش کی تھی اور ابتدا میں انھوں نے جمال خاشقجی کے قتل سے انکار کیا تھا۔سعودی قونصل خانے میں مقتول کی ان مجرموں سے لڑائی بھی ہوئی تھی۔ پھرانھوں نے مقتول کو پہلے کسی نشہ آور چیز موت کی نیند سلا دیا تھا اور پھر جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے۔

العربیہ