شیطان کے پجاری

شیطان کا اصلی نام کیا تھا؟


رحمت الہٰی سے ملعون ہونے سے پہلے شیطان کا نام عزازیل تھا ۔ آدم کو سجدہ نہ کرنے اور حکم الہٰی کی خلاف ورزی کی پاداش میں اس کا نام ابلیس تجویز کر دیا گیا ۔ شیطان بھی اسی ابلیس کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے آگ کے شعلوں سے ایک جن کو پیدا کیا تھا ۔ اس کے بعد اس کے لئے ایک بیوی پیدا کی، اسی جوڑے سے تمام جنات کی نسل دنیا میں پھیلی۔۔۔

حدیث میں ہے کہ جب اللہ نے ابلیس کی نسل اور اس کی زوجہ پیدا کرنا چاہی تو شیطان پر غصہ کا القا کیا ۔ غصہ کی وجہ سے آگ کی ایک چنگاری پیدا کی، اس چنگاری سے حق تعالٰی نے ابلیس کی بیوی پیدا کر دی۔۔۔

جتنے انسان پیدا ہوتے ہیں اتنے ہی جنات بھی پیدا ہوتے ہیں
================================

روایت ہے کہ حق تعالٰی نے ابلیس سے فرمایا تھا کہ جتنی اولاد آدم کی پیدا کروں گا، اتنی ہی اولاد تیری بھی پیدا کروں گا ۔ چنانچہ دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ ہر انسان کے ساتھ حق تعالٰی جن بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ جن اس انسان کو بُرائی پر اُکساتا رہتا ہے۔…

جنات مذکر بھی ہوتے ہیں اور مونث بھی

جنات کی ایک قسم انسان جیسی ہے ۔ وہ انسانوں کی طرح مذکر اور مونث ہوتے ہیں ۔ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں ۔ اور ان کے اولاد بھی پیدا ہوتی ہے۔

شیطان کی بیوی اور بچوں کے نام

شیطان نے اپنی بعض اولاد کو بعض مخصوص کاموں پر لگا رکھا ہے۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق ان کے نام اور کام یہ ہیں ۔

طرطبہ: شیطان کی بیوی کا نام طرطبہ ہے۔

لاقیس و لہان: یہ دونوں وضو اور نماز پر مامور ہیں، لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔

ہفاف: یہ لڑکا صحرا پر مامور ہے، صحرا میں شیطینیت پھیلاتا ہے۔

زلنبور: یہ بازاروں پر مامور ہے، جھوٹی تعریف اور جھوٹی قَسموں پر لوگوں کو اُکساتا ہے۔ ناپ تول میں کمی اور دوسری بُرائیوں میں لوگوں کو مبتلا کرتا ہے۔

بثر: مصیبت زدہ لوگوں کو جہالت کے کام نوحہ، ماتم، گریبان چاک کرنا، چہرے کو نوچنے، منہ پر چانٹے مارنے کی ترغیب دیتا ہے۔

ابیض: یہ انبیاء علیھم السلام کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے پر مامور ہے۔

اعور: یہ شیطان زنا پر مامور ہے۔ زنا کے وقت مرد و عورت کی شرم گاہوں پر سوار رہتا ہے۔ لوگوں کو زنا کی ترغیب دے کر زنا میں مبتلا کرتا ہے۔

واسم: اس شیطان کی ڈیوٹی یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں بغیر سلام کئے یا بغیر اللہ کا نام لئے داخل ہوتا ہے، تو وہ گھر والوں میں فساد کرانے کا سبب بنتا ہے۔ گھر والوں میں پھوٹ ڈلوا کر ایک کو دوسرے کا دشمن بنا دیتا ھے۔

مطوس: یہ شیطان غلط اور بے بنیاد افواہیں لوگوں میں پھیلاتا ہے۔

محمد بن کعب القرظی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جن اور شیاطین اصل کے اعتبار سے ایک ہیں، مگر ایماندار ‘جن’ کے نام سے اور کفار شیاطین کے نام سے موسوم ہیں ۔

جنات سانپ کی شکل میں گھروں میں بھی رہتے ہیں

بخاری مسلم اور ابو داود میں ابو لبابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے، مگر جس سانپ کی پشت پر دو سفید خط ہوں، یا وہ سانپ جس کی دُم بہت چھوٹی ہو، اس کو فورََا مار ڈالنا چاہیئے ۔ یہ دونوں قسم کے سانپ بہت ہی خطرناک ہیں۔

دل میں داخل ہونے کے چور دروازے، جن سے شیطان کے لشکر اولاد آدم پر حملہ آور ہوتا ہے۔

شیطان کے لشکر چونکہ 24 گھنٹے انسان کو گمراہ اور اغوا کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں ۔ اس لئے شیاطین کی مدافعت سے ایک آن بھی غفلت انتہائی مضر ہے ۔ پھر چونکہ شیطان کا حملہ انسان پر ظاہری دشمن کی طرح کھلم کھلا نہیں ہوتا، اس لئے سب سے پہلے ان دروازوں اور راستوں سے واقفیت ضروری ہے جہاں سے وہ حملہ آور ہو کر کائنات قلب کو تخت و تاراج کر دیتا ہے۔
یوں تو انسان کے دل میں شیطان کے لئے بہت سے دروازے ہیں، پھر بھی ان میں چند بڑوں بڑوں کا ذکر حسب ذیل ہے۔

حسد اور حرص

حسد اور حرص میں انسان اندھا اور بہرا ہو جاتا ہے ۔ شیطان جب ان دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں کا احساس کسی قلب میں پاتا ہے تو پھر شیطان کو دل کو تباہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے – اور وہ انسان کے دل کو گناہوں کے میدان میں لڑھکاتا پھرتا ہے۔ جس وقت نوح علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہا کہ دنیا میں لوگ پانچ باتوں سے ہلاک ہوئے ہیں میں تین باتیں اپ کو بتائے دیتا ہوں ۔ فورََا وحی آئی کہ شیطان سے دو باتیں تو پوچھ لو، باقی تین باتیں آپ سے غیر متعلق ہیں ۔ شیطان نے کہا ان میں سے ایک تو حسد ہے، حسد کی وجہ سے میں بارگاہ الہٰی سے مردود و ملعون ہوا، اور دوسری چیز حرص ہے، اگر آدم [علیہ السلام] جنت میں ہمیشہ رہنے کی حرص نہ کرتے تو ان کو جنت سے نہ نکالا جاتا۔

غضب اور شہوت

یہ دونوں چیزیں بھی قلب بنی آدم سے شیطان کے داخلے کے اہم دروازے ہیں ۔ غضب اور غصہ کی وجہ سے انسان کی عقل کمزور ہو جاتی ہے ۔ شیطان نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہا کہ جب انسان غصہ ہوتا ہے تو میں اس کے جسم میں دوڑا دوڑا پھرتا ہوں۔

بسیار خوری

شکم سیر ہو کر کھانا بھی شیطانی آفتوں میں سے ایک آفت ہے۔ کیونکہ شکم سیری سے شہوت پہدا ہوتی ہے، شہوت شیطان کا ایک خاص ہتھیار ہے۔ ابلیس یحیٰی علیہ السلام کے پاس متشکل ہو کر آیا اور اس نے بیان کیا، کہ میں شہوت کے ذریعہ سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کیا کرتا ہوں۔

علماء باطن نے بسیار خوری کے نقصانات تحریر کئے ہیں [1]دل سے خدا کا خوف نکل جاتا ہے
[2]دل میں مخلوق پر رحمت نہیں رہتی کیونکہ وہ
دوسروں کو اپنی طرح شکم سیر سمجھنے لگتا ہے
[3]شکم سیری سے نماز و عبادت گراں محسوس ہوتی ہے [4]حکمت کا کلام سُن کر دل پر رقّت طاری نہیں ہوتی [5]ایسی حالت میں اگر وہ کسی کو نصیحت کرتا ہے
تو لوگوں کے دلوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا
[6]بسیار خوری سے جسمانی امراض پیدا ہوتے ہیں۔

سامان زیب و زینت

اگر شیطان کسی کے دل میں مکان لباس اور گھر کے سازوسامان کی محبت دیکھتا ہے تو وہ انسان کے دل میں ان چیزوں کی محبت کے انڈے دے دیتا ہے، ان انڈوں سے جب بچے نکل آتے ہیں تو مکان کی تعمیر کرنے مکان کی آرائش کی دھن میں لگ جاتا ہے، یہاں تک کہ اس حالت میں اسے موت آکر پکڑ لیتی ہے۔

[] ایک مکر شیطان کا یہ ہے کہ وہ لوگوں کو عشق مجازی میں مبتلا کرکے خدا تعالٰی کے عشق حقیقی سے محروم کردیتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے دل معشوق مجازی کی محبت میں مبتلا ہوکر معشوق حقیقی سے محروم ہوجاتے ہیں ۔

حق تبارک و تعالٰی نےقرآن مجید میں فرمایا ہے: “شیطان تمہارا دشمن ہے اس کو دشمن ہی سمجھو شیطان کی جماعت تمہیں اپنی طرف لا کر تم کو دوزخی بنانا چاہتی ہے”.
شیطان کے مکرو فریب کے جال اتنے وسیع ہیں کہ اس مختصر سی جگہ میں ان کا بیان کردینا مشکل ہے، آگاہی کے لئے نمونہ کے طور پر مندرجہ بالا پوری تفصیل کا لب لباب آپ کی خدمت میں پیش کردیا ۔ اب تو آپ پر روشن ہو گیا ہوگا کہ ابلیس بنی نوع آدم کا بد ترین دشمن ہے۔۔۔