رانا ثنااللہ ضمانت پررہائی کے بعد شدید غصے میں نظرآئے اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لعنت اور گھٹیا جیسے الفاظ کا بار بار استعمال کرتے رہے ان کا کہنا تھا کہ میری گاڑی 3:25 پر نکلی اور تھانے دس منٹ بعد 3:35 پہ پہنچی اور تقریبا فاصلہ دس ہی منٹ کا ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ پھر بتائیں کہ موقع کے اوپر کہاں برآمدگی ہوئی؟ کہاں کارروائی ہوئی؟ کہاں فرد جرم مرتب ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ ساری کارروائی ان لوگوں نے تھانے جاکر جعلی طور پر اور فرضی طور پر کی اب یہ بات لاہور کے سیف سٹی کیمروں کے ریکارڈ نے ثابت کردی ہے

اس کے بعد شہریار آفریدی کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے ورنہ اس دنیا میں بھی اس کے اوپر لعنت آئے گی اور انشااللہ اسے مرتے وقت کلمہ بھی نصیب نہیں ہوگا

انہوں نےANF سے تعلق رکھنے والے آرمی آفیسرز کو بھی نام لے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ میجر جنرل عارف جس نے شہریار آفریدی جیسے لعنتی کے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس کی اور برگیڈیئر خالد جو انچارج ہے پنجاب کا اور میجر عزیز اللہ جو اس مقدمے کا مدعی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان سب نے اپنے ادارے کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے جو اس حکومت کے بد ترین اور گھٹیا ترین انتقام کا حصہ بنے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ میں نے آرمی چیف سے پہلے بھی اپیل کی تھی کہ ان لوگوں کے خلاف تحقیقات کریں کہ وہ کس کے کہنے پر اس طرح کے گھٹیا سیاسی انتقام کا حصہ بنے لعنتی شہریار آفریدی یا پھر لعنتی وزیرداخلہ کے کہنے پر؟ انہوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ANF کے آرمی آفیسرز نے شہدا کے خون سے غداری کی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جولائی میں رانا ثنااللہ کی گرفتاری پر ANF ، وزارت داخلہ اور شہریار آفریدی کی طرف سے رانا ثنا کے خلاف مکمل ثبوت اور گرفتاری کی ویڈیو موجود ہونے کا دعوی کیا جاتا رہا لیکن عدالت میں اب تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے عدالت نے رانا ثنااللہ کو ضمانت پر رہا کردیا ہے