لاہور کے علاقے ڈیفنس میں شوہر کا دوست کے ساتھ مل کر بیگم پر تشدد کے کیس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں.پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میاں بیوی دونوں آئس کے نشے کے عادی تھے.

پولیس نے متاثرہ خاتون کے شوہر کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے.ملزم کا کہنا ہے کہ وقوعہ کی رات اس نے اور بیوی نے آئس کا نشہ کیا تھا اور نشے میں نہیں یاد کہ کب اسماء پر تشدد کیا اور اس کے بال کاٹے. ہم نشے کی زیادتی کے باعث اپنا ہوش کھو بیٹھے تھے،میرا اور اسماء کا اکثر نجی معاملات پر جھگڑا رہتا ہے.خیال رہے گذشتہ روز دوست کے ساتھ مل کر بیوی پر تشدد کرنے اور بال کاٹنے والے شوہر گرفتار کیا گیا تھا، دونوں ملزمان کو کاہنہ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا،ملزم پر دوست کے ہمراہ اپنی بیوی پر تشدد کرنے اور بال کاٹنے کا الزام عائد تھا،ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا،. گرفتار ہونے والے ملزمان میں میاں فیصل اور راشد علی شامل ہیں. پولیس دونوں ملزمان سے مزید تفتیش کرے گی.جب کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریارخان آفریدی نے ڈیفنس لاہور میں خاتون پر مبینہ تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس پنجاب کو واقعے کی فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا.بدھ کو ایک بیان میں وزیرمملکت نے ملزم کے خلاف فوری ایکشن اور معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا شہر یار آفریدی نے کہاکہ تحقیقات میں الزامات کے حوالے سے ملزمان کو فوری گرفتار کرکے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں. شہریار آفریدی نے کہاکہ قوم کی بیٹیوں کے تحفظ کی ذمہ دار ریاست ہے. ہماری بیٹیاں لاوارث نہیں ہیں. حکومت اس امر کو ممکن بنائے گی کہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں ہر جگہ محفوظ رہیں. شہریارخان آفریدی نے کہاکہ خواتین کو مقتدر بنانا اور انکی عزت اور احترام کو یقینی بنانا تحریک انصاف کا مشن ہے.واضح رہے اسماء عزیز نے اپنی بِپتا سُناتے ہوئے بتایاتھا کہ اُس نے چار سال قبل ایک نوجوان میاں فیصل سے پسند کی شادی کی تھی. شروع شروع میں تو وہ اُس پر جان نچھاور کرتا رہا، مگر پھر آہستہ آہستہ اُس کی عیش پرست طبیعت سے پردہ اُٹھتا چلا گیا. ازدواجی رشتے کی حُرمت سے ناآشنا یہ نوجوان اپنی ہی طرح کے عیاش دوستوں کو گھر پر لانے لگا. اپنی بیوی کو ان دوستوں سے ملنے اور پھر ڈانس کرنے پر مجبور کرتا. جب خاتون نے مبینہ طورپر اپنے خاوند کے ان بے شرم تقاضوں کو پُورا کرنے سے انکار کر دیا تو وہ اُس سے سختی سے پیش آنے لگا