ذیابیطس ایسی بیماری ہے جو ہر سال کئی انسانوں کی زندگی ختم کر دیتی ہے۔ ذیابیطس کا مرض کسی بھی عمر میں لاحق ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے کئی دوسرے طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انسانی جسم میں موجود شوگر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل کرنے کی صلاحیت ختم ہو جانے سے لاحق ہونے والی پیچیدگی کے باعث فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگوں کے خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مرض میں انسانی جسم کی یہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کی دو اقسام ہیں۔

2019 میں ذیابیطس کی ٹائپ ون کے علاج کے حوالے سے بڑی امید پیدا ہوئی ہے۔ امریکی طبی محققین نے تجربات کے بعد بتایا ہے کہ انسانی خلیات میں انسولین بنانے کی صلاحیت پیدا کر لی گئی ہے جس پر مزید کام کیا جارہا ہے۔

سان فرانسيسكو میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ذیابیطس کے خلاف کام کرنے والے سائنس دانوں کی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے علاج کے حوالے سے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہم ایسے خلیات بنائیں گے جن کو ایسے مریضوں میں داخل کیا جا سکے۔

الزائمر ایک ایسا مرض ہے جس نے دنیا کی بڑی آبادی کو مشکل سے دوچار کر رکھا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ الزائمر نامی بیماری دراصل ڈیمینشیا کی ایک شکل ہے اور پاکستان میں بھی اس کے مریضوں کی اکثریت تکلیف دہ صورتِ حال کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ سادہ زبان میں نسیان یا یاد داشت کی کم زوری کا مسئلہ ہے۔

2019 میں الزائمر کے علاج کے حوالے سے بھی امید افزا خبر سامنے آئی۔ سائنس دانوں نے ایک دوا جس کا نام ایڈو کینمب بتایا گیا ہے، کی مدد سے اس مرض کی تکلیف اور دماغ کو پہنچنے والے نقصان کی رفتار کو کم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ طبی تجربات کے بعد اس دوا کے استعمال سے یاد داشت بہتر بھی ہوسکے گی۔

اس کے علاوہ صحت کے شعبے سے دو ہزار انیس میں یہ خبر بھی آئی کہ الجیریا اور ارجنٹینا مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والی ملیریا جیسی بیماری سے نجات پاچکے ہیں۔ اس کا اعلان عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کیا ہے۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ طبی سائنس کے ماہرین کی کاوشوں کی بدولت 2019 امید اور امکانات کا سال ثابت ہوا۔

Ary news