اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نواز شریف اور ان کے خاندان کیلئے کسی بھی قسم کا این آراو قبول نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتساب کا عمل بلا تعطل مکمل ہونا چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی جانب سے ملکی سیاست سے متعلق اہم فیصلے کرتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے.

اعلامیہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان سے باہر بھجوانے کی کوششوں پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ چوری ودیگرجرائم میں ملوث شہریوں جیسا سلوک کیا جائے، قانون کے یکساں اور بے لاگ نفاذ کےعلاوہ کوئی راستہ قابل قبول نہیں، احتساب کا عمل بلا تعطل مکمل ہونا چاہئے۔

پی ٹی آئی اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے متعلق وزیراعظم کے بیان کی بھی شدید مذمت کی گئی، پی ٹی آئی نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اپنے بیان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سےاداروں سےبات چیت کابیان تشویشناک ہے، وزیر اعظم آئینی اداروں اورعہدوں کی تعظیم کے پابند ہیں، چیئرمین سینیٹ سے متعلق وزیراعظم کابیان نامناسب اور ان کے منصب کے سراسر منافی ہے۔

اجلاس میں سینیٹ الیکشن میں منفی کردار کےحامل اراکین اسمبلی کیخلاف کارروائی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، چیئرمین عمران خان نے ضمیرکی سوداگری میں ملوث اراکین اسمبلی کےخلاف پرویزخٹک کو فوری تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال پربھی گہری تشویش کااظہارکرتے ہوئے اسدعمرکی سربراہی میں معاشی میڈیا کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا، سینیٹر شبلی فراز اور عمر ایوب خان اسد عمر کے ساتھ کمیٹی کا حصہ ہوں گے، مذکورہ کمیٹی وفاق اور اسحاق ڈار کے ملکی معیشت پرمتضاد بیانیے کا تجزیہ کرے گی۔

اجلاس میں میڈیا کے ذریعے ناقص معاشی پالیسی کے ذمہ داروں کو منظرعام پر لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے فاٹا کےمستقبل کیلئے ٹھوس اور مؤثرحکمت عملی کی تیاری اور اپریل میں فاٹا کے مستقبل کیلئے ٹھوس لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا۔

نورالحق قادری کی سربراہی میں کمیٹی کو فوری سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے فاٹا کا پختونخوا میں انضمام روک کر معاملہ الجھایا۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب اورصوبائی وزیرصحت کیخلاف ریفرنسز کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ پارلیمانی پارٹی شہبازشریف اور پنجاب کے وزیرصحت کیخلاف ریفرنسز تیارکرے، ادویات کی مہنگے داموں فروخت سے خزانے کو ڈیڑھ ارب کانقصان پہنچا۔