قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ٹوئٹر کا سہارا لیکر وزیرِ اعظم عمران خان کی توجہ چین میں بسنے والے اویغور مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی جانب دلوائی لیکن کچھ ہی دیر میں انہوں نے ٹویٹس ڈیلیٹ کر دیں۔

کچھ دن پہلے شاہد آفریدی نے ٹویٹس کئے کہ چین میں اویغور مسلمانوں کی حالت زار کے بارے جان کر رہا نہیں جا رہا، وزیرِ اعظم عمران خان مسلم امہ کے اتحاد کرنے کی باتیں کرتے ہیں ان سے اپیل ہے کہ وہ اس سے متعلق تھوڑا سوچیں اور چینی حکومت سے گزارش ہے کہ خدارا اپنے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روکیں۔

شاہد آفریدی نے اپنی ٹویٹ میں چینی سفارت خانے کو بھی ٹیگ کیا جس کے ردِ عمل میں پاکستان میں چین کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار لیجن چاؤ نے ٹویٹ کیا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ مغربی پیگنڈا نے آپکو چین کے خلاف گمراہ کیا ہے۔

لیجن چاؤ نے شاہد آفریدی کو آفر کی کہ اگر آپ خود سنکیانگ کا دورہ کرنا چاہیں گے تو ہم آپکو ویلکم کہیں گے۔۔ مغرب مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کیلئے چین کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے