شام میں یکطرفہ طور پر متنازع جنگ بندی میں ناکامی کے بعد باغیوں کے زیر اثر مشرقی غوطہ میں شامی اور روسی فورسز کی جانب سے باغیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جنگ زدہ علاقے میں 4 لاکھ افراد کے لیے 40 سے زائد ٹرکوں پر مشتمل امداد پہنچنے میں ناکامی پر اقوام متحدہ کی جانب سے فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ ماسکو کی جانب سے روزانہ 5 گھنٹے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد بمباری میں کچھ حد تک کمی ہوئی ہے تاہم گزشتہ مہینے میں ہونے والی اس بمباری میں سیکڑوں لوگوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

تاہم روس کی جانب سے شہریوں کو مشرقی غوطہ سے نکلنے کا راستہ فراہم کیے جانے کی پیش کش کے باوجود تیسرے روز بھی کسی شہری نے علاقے سے نقل مکانی نہیں کی، جس کی ایک بڑی وجہ دونوں جانب سے اعتماد کا فقدان ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹاسک فورس کے سربراہ جین ایگلینڈ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں امدادی قافلے مشرقی غوطہ میں داخل ہونے کے قابل ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شاید ہمارے پاس سب سے پہلے امداد پہنچانے کی اجازت ہے اور ہم نے مشرقی غوطہ کے حصے ڈوما میں جانے کی اجازت حکومت سے لی تھی لیکن اس کے لیے ’5 گھنٹے کافی نہیں‘۔

اس بارے میں انسانی حقوق کے شامی مبصرین کا کہنا تھا کہ شامی جہازوں کی جانب سے گزشتہ روز روزانہ عارضی جنگ بندی سے قبل حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں 9 شہری ہلاک ہوگئے۔

مشرقی غوطہ میں جاری بمباری کے بارے میں شامی سول ڈیفنس کے رضاکار یونٹ کے ترجمان سراج محمود کا کہنا تھا کہ اس علاقے تک رسائی بہت مشکل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’وہاں بمشکل کوئی زندگی ہے، سب کچھ تباہ ہوچکا ہے اور لوگ ملبوں تلے ہیں‘۔

دوسری جانب روس کی جانب سے روزانہ 5 گھنٹے کی جنگ بندی کے اعلان سے قبل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے شام میں 30 روز کے لیے جنگ بندی کی قرار داد منظور کی گئی تھی، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے بھی گزشتہ روز ماسکو سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ شامی صدر بشارالسد کی حکومت پر شامی شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے دباؤ ڈالے۔

پینٹاگون کی ترجمان دانا وائٹ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے مطالبے میں ناکامی تشدد کم کرنے اور سیاسی حل کے لیے مذاکرات کے حوالے سے روس کے کیے گئے وعدے پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم شامی حکومت سے کوئی تنازع نہیں چاہتے لیکن ہم روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ روس بشارالاسد کی حکومت کو تشدد سے روکنے اور شامی خانہ جنگی کو کم کرے‘۔