شادی کے بعد میرے گھر والوں اور میری بیوی کے درمیان سخت اختلافات ہوگئے ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بیوی حق بجانب ہے کیونکہ بلاوجہ کی روک ٹوک سے سخت پریشان رہتی ہے۔ میرے دو بچے بھی ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ ان کا مستقبل خراب ہو ۔ بیوی نے روز روز کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آکر مجھ سے الگ گھر کا مطالبہ کردیا ہے۔ جبکہ میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے۔ میری تنخواہ مشکل تیس ہزار روپے ہے ۔ جبکہ جمع سرمایہ اتنا نہیں ہے کہ پلاٹ بھی لے سکوں الگ گھر کیسے لوں؟ میں سخت پریشان ہوں۔ (جاری ہے) ہ

جواب: محترم اگر شرعی نقطہ نظر سے پوچھتے ہیں تو بیوی اپنے مطالبے میں صد فیصد حق بجانب ہے ۔ کیونکہ شریعت اسے الگ گھر میں رہنے کی آزادی دیتی ہے۔ آپ کی زندگی بھی ان لڑائی جھگڑوں سے متاثر ہورہی ہے اسکا حل تو یہ ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے الگ گھر لےلیا جائے ۔ آپ کرائے کا چھوٹا سا گھر دیکھ لیں۔ یا اگر گھر میں ایک پورشن ہے الگ سے تو اپنا کھانا پینا ، چولہا الگ کرلیں۔ کیونکہ اکثر لڑائیاں کچن سے ہی شروع ہوتی ہیں۔ اس کا حل کچن الگ کرنے سے ہی ہوتا ہے ۔ مگر خون کے رشتے چھوڑے نہیں جاسکتے ۔ اس لیے کوشش کیجئے کہ اپنے طور پر سب کو اکٹھا کرکے سمجھانے کی کوشش کیجئے ۔ اگر پھر بھی معاملات نہیں سلجھتے تو احسن انداز سے الگ ہوکر گھر الگ لے لیا جائے ۔ چاہے کم کرائے پر ہی ہے ۔ اس میں بہت جگرا چاہئے کیونکہ مہنگائی کا سیلاب ہے۔ (جاری ہے) ہ

یہ تو آپ پر ڈپینڈ کرتا ہے کہ کیسے اس صورتحال کو نبھاتے ہیں مگر بیوی کا مطالبہ جائز ہے ۔ یہ ہمارے معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ الگ ہونا ہی ہوتا ہے مگر جب الگ ہوتے ہیں تو کسی کا منہ سیدھا نہیںہوتا یعنی سب کے دل کھٹے ہوتے ہیں۔ اس لیے کوشش کی جائے کہ ایسے الگ ہوا جائے کہ کم ازکم دل نہ ٹوٹیں۔ الگ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ماں ، باپ سے الگ ہوا جائے ۔ ماںباپ کی خدمت ہر حال میںبیٹے کے ذمہ ہے ۔ یہ مسئلہ آج کل ہر دوسرے گھر میں ہے ۔ اس کا اگر دنیاوی اعتبار سے حل ہے تو وہ بڑے ہی نکال سکتے ہیں (جاری ہے) ہ

کہ وہ گھر کو جوڑ کر رکھیں۔ اگربڑے اس میں ناکام رہیں تو جوائنٹ فیملی سسٹم کامیاب ہو نہیں سکتا۔۔ آپ اپنی جیب دیکھئے ۔اپنا بجٹ دیکھئے ۔ اپنی ہمسفر کو اعتماد میں لیں۔ کہ الگ گھر لے تو لیتے ہیں مگر معاشی مشکلات آئیں گی ۔ اگر آپ کی بیگم اس بات پر راضی ہیں کہ چلیں معاشی مشکلات برداشت کرلیں گے تو پھر آپ یہ قدم اٹھا لیجئے ۔ کرائے پر ایک چھوٹا سا گھر لے لیجئے ۔ باقی اللہ پر توکل ۔ اللہ سے دعا ہے کہ آپ سب کے دلوں میں محبت و الفت پیدا فرمائے ۔ آمین ۔۔۔۔ یا رب العالمین۔۔۔۔ بات ساری اللہ پر توکل کی ہے ۔ مگر آخر میں پھر یہ گزارش سن لیجئے کہ والدین کی خدمت کرنا بیوی سے زیادہ بیٹے کے ذمہ ہے ۔ (جاری ہے) ہ

ماں باپ سے قطعہ تعلق کبھی بھی نہیںکیا جاسکتا۔ ان کی خدمت آپ کے ذمہ رہے گی ۔ والدین سے کبھی منہ نہیں موڑا جاسکتا ۔ کم ازکم اپنی ذات کی حد تک ان کو خوش و مطمئن رکھنے کی کوشش کیجئے ۔ مگر اس شرط پر نہیں کہ آپ کی ازدواجی زندگی خراب ہو یا بچوں کا مستقبل خراب ہو ۔۔۔۔۔ اللہ آپ کی مشکلات آسان کرے ۔۔۔۔۔۔۔قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے کریں۔استغفار کی کثرت کریں تاکہ اللہ آپ کے لیے اس مشکل سے نکلنے کا راستہ آسان کرے ۔ آمین