پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والی شادیوں میں اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ بالخصوص دلہا کے دوست یا قریبی رشتے دار خوشی کا اظہار کرنے کے لیے پیسے لٹاتے ہیں۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں یہ کلچر عام ہے جہاں غیرملکی کرنسی تک لٹانے کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں۔ شرعی احکامات کی اگر بات کی جائے تو اسلام نے بچت کا راستہ اختیار کرنے اور اسراف یعنی فضول خرچی سے رکنے کی بارہا تاکید کی ہے۔

اے آر وائی کیو ٹی وی کے پروگرام احکامات شریعت میں ایک سوال پوچھا گیا کہ ’شادیوں میں پیسے لٹانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟‘۔ مفتی اکمل قادری نے اس سوال کا شرعی اصول و ضوابط کے مطابق جواب دیا۔

ہمارے یہاں اب بھی یہ رواج اور خصوصا دیہی علاقوں میں شادی کی تقریب میں پیسے لٹائے جاتے ہیں، یہ اچھا اقدام نہیں کیونکہ کرنسی نوٹ پر اللہ کا نام، حرفِ تہجی درج ہوتا ہے جبکہ ان پر مسجد کی تصویر، بانی پاکستان کی تصویر بھی موجود ہے تو جب انہیں لٹایا جاتا ہے تو یہ پیروں کے نیچے آتے ہیں تو یہ مناسب نہیں کہ پیسے لٹائے جائیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ بچوں کو خوش کرنے اور برکت کے لیے پیسے ہاتھوں میں تقسیم کرلیں اور دیتے وقت اگر چاہیں تو صدقے کی نیت بھی کرلیں مگر اس طرح لٹانا مناسب نہیں اور نہ اس عمل کو حرام کہا جاسکتا ہے۔