سپریم کورٹ کی پشاور رجسٹری میں صاف پانی اور سیوریج سے متعلق کیس کی سماعت ،

26

سپریم کورٹ کی پشاور رجسٹری میں صاف پانی اور سیوریج سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک سے صوبے میں اہم سوالات کر لیے ۔کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا حکومت کی کیا کارکردگی رہی ؟۔اس پر جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو سکول تباہ اور ہسپتالوں کے برے حالات تھے ۔صوبے میں صحت اور ہسپتالو ں سے متعلق سہولیات پر سوال کرتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ سی ایم صاحب !ہسپتالوں کے لیے کیا کیا ؟اس پر پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نے ہسپتالوں کوخود مختار کیا ،ہم نے آگے دوڑ پیچھے چھوڑ والا کام نہیں کیا ۔جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ صوبے میں کتنے ٹیچنگ ہسپتال ہیں اس پر پرویز خٹک نے کہا کہ صوبے میں تین ایم آئی ٹی ہسپتال ہیں ،ٹیچنگ ہسپتالوں کے لیے ڈیڑھ سے دو ارب روپے کے فنڈز دئیے ۔
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے خیبر پختونخوا میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی اور صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے سے متعلق اقدامات پر وضاحت دینے کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو طلب کر لیا۔

سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے متفرق کیسز کی سماعت کی، اس دوران چیف سیکریٹری اور سیکریٹری صحت عدالت میں پیش ہوئے۔خیال رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ان دنوں 2 روزہ دورے پر پشاور میں موجود ہیں اور اس دوران وہ مختلف اہم مقدمات کی سماعت کریں گے۔ دوران سماعت چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ صوبے میں 5 سال سے پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں ہے اور یہی بتا سکتی ہے کہ انہوں نے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے۔

چیف جسٹس نے صوبائی چیف سیکریٹری سے استفسار کیا کہ ’پشاور کی گندگی آپ کس کینال میں پھینکتے ہیں اور اس مقصد کے لیے شہر میں کوئی ڈمپنگ گراؤنڈ کیوں نہیں ہے؟‘اس موقع پر چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری کو یہ ٹاسک دیا کہ وہ سیوریج کا پانی کینال اور دریاؤں میں ڈالنے سے متعلق عدالت کو آگاہ کریں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہتے ہیں کہ یہاں سب ٹھیک ہے، کیا یہی گڈ گورننس ہے؟ اس دوران میاں ثاقب نثار نے حکم دیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عدالت میں پیش ہوں، وہ جب بھی یہاں آئیں ہم رات دو بجے تک یہی بیٹھے ہیں۔دوسری جانب چیف جسٹس نے ہسپتال کے فضلے کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کراچی اور لاہور کے ہسپتالوں کے حالات بہتر بنا دیئے، اب سیکریٹری صحت بتائیں کہ خیبرپختونخوا میں کیا صورتحال ہے۔

اس پر سیکریٹری صحت نے بتایا کہ صوبے میں کل 1570 ہسپتال ہیں، جن میں سے دو اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) نہیں ہے، جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ شام تک صوبے میں صحت کی سہولیات سے متعلق تفصیلات پیش کی جائیں۔

میڈیکل کالج کی زائد فیس واپس کرنے کا حکم

بعد ازاں چیف جسٹس نے پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا اور نجی میڈیکل کالج الرازی کا دورہ کیا، جہاں مریضوں اور طلباء نے اپنے مسائل بتائے۔میڈیکل کالج کے دورے کے دوران چیف جسٹس نے طلباء سے استفسار کیا کہ ان سے کتنی فیس وصول کی جاتی ہے، بچوں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ بتائیں، آپ کو یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔

اس دوران چیف جسٹس نے میڈیکل کالج کے پرنسپل کی سرزنش کرتے ہوئے میڈیکل کالج کا تمام ریکارڈ منجمد کرتے ہوئے طلباء سے زائد وصول کی گئی، فیس واپس کرنے کا حکم دیا۔

ہمارا کام قانون بنانا نہیں، اس پر عمل کرانا ہے، چیف جسٹس

علاوہ ازیں اپنے دورے کے دوران چیف جسٹس نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بنیادی تبدیلیاں قانون کے ذریعے آتی ہیں اور میں قانون بنانے والا نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کرانے والا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں انصاف فراہم کرنے والے لوگ بیٹھے ہیں اور یہ ججز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر کسی کو انصاف فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ انصاف تول کر دیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص صدقِ دل سے معافی مانگ لے تو اسے معاف کردینا چاہیے اور ملک میں ہر کسی کو انصاف فراہم کیا جائے گا اور کسی سے ناانصافی نہیں ہوگی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ لوگ تنقید کرتے ہیں کہ ہم فیصلے جلد نہیں کر رہے لیکن میں بتایا چاہتا ہوں کہ اس نظام میں مشکلات ہیں اور میں اکیلا اس نظام کو ٹھیک نہیں کرسکتا، اس میں مجھے تمام ہائیکورٹس کی حمایت ملنی چاہیے اور ہائیکورٹس کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جلد انصاف فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ میرے چیف جسٹس بننے کے بعد 225 کیسز پرانے تھے اور میں یہ پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ میں نے روز 10 ،10 مقدمات نمٹائیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 1861 کا قانون کا تبدیل نہیں ہوا تو اس کی ذمہ داری سپریم کورٹ نہیں ہے اور ریاست نے ججز اور عدالتوں کی تعداد بڑھانے کو ترجیح نہیں دی تو اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں لیکن میں اور میرے دیگر ساتھی اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ ان کے پاس جو مقدمات لگے ہیں، انہیں جلد مکمل کریں۔

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بار کونسلز کو بھی ہمارے اس جہاد میں وہی رول پیدا کرنا پڑے گا اور ہمیں ایک جسم بن کر ایک دوسرے کی حمایت کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں نظام درست نہیں ہے اور جب ایک شخص کو وقت پر انصاف نہیں ملتا تو اسے اتنی ہی تکلیف پہنچتی ہے، جتنی تکلیف ایک بیمار کو ہسپتال میں دیکھنی پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا میں نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے کہا ہے کہ مجھے ایسی تجاویز دیں، جس کے تحت جلد انصاف کی فراہمی ہوسکے اور اس کے لیے مجھے سب کا تعاون درکار ہے۔

دریں اثناء پشاور میں جوڈیشل اکیڈمی میں مختصر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ انصاف کرتے ہوئے خوف کو نکال باہر پھینکیں کیونکہ خوف کے ساتھ انصاف فراہم نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا دنیا کے آئین میں عدلیہ اہم ستون ہے اور اس کے بغیر رسایت کا وجود ممکن نہیں جبکہ سپریم کورٹ فیصلے کی آخری جگہ ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انصاف فراہم کرنا ججز کی ذمہ داری ہے اور ایک جج کے لیے قانون کا جاننا ضروری ہے کیونکہ اگر قانون کا علم نہ ہو تو صحیح فیصلے نہیں ہوسکتے اور ہمارے دین نے بھی اںصاف پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے، نظام میں کچھ مشکلات ہیں لیکن تنہا اس نظام کو درست نہیں کرستا، اس کے لیے سب کی حمایت کی ضرورت ہے۔

میاں ثاقب نثار سفارش کی بنیاد پر انصاف نہیں کریں کیونکہ جن لوگوں کے لیے آپ یہ کام کریں گے کل کو وہ روز محشر آپ کی سفارش نہیں کرسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک مشن پر چل رہے ہیں کہ ہم نے جلد انصاف فراہم کرنا ہے لیکن سستا انصاف کی ذمہ داری ہماری نہیں کیونکہ وکیل لاکھوں روپے فیس لے کر آجائیں تو یہ ہمارا قصور نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایماندار اور مخلص جج کے لیے انصاف فراہم کرنا سب سے اہم ہے اور مجھے امید ہے کہ آئندہ نسل کے لیے یہ مشعل راہ بنے گی۔