سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا طیارہ پاکستانی حدود میں پہنچ گیا ہے۔

پاک فضائیہ کے ایک بیان کے مطابق ایف 16 اور جے ایف 17تھنڈر طیاروں نے شاہی طیارے کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ یہ طیارے معزز مہمان کے طیارے کے دائیں اور بائیں جانب فار میشن میں پرواز کرتے ہوئے انہیں بحفاظت منزل مقصود تک پہنچائیں گے۔

اس سے تھوڑی دیر پہلے سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر راولپنڈی کے نور خان ائیر بیس پہنچے جہاں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا۔ اس وقت نور خان ائیر بیس پر سعودی وفد کے 11 طیارے پہنچ گیے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا طیارہ راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس پر کچھ دیر میں پہنچے گا جہاں ان کا خیر مقدم کرنے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے چند وزرا پہلے سے موجود ہوں گے۔ وہاں سے انھیں وزیرِ اعظم ہاؤس لے جایا جائے گا جہاں سعودی ولی عہد کو گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا۔

اپریل 2017 میں ولی عہد کا درجہ ملنے کے بعد یہ ان کاپاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ پاکستان اس دو روزہ دورے کے حوالے سے بہت پرامید ہے۔ سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد پر اربوں ڈالرز کی مختلف تجارتی اور غیر تجارتی شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد پاکستانی وزیرِ اعظم کے دعوت دینے پر پاکستان آئے ہیں۔ سعودی ولی عہد ایسے وقت میں پاکستان آرہے ہیں جب پاکستان معاشی طور پر اپنے قریب ترین اتحادیوں کی مدد چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بہت ہی مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ جہاں عمران خان قریب ترین اتحادیوں کی معاشی مدد چاہتے ہیں وہیں محمد بن سلمان یمن میں ہونے والی جنگ اور صحافی جمال خاشقجی کی اپنے ہی سفارتخانے میں قتل کے بعد دنیا بھر میں سعودی عرب کا ایک اچھا رُخ دکھانا چاہتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ 20 ارب ڈالرز سے زائد کے آٹھ ایم او یوز پر دستخط ہوں گے۔

ان میں سے سب سے اہم ترین گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام ہے جس میں سعودی عرب کی طرف سے 8 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی یاداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے ایک روز پہلے بلوچستان اسمبلی میں اراکین کو اعتماد میں لینے کی قرارداد منظور کرلی گئی ہے جس کے دوران بلوچ بیشنل پارٹی کے رکن ثنا بلوچ نے کہا کہ معاہدہ کرتے وقت باہمی مفادات کے ساتھ ساتھ اجتماعی مفادات کو بھی مدِ نظر رکھا جائے۔

وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہردی نے بتایا کہ “پاکستان پہنچتے ہی سعودی ولی عہد سب سے پہلے وزیرِ اعظم ہاؤس جائیں گے جہاں وہ سپریم کوارڈینیشن کونسل کی میٹنگ میں حصہ لیں گے۔ یہاں پر وزیرِ اعظم اور سعودی ولی عہد اعلامیہ پر دستخط کریں گے۔ جس کے بعد وزیرِ اعظم خان محمد بن سلمان کے اعزاز میں ضیافت دیں گے۔

ولی عہد کے ہمراہ شاہی خاندان کے اراکین کے ساتھ ساتھ سعودی وزرا بھی شامل ہیں۔ دو روزہ دورے کے دوران مشرقِ وسطی اور افغانستان کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔