سعودی عرب میں ریستوران مرد وخواتین کے لئے الگ راستے رکھنے کے پابند نہیں

جدہ کے ایک ریستوران میں مردوں کے لیے مخصوص دروازے سے ایک شخص باہر نکل رہا ہے:

سعودی عرب کی وزارت بلدیات ودیہی امور نے ریستورانوں اور قہوہ خانوں میں علاحدہ فیملی داخلی راستوں کی پابندی ختم کردی ہے۔

العربیہ انگلش کے مطابق وزارت بلدیات و دیہی امور نے سکولوں، ریستورانوں، اسپتالوں اور تفریحی مراکز کے حوالے سے 12 شرائط میں ترامیم کی ہیں۔ وزیر بلدیات ودیہی امور ڈاکٹر ماجد عبداللہ القصبی نے اس کی منظوری دے دی۔ وزارت بلدیات نے، ریستورانوں، کیٹرنگ (مطبخ) اور دیگر کے لیے نئی شرائط مقرر کی ہیں۔

ریستورانوں اور کیٹرنگ (مطبخ) پر فیملی گیٹ الگ رکھنے کی پابندی اب نہیں ہوگی۔ گیٹ کی لمبائی کی جو شرط تھی اسے بھی ختم کردیا گیا۔ مطبخ بالائی منزلوں پر قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاہم سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں۔

شادی گھروں، استراحات کے لیے فاصلے کی شرط ختم کرکے ان کی زمرے بندی کردی گئی۔ اے گروپ میں ایک شخص کے لیے کم از کم 10مربع میٹر کی جگہ ہو اور گروپ بی میں 8 مربع میٹر کی جگہ لازمی قرار دی گئی ہے۔ شادی گھر کمرشل اسٹریٹ پر قائم کیے جانے ضروری ہیں۔

تفریحی سرگرمیوں کے لیے بھی ضابطے جاری کیے گئے ہیں۔ سینما گھر بھی کمرشل سٹریٹ پر ہونا ضروری ہیں۔ تفریحی سرگرمیوں کے لیے رقبے کی شرط نہیں رکھی گئی۔

وزارت بلدیات اور دیہی امور میں انچارج برائے تکنیکی امور ڈاکٹر خالد بن محمد الجماز کے مطابق ترامیم کا مقصد سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں ترامیم کی گئی ہیں۔

العربیہ