سعودی صارفین نے ان دنوں سوشل میڈیا پر ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایک مہم چلا رکھی ہے۔ مہم کا مقصد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر ترکی کے نقطہ نظر کی مذمت کرنا ہے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم سعودی شہریوں کی اس مہم کا ہدف ترک صدر رجب طیب اریردوآن ہیں جن کی پالیسیوں پر مہم کے منتظمین ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم کا ہیش ٹیگ عنوان ’’سعودی عوام ترک مصنوعات مسترد کرتے ہیں‘‘ رکھا گیا ہے، جس میں عوام پر زور دیا گیا کہ وہ ترک مصنوعات خریدنے کے بجائے ان کی جگہ ’’دوست ملکوں‘‘ کی متبادل اشیاء خریدیں۔

سعودی بائیکاٹ مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کی مہم کا مقصد ’’ترک صدر کو سزا دینا ہے‘‘ جو ان کے بقول سعودی عرب کے خلاف منفی پالیسی رکھتے ہیں۔ ترک معیشت رواں سال بڑی حد تک گرواٹ کا شکار رہی، ایسے میں متعدد آن لائن صارفین سمجھتے ہیں کہ ایسی مملکت کی کیونکر مدد کی جائے کہ جو سعودی عرب کے خلاف منفی جذبات رکھتی ہو۔

مہم کے ہیش ٹیگ عنوان کے تحت گفتگو کرتے ہوئے ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’’ایردوآن خود سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘ ایک دوسری ٹویٹ میں ترک صارف نے اس رائے کا اظہار کیا ’’ کہ ترکی، سعودی عرب کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب سعودی، ترک مصنوعات کی سرپرستی کے ذریعے خود ترک مستقبل سنوار رہے ہیں۔‘‘

ایک اور ناراض صارف نے ترک مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انقرہ اس وقت سعودی عرب کے خلاف سازش میں مصروف ہے۔

متعدد آن لائن صارفین نے مہم کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک تصویر شائع کی ہے جس میں سعودی عرب کے اندر بکنے والی متعدد ترک مصنوعات کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔ مہم چلانے والوں نے ان ترک مصنوعات کو نہ خریدنے پر زور دیا ہے۔

ایک اور آن لائن صارف نے ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’’ترک مصنوعات خرید کر ہم دہشت گردی کی حمایت کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔۔۔ ہمیں ان مصنوعات کا آج ہی بائیکاٹ کر دینا چاہئے۔‘‘

 

 

غصے سے لبریز ایک اور ٹویٹ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’’چونکہ سعودی عرب کو ایردوآن کے سرکاری میڈیا کی جانب سے شدید اشتعال انگیز حملوں کا سامنا ہے؛ ہماری قومی ذمہ داری کا تقاضہ ہے کہ آئے روز کئے جانے والے ان حملوں کا جواب ترک مصنوعات کا مقاطعہ کر کے دیا جائے۔‘‘

ایک صارف نے بیس ملین سعودی شہریوں کی جانب سے ترک مصنوعات کے بائیکاٹ سے پیدا ہونے والی صورت حال کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ اقدام ایردوآن سمیت ان تمام لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہو گا کہ جو سعودی عرب اور اس کے عوام کو برانگیختہ کرنا چاہتے ہیں، ہمیں متحد رہنا چاہئے۔‘‘

al arabiah