سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ مملکت اور برطانیہ کو اعتدال پسند اسلام کے فروغ کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوتے ہیں تو وہ زیادہ محفوظ ہوں گے۔

انھوں نے یہ باتیں برطانیہ کے موقر اخبار دا ٹیلی گراف سے خصوصی انٹرویو میں کہی ہیں۔ منگل کو شائع شدہ اس انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات مشترکہ دفاع اور کاروباری مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کے اپنے قیام کے فوری بعد ہی برطانیہ سے تاریخی تعلقات استوار ہوگئے تھے اور یہ باہمی مفاد پر مبنی ہیں۔آج ہمارے برطانیہ کے ساتھ زبردست تعلقات استوار ہیں۔
انھوں نے کہا: ’’ اگر آپ کے سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار ہیں تو پھر برطانوی اور سعودی عوام کے علاوہ باقی دنیا بھی زیادہ محفوظ ہوگی ۔ انتہا پسند اور دہشت گرد اپنے ایجنڈے کو پھیلانے کے لیے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ہمیں اعتدال پسند اسلام کے فروغ کے لیے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

برطانیہ اور سعودی عرب کا ویژن 2030ء

شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے برطانیہ کے تین روزہ دورے سے قبل اس انٹرویو میں دونوں ممالک کے درمیان کاروباری مواقع کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے اورو ضاحت کی ہے کہ ’’ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ سعودی عرب کو عالمی معیشت کا حصہ ہونا چاہیے۔لوگوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی آزادی ہونی چاہیے اور ہمیں وہی معیار اپنانے کی ضرورت ہے جو باقی دنیا نے اختیار کر رکھے ہیں‘‘ ۔

انھوں نے کہا کہ ’’ بریگزٹ کے بعد برطانیہ کے لیے ویژن 2030ء کے تحت بڑے کاروباری مواقع موجود ہیں‘‘۔ وہ سعودی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے کثیر الجہت اصلاحاتی پروگرام کا حوالہ دے رہے تھے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’’ ہم معیشت کی ایسی نمو چاہتے ہیں جس سے پورے خطے کی ترقی میں مدد ملے گی۔سعودی عرب اپنی بالادست پوزیشن کے پیش نظر خطے میں اقتصادی کامیابیوں میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔

سعودی عرب میں تبدیلیاں

ولی عہد شہزادہ محمد نے سعودی عرب میں رونما ہونے والی سماجی تبدیلیوں کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ سعودی خواتین کو اب زیادہ آزادیاں اور حقوق دیے جارہے ہیں ،شہریوں کے لیے تفریحی مواقع پیدا کیے جارہے ہیں اور مملکت نے انتہاپسندی کے استیصال اور اعتدال پسند اسلام کے فروغ اور اس جانب لوٹنے کا عزم کررکھا ہے۔

انھوں نے کہا: ’’ سعودی عرب میں لوگوں میں بہت زیادہ تبدیلی رونما ہوچکی ہے اور اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ برطانیہ جیسے ممالک میں جب جاتے ہیں تو وہاں ایک مختلف طرزِ زندگی ملاحظہ کرتے ہیں‘‘۔

اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان برطانیہ میں قیام کے دوران میں وزیراعظم تھریزا مے سے بات چیت کریں گے اور خفیہ ایجنسیوں ایم آئی 5 اور ایم آئی 6 کے سربراہوں سے ملاقات کریں گے۔ انھیں برطانیہ کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

ایران اور قطر

انھوں نے انٹرویو کے دوران میں مشرق ِ وسطیٰ کی علاقائی سیاست پر بھی گفتگو کی ہے اور ان دعووں کو مسترد کردیا کہ سعودی عرب کی ایران اور قطر کے بارے میں پالیسیوں سے ایک نیا علاقائی تنازع جنم لے سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ’’ وہ برطانوی حکومت کے ساتھ مل کر ان مسائل کے حل کے لیے کام کررہے ہیں۔برطانیہ ایران اور دوسرے علاقائی ایشوز سے متعلق ہماری تشویش میں بڑا مددگار ہے اور اس نے تنازعات کے حل کے لیے ہمیشہ ہماری مدد کی ہے‘‘۔

انھوں نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ دنیا میں ہمارا انسانی حقوق کا کوئی بہت اچھا ریکارڈ نہیں ہے لیکن ہم صورت حال کو بہتر کررہے ہیں اور اس ضمن میں ہم نے بہت مختصر مدت میں بہت زیادہ فاصلہ طے کر لیا ہے‘‘۔

شہزادہ محمد بن سلمان برطانیہ کے تین روزہ دورے کے بعد فرانس جائیں گے اور پھر اس ماہ کے آخر میں امریکا کا دورہ کریں گے۔