سعودی شوریٰ کی 2 رکن خواتین نے 5 پابندیوں کیساتھ سعودی ماﺅں کی غیر ملکی اولاد کو شہریت دینے کی تجاویز پیش کی تھیں. مجلس شوریٰ نے ان پر بحث کی منظوری دیدی. ثریا عبید اور وفا طیبہ نے تجویز کیا کہ سعودی ماﺅں کی ایسی غیر ملکی اولاد کو سعودی

شہریت دیدی جائے جو مسلسل 10برس سے سعودی عرب میں مقیم ہو. بالغ ہو، تعلیم یا ماں باپ کے بیرون مملکت روزگار سے مجبوری کی ہی صورت میں سعودی عرب سے باہر گیا ہو اور سرکاری دستاویزات کے ذریعے مملکت سے باہر جانے کے مذکورہ اسباب کے ثبوت پیش کردے. ایک تجویز یہ دی گئی ہے کہ غیر ملکی سے شادی کرنے والی سعودی خاتون کی اولاد کو پیدائش کے فوری بعد ٹھیک

اسی طرح سعودی شہریت دیدی جائے جیسا کہ غیر ملکی خاتون سے شادی کرنے والے سعودی کی اولاد کو ولادت کے فوری بعد دیدی جاتی ہے. سوشل میڈیا پر مذکورہ تجاویز کی تائید و حمایت بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے. مثال کے طور پر عمیمہ الخمیس نے تحریر کیا کہ اگر مذکورہ تجویز منظور کرلی گئی تو یہ تاریخی ثابت ہوگی. اس کی بدولت سعودی خواتین کو حقوق کے باب میں بڑی

فتح حاصل ہوگی. سعودی عرب تمام عرب ممالک پر بازی لیجائے گا. مجلس شوریٰ نے ٹویٹر کے اپنے اکاﺅنٹ پر مذکورہ تجاویز کو قابل غور قرار دیا ہے. سلامتی کمیٹی سعودی قانون شہریت میں ترامیم کا جائزہ لیکر مفصل رپورٹ شوریٰ کو پیش کریگی پھر اس پر ہر پہلو سے بحث کرکے مناسب فیصلہ کیا جائیگا.