طالبان
Image captionملا برادر جب صحافیوں کے گروہ میں پھنس گئے تو ہر جانب سے مختلف زبانوں میں سوالات کیے جا رہے تھے، کوئی انگریزی میں تو کوئی پشتو، دری اور فارسی میں سوال داغ رہا تھا

قطر کے شہر دوحہ میں سفید شلوار قمیض میں ملبوس، سر پر پگڑیاں پہنے اور کاندھوں پر چادر رکھے طالبان رہنما ہر کسی کے مرکزِ نگاہ تھے جبکہ وہاں موجود بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کے لیے کسی بھی طالبان رہنما سے بات کرنا ہی بڑی خبر تھی۔

اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد مرکزی ہال سے باہر نکلے تو صحافی ان پر ایسے ٹوٹ پڑے کہ ملا بردار کے ساتھیوں کو دخل انداز ہونا پڑا۔

ملا برادر جب صحافیوں کے گروہ میں پھنس گئے تو ہر جانب سے مختلف زبانوں میں سوالات کیے جا رہے تھے، کوئی انگریزی میں تو کوئی پشتو، دری اور فارسی میں سوال داغ رہا تھا۔ کم گو ملا برادر دھیمی آواز میں جواب دیتے بھی رہے مگر صحافیوں کے شور کے باعث ان کی آواز سننا مشکل تھا۔

اس کے برعکس جب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو مرکزی ہال سے باہر آئے تھے تو فوٹو گرافرز نے ان کی تصاویر ضرور لیں تھیں مگر رپورٹرز ان کی جانب ایسے نہیں لپکے تھے جیسے ملا برادر کی جانب۔

شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث کسی بھی شخص کو مائیک پومپیو کے انتہائی قریب جانے اور بات کرنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔

مائیک پومپو نے امن معاہدے پر دستخط کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب تو کیا مگر اس میں شمولیت کے لیے بھی صرف تین سے چار صحافیوں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ انھی تین، چار صحافیوں نے سوالات کیے، نیوز کانفرنس ختم ہوئی اور مائیک پومپیو وہاں سے روانہ ہو گئے۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی اس تقریب کی ایک خصوصی بات یہ بھی تھی کہ ہال میں وہ طالبان اور امریکی رہنما صفِ اول میں تشریف فرما تھے جو گذشتہ 19 برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور افغانستان میں تشدد کے واقعات کا ذمہ دار ایک، دوسرے کو ٹھہراتے رہے ہیں۔

طالبان
Image captionقطر کے شہر دوحہ میں سفید شلوار قمیض میں ملبوس، سر پر پگڑیاں پہنے اور کاندھوں پر چادر رکھے طالبان رہنما ہر کسی کے مرکزِ نگاہ تھے

امن معاہدے پر دستخط کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ 19 برسوں میں بہت سارے امریکی فوجیوں، سکیورٹی اہلکاروں، افغان شہریوں اور بے گناہ لوگوں کا خون بہا ہے۔ انھوں نے بارہا اس بات کا تذکرہ کیا کہ اب طالبان افغانستان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

ملا عبدالغنی برادر نے پشتو زبان میں لکھی ہوئی اپنی تقریر ٹھہر ٹھہر کر کی۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں تمام متحارب گروہوں سے کہا ہے کہ اگر وہ سچے دل سے ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں تو وہ آگے بڑھیں اور ملک کی بہتری کے لیے اقدام کریں۔ انھوں نے قطر اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ امریکہ اور افغانستان کی اسلامی امارت کے درمیان کامیاب مذاکرات اور معاہدہ افغانستان کی ’مجاہد عوام‘ اور خطے کے لیے مثبت اقدام ہے جس کے باعث عوام اب سکون کا سانس لے سکیں گے۔

اس تقریب میں دو درجن سے زائد ممالک کے سفیر اور وزرائے خارجہ موجود تھے جبکہ بڑی تعداد میں عالمی مبصر اور اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ ملا برادر کی تقریر کے دوران اور اختتام پر وہاں موجود طالبان رہنماؤں نے زوردار آواز میں نعرہ تکبیر بلند کر کے تمام حاضرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔

حیران کُن بات یہ تھی کہ تقریب سے پہلے طالبان رہنما کسی سے بات چیت کرنے کو تیار نہیں تھے اور اگر کوئی صحافی پھر بھی بلند آواز میں سوال کر لیتا تو یہی جواب ملتا کہ ’سب خیر ہو جائے گا‘ اور یہ کہ ’یہ ایک تاریخی اور یادگار دن ہے۔‘

تاہم امن معاہدے پر دستخط ہونے کی تقریب کے بعد کچھ طالبان رہنماؤں نے صحافیوں سے بات چیت کی اور اپنا مؤقف سامنے رکھا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔

طالبان
Image captionامن معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل طالبان نماز ادا کر رہے ہیں

اس معاہدے کے تحت دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی، افغانستان سے امریکی اور دیگر ممالک کے فوجیوں کا بتدریج انخلا، افغان میں مذاکرات کے عمل کا آغاز، عبوری حکومت کے قیام اور سکیورٹی کے موضوعات پر بات چیت اور دیگر تمام مسائل کے حل کے لیے اقدامات بتائے گئے ہیں۔

طالبان رہنماؤں سے جب پوچھا گیا کہ آخر اس 19 سالہ جنگ میں کس کی جیت اور کس کی ہار ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ تو صحافی کریں گے مگر ان (طالبان) کے خیال میں یہ طالبان کی فتح ہے کیونکہ طالبان تو مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار تھے امریکہ مذاکرات نہیں چاہتا تھا اور اب اگر امریکہ نے مذاکرات کر کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں تو یہ طالبان اور افغان عوام کی فتح ہے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ وہ افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ طالبان تو ’لبریشن‘ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ حکومت کا حصول نہیں چاہتے، تو ایسے میں وہ اس دھڑے کی حکومت کو کیسے تسلیم کر لیں جو امریکہ کے بل بوتے پر اقتدار میں آیا ہے۔

اس تقریب میں افغان حکومت کے نمائندوں کی کوئی بظاہر بڑی شرکت نظر نہیں آئی اور نا ہی انڈیا کی جانب سے کوئی بڑی شحصیت اس تقریب میں شریک تھی، اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے بھی کوئی خاص نمائندگی نظر نہیں آئی۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس تقریب میں موجود تھے۔ قطر اور امریکہ کے وزرائے خارجہ اور طالبان رہنما نے اپنی اپنی تقریروں میں پاکستان کے کردار کو خاص طور پر سراہا اور کہا کہ اس معاہدے کے لیے پاکستان کو کوششیں نمایاں رہی ہیں۔

بی بی سی اردو