وفاقی حکومت نے ملک کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سمیت ان 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے اکاؤنٹس سے الزام کے مطابق اربوں روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ممالک بھجوائے گئے ہیں۔

اس بات کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں جمعرات کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

 

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس رپورٹ میں شامل تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں گے۔

آصف علی زرداری
آصف علی زرداری ا ور ان کی ہمشیرہ ان دنوں عبوری ضمانت پر ہیں

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق اس فہرست میں آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اومنی گروپ کے علاوہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان اور شیئر ہولڈروں کے نام بھی شامل ہیں۔

آصف علی زرداری ا ور ان کی ہمشیرہ ان دنوں عبوری ضمانت پر ہیں جبکہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور ان کا بیٹا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور ان افراد نے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کر کے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات آصف علی زرداری کو شامل کیے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔ اُنھوں نے کسی بھی سیاست دان کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر کوئی بھی احتساب کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا تو اُنھیں جلد ہی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔

آصف علی زرداری
الیکشن کمیشن نے آصف علی زرداری کی نااہلی سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے وفاقی وزیر اطلاعات سے سوال کیا کہ کیا آصف علی زرداری دسمبر سے پہلے گرفتار ہونے جا رہے ہیں جس پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ’ اللہ کرے ایسا ہو۔‘

واضح رہے کہ فواد چوہدری پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی میں تھے اور میڈیا پر ہر معاملے پر وہ اس جماعت کا تحفظ کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حزب مخالف کی دیگر جماعتیں موجودہ حکومت کے احتساب کے عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل یکطرفہ ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر آصف علی زرداری کو گرفتار کیا گیا تو ملک میں ’دمادم مست قلندر‘ ہوگا ا ور ملکی حالات خراب ہونے کی ذمہ داری حکمراں جماعت پر ہو گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آگرصرف شیریں رحمان خود احتجاج کے لیے نکل آئیں تو بڑی بات ہو گی۔

اُنھوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پیسے لوٹے گئے ہیں اُنھی لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ ان کے حق میں احتجاج کریں۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ لوٹ مار بچانے کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر داخلہ کا قلمدان وزیر اعظم عمران خان کے پاس ہے اور سابق حکومت کے دور میں کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق موجودہ حکومت اس پالیسی کو تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ کے دو ارکان قومی اسمبلی کے نام بھی ای سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے پاکستان میں تشدد کر اکسانے کے بیانات پر برطانیہ کی حکومت سے رابطہ کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرے گی۔

اُنھوں نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم کا ایک گروپ جنوبی افریقہ میں بھی بیٹھ کر پاکستان میں پرتشدد کارروائیاں کروا رہا ہے اور اس کو روکنے کے لیے جنوبی افریقہ کے حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن نے سابق صدر آصف علی زرداری کی نااہلی سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔ سابق صدر کی نااہلی کی درخواست پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے دائر کی تھی۔

https://www.bbc.com/urdu/pakistan-46694026?ocid=socialflow_facebook