اسلام آباد : وزیرمذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ ریاست مدینہ کا مطلب لوگوں کوخوشحالی دیناہے،مفت حج کروانانہیں، کابینہ کاحصہ ہوں ناراضی کا تاثرغلط ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرمذہبی امور نور الحق قادری نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا سینیٹ اجلاس کیلئے بلایاگیا تھا اور میں حاضرہواہوں، ریاست مدینہ کا مطلب لوگوں کو خوشحالی دینا ہے، ریاست مدینہ کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کومفت حج کراؤں، میں حج پرضرورجاؤں گااورانشااللہ اپنےخرچے پر جاؤں گا۔

نورالحق قادری کا کابینہ سے ناراضی کا تاثرغلط قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کابینہ کاحصہ ہوں میں کیسےناراض ہوں گا، ایک فون کال کیلئے کابینہ کےاجلاس سے باہر گیا تھا، جسے ناراضی ظاہرکیا گیا۔

وزیرمذہبی امور نے کہا قبائلی علاقوں میں کابینہ کےاجلاس کامطلب احساس دلاناتھا، اجلاس سےقبائلیوں کاصوبائی حکومت پراعتمادبڑھاہے، خیبر میں کابینہ اجلاس سے لوگوں کوان کی اہمیت کااحساس دلایاگیا۔

آج ہونے والے سینیٹ اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے حج اخراجات میں اضافے کو عازمین پر ڈرون حملہ قرار دیتے ہوئے کہا گزشتہ دن حکومت نےحج پالیسی کا اعلان کیا ، کابینہ کی جانب سےحج پالیسی پرسبسڈی نہیں دی گئی ، رواں برس حج اخراجات میں 1 لاکھ 76ہزار اضافہ کیاگیا، وزارت مذہبی امور نے 45ہزار روپے سبسڈی کی درخواست کی، حکومت نے اپنے وزیر کی بات نہیں مانی۔

مشتاق احمد نے خطاب میں کہا گزشتہ سال سرکاری حج کےاخراجات 2لاکھ 80 ہزار تھے ، رواں برس قربانی کے اخراجات ملاکر 4لاکھ 56ہزار آئیں گے۔

وزیرپارلیمانی امورعلی محمد کا کہنا تھا کہ حج کے70فیصداخراجات سعودی عرب میں پہلےاداکیےجاتےہیں، سعودی عرب جو اضافہ کرتا ہے اس پر ہمارا اختیار نہیں، سعودی عرب نے سفر، رہائش ، کھانے پینے کے اخراجات میں اضافہ کیا، گزشتہ حکومت نے الیکشن کے لیے حج اخراجات میں اضافہ نہیں کیا، اخراجات کی مد میں جو نقصان ہوا وہ بوجھ ہم پر پڑا، کوشش کریں گے حجاج کو جتنا ریلیف ہو سکے گا دیں گے۔

یاد رہے گذشتہ روز وفاقی کابینہ اجلاس میں قومی حج پالیسی 2019 کی منظوری دی گئی تھیا اور اس برس سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ پر واضح کیا تھا کہ رواں برس حجاج کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے، سہولتوں پرکسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔