عموی طور پر طوائف اُس عورت کو کہتے ہیں جس کا تعلق کسی کوٹھے سے ہو جہاں وہ غیر مردوں کو Entertainکرنے کے لیے ناچ گانا کرتی ہے اور اس کے بدلے پیسہ کماتی ہے۔ طوائف کو معاشرہ میں بُرا سمجھا جاتا ہے اور کوٹھے پہ جانے والوں کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ لیکن اگر کوئی خاتون طوائف کے برعکس جو ایک چار دیواری کے اندر اپنا دھندہ چلاتی ہے، ناچ گانے کے لیے اسٹیج کو استعمال کرتی ہے تو اُسے اسٹیج فنکارہ، اسٹیج آرٹسٹ یا پرفارمر کہا جاتا ہے۔ طوائف کے برعکس اسٹیج کی ایسی فنکارہ کو اُتنا بُرا نہیں سمجھا جاتا جتنا طوائف کو سمجھا جاتا ہے حالانکہ اسٹیج میں کھلے عام ٹکٹ خرید کر آنے والے تماش بینوں کے لیے وہی کچھ کیا جاتا ہے جو طوائف اپنے کوٹھے کی چار دیواری کے اندر موجود افراد کے لیے کرتی ہے۔ آرٹ کے نام پر ایک طبقے کی طرف سے پاکستان کے اسٹیج ڈراموں میں جس قسم کی گندگی پھیلائی جاتی ہے، اُس کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ اس کے بعد فلم کا شعبہ آتا ہے جس کی پہنچ بہت وسیع اور جس میں ایسی فلموں کی بھرمار نظر آتی ہے جن میں عورتوں کو اکثر ناچ گانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، نیم برہنہ اور فحش ڈانس چلائے جاتے ہیں، انتہائی قابلِ اعتراض سین جنہیں فلمی زبان میں ’’بولڈ سین‘‘ کہا جاتا ہے، فلمائے جاتے ہیں۔ اس سب کا مقصد بھی فلم بینوں کو Entertainکرنا ہوتا ہے۔ لیکن فلموں میں کام کرنے والوں کو فلم اسٹار کہا جاتا ہے۔ مرد فلم اسٹار کو ایکٹر اور ہیرو کہہ کر بلایا جاتا ہے جبکہ خاتون فلم اسٹار کو ہیروئن اور ایکٹریس کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ان کو میڈیا بھی ہیرو، ہیروئن بنا کر یوں پیش کرتا ہے کہ عام کیا، خاص لوگ بھی ان ’’فلمی ستاروں‘‘ کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں اس کے برعکس کوٹھے کی طوائف کے ساتھ کوئی تصویر بناکر دوسروں کو دکھانے میں فخر محسوس نہیں کرتا حالانکہ میرے نزدیک کام کی نوعیت ایک ہی ہے۔ کوٹھے، اسٹیج اور فلم (کی اکثریت) میں عورت کے ناچ گانے اور فحاشی کے ذریعے لوگوں کو Entertainکرکے پیسہ کمایا جاتا ہے۔

جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا کہ کوٹھا اور طوائف تو بہت بدنام ہیں لیکن جب فلم کی بات آتی ہے تو اس پر مختلف لوگوں کی اپنی اپنی رائے ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے کی اکثریت فلم اسٹارز کے ساتھ تصاویر بھی بنوا لے گی، فلم انڈسٹری کی ترقی کی بات بھی کرے گی اور ہر قسم کی فلمیں بھی دیکھے گی لیکن بہت کم لوگ اپنی بیٹے بیٹیوں یا بہن بھائیوں کے لیے مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ فلموں میں کام کریں یا وہ کچھ کریں جو فلموں میں بالخصوص خواتین اداکارائوں سے کروایا جاتا ہے۔ حکومت اور ٹی وی چینلز میں بیٹھ کر فلم اسٹارز کو رول ماڈل بناکر پیش کرنے والوں کی اکثریت بھی مخالفت پر اتر آئے گی اگر اُن کے گھر کی کوئی خاتون یا مرد فلموں میں کام کرنے کا فیصلہ کرلے۔ اکثر جو کچھ فلموں میں دکھایا جاتا ہے، بحیثیت مسلمان اور بحیثیت پاکستانی، وہ ہماری دینی اور معاشرتی اقدار کی نہ صرف نفی ہے بلکہ انہیں تباہ کرنے کا سامان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ عورت کا بدترین استحصال ہے۔ آرٹ کے نام پر اُس کے جسم، ناچ گانے کو بیچا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ کسی فرد کا نہیں بلکہ ایک ایسے شعبے کا ہے جہاں عورت کی بے حرمتی کرکے اُسے اور دیکھنے والوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ جیسے وہ کوئی بہت بڑا کام کر رہی ہے۔ کسی بھی فرد چاہے وہ اداکار ہو یا اداکارہ، کی کردار کشی،بہتان تراشی اور اس پر جھوٹے سچے الزامات لگانے سے گریز کیا جانا چاہئے لیکن وہ عمل جو فحاشی و عریانیت کے زمرے میں آتا اور جس سے معاشرہ گناہ اور برائی کی طرف گامزن ہوتا ہے، اُسے بُرا بھی کہنا چاہئے اور روکنے کی تدابیر بھی کرنا چاہئیں اور اس سلسلے میں سب سے اہم ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

حال ہی میں ایک پاکستانی فلمی اداکارہ کو یومِ پاکستان کے موقع پر صدرِ پاکستان نے تمغۂ امتیاز سے نوازا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے اس اداکارہ نے بہت عمدہ کام کیا۔ حکومت کے اس فیصلہ پر بہت شور مچا۔ سوشل میڈیا پہ اس اداکارہ کے ایسے فلمی ڈانس بھی شیئر کیے گئے جو انتہائی غیر مناسب بلکہ فحش تھے۔ لیکن میں عمران خان کی حکومت اور صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سے صرف یہ پوچھنا چاہوں گا کہ وہ ریاستِ مدینہ کو اپنا رول ماڈل کہہ کر اس عمل کو کیسے Justifyکریں گے؟ عمومی طور پر جو کچھ پاکستانی فلموں میں ہو رہا ہے یا اداکاروں، اداکارائوں سے کروایا جاتا ہے، کیا اُسے معاشرہ کے لیے قابلِ تقلید سمجھا جا سکتا ہے؟ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جس کا آئین بھی اسلامی ہے۔ یہاں مغرب اور بھارت کی نقالی میں وہ سب کچھ نہیں کیا جا سکتا جو اسلامی تعلیمات اور آئینِ پاکستان کی روح کے خلاف ہو۔ ماضی میں حکومتیں یہ سب کچھ کرتی رہیں لیکن اسلام اور ریاستِ مدینہ کا نام لینے والی حکومت سے اس کام کی توقع نہ تھی۔