خیبر پختونخوا میں وزراء کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے، ترکئی گروپ کھل کر سامنے آ گیا، ایم این اے عثمان ترکئی نے کھل کر تحفظات کا اظہار کر دیا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل خیبرپختونخوا کی کابینہ سے عاطف خان، شہرام ترکئی اور شکیل خان کو برطرف کر دیا گیا تھا، عاطف خان کے پاس سپورٹس اور کلچر کا قلمدان تھا جبکہ شہرام ترکئی کے پاس صحت اور شکیل احمد ریونیو کے وزیر تھے۔

دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عثمان خان ترکئی کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف سب کچھ ایک سازش کے تحت کیا گیا، سازشیوں کو موقع کی تلاش تھی جو انہیں مل گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختوانخوا میں اختلافات اور گروپنگ کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو غلط تصویر پیش کی گئی، ہم نے بھی پارٹی کے لیے قربانیاں دی ہیں، عمران خان ہمارے لیڈر ہیں ،ان پر اعتماد ہے۔

پی ٹی آئی ایم این اے کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سے تعلق ہے اور رہے گا، کوئی پریشر گروپ نہیں بنایا گیا، وزیراعلیٰ خود فیصلے نہیں کرسکتے ، وزیراعلیٰ چند مخصوص افراد سے مشاورت کرتے ہیں۔

عثمان ترکئی کا کہنا تھا کہ صوبائی ایم پی ایز اور وزراء کے پاس اختیارات نہیں ہیں، عاطف خان اور شہرام ترکئی کو صفائی کو موقع نہیں دیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عاطف خان کا کہنا تھا کہ سازش ہوئی ہے لیکن ہمارے خلاف ہوئی ہے۔ اب جو معاملات چل رہے ہیں پرویز خٹک کا ہاتھ لگتا ہے وہ نہیں چاہتے تھے میں وزیر بنوں۔ سازش کرنے والوں کا بھی پتا ہے لیکن ابھی نام نہیں لونگا۔

عاطف خان کا کہنا تھا کہ محمود خان کوعمران خان کی سپورٹ حاصل ہم کیسے ہٹاسکتے ہیں۔ ڈنر پر ہماری ملاقات کا مقصد وزیراعلیٰ کوہٹانا نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک کی کوشش تھی کہ میرے علاوہ کسی اور کو وزیر بنا دیں۔ اب جو معاملات چل رہے ہیں ان میں سابق وزیراعلیٰ کے پی کے اور موجودہ وزیر دفاع کا ہاتھ لگتا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کا کہنا تھا کہ پنجاب میں20ایم پی ایزنے بھی تحفظات کا اظہارکیا، ہم نے آج تک پارٹی کے خلاف کوئی بات نہیں کی، یہی چیزعمران خان نے سکھائی اگرکوئی چیزغلط ہو تو آواز اٹھاؤ پھرسازش کیسے ہوگئی؟

عاطف خان کا کہنا تھا کہ ٹی وی پردیکھا کہ مجھے ہٹادیا گیا، عمران خان سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ جب تحریک انصاف میں آیا اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی پورے پاکستان میں کونسلربھی نہیں تھا، عمران خان صاحب کوکہا تھا پارٹی میں کوئی عہدے کے لیے نہیں آیا تھا۔

موجودہ وزیراعلیٰ کے پی کے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں عاطف خان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچھا اورشریف آدمی ہیں، محمود خان کے اردگرد لوگ انہیں سازش کا کہتے تھے تاکہ ان کے قریب آجائیں، ایک شخص کا نام نہیں لونگا اس نے کہا آپ کی جتنی لڑائی ہوگی میری عزت بڑھے گی۔

برطرف کیے جانے والے شہرام ترکئی کا کہنا تھا کہ :وزیراعلیٰ کوہٹانے کی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ہم وزیراعلیٰ کے فیورٹ امیدوار تھے۔ ایشوز پر ناراضگی ہوتی ہے، گورننس کے ایشوہے،ہمارا موقف نہیں سنا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے جیسے لوگ سیدھی بات کرتے ہیں، سیدھی بات کرنے والوں کی اکثرپارٹیوں میں جگہ نہیں ہوتی۔ پی ٹی آئی میں چودہ سال محنت کی۔ ٹھیک اورغلط پراسٹینڈ لیتا ہوں۔

شہرام ترکئی کا کہنا تھا کہ پارٹی کے لوگوں نے ہماری لڑائی سے فائدہ اٹھایا، یہ ساری چیزیں چل رہی ہے،پوری فلم ہے۔ دس یا بارہ دفعہ وزیراعلیٰ کے پاس گئے،ہم نے کہا چیزوں کوٹھیک کریں سپورٹ کریں گے۔

واضح رہے کہ برطرف ہونے والے تیسرے صوبائی وزیر شکیل احمد کا نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پارٹی میں 7 سال ہو گئے، کبھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور نہ کریں گے، عمران خان نے ٹکٹ دیا اور وزیر بنایا۔ وزارت سے کیوں ہٹایا گیا پتہ نہیں جس نے ہٹایا، ان سے پوچھا جائے۔

شکیل احمد کا کہنا تھا کہ حیات آباد میں اجلاس کے لیے نہیں بلکہ ڈنر کے لیے گیا تھا، اس ڈنر میں شہرام تراکئی، عاطف خان اور دیگر 5,6 دوست موجود تھے۔

دنیا نیوز