دہشت گرد قرار دیئے جانے پر ذیشان کی تدفین سے ورثا کا انکار۔دھرن

نجی ٹی وی کے مطابق ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانے والے ذیشان کا اپنا مکان تھا اس نے آئی سی ایس کمپیوٹر سائنس کر رکھاتھا اور کمپیوٹر کا کاروبار کرتا تھا،وہ جمعیت اہل حدیث یوتھ ونگ کا رکن تھا۔

ذرائع کے مطابق ذیشان کا بھائی احتشام ڈولفن فورس کا اہلکار تھا جس کا ضمانتی ذیشان تھا۔

جمعیت اہل حدیث کے رہنما ہشام الہی ظہیر تعزیت کے لیے مقتول ذیشان کے گھرگئے جہاں انہوں نے ان کے اہل خانہ اظہار افسوس کیا۔

ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانے والے ذیشان کے اہل خانہ نے میت سپرد خاک کرنے سے انکار کردیا اورمیت رکھ کرفیروز پورروڈپردھرنادیدیا۔
ورثا کا کہنا ہے کہ حکومت دہشتگردی کاالزام واپس لے،جب تک الزام واپس نہیں لیا جاتا ، میت سپردخاک نہیں کریں گے۔
ساہیوال واقعےمیں جاں بحق ڈرائیورذیشان کی نماز جنازہ ادا کردی گئی،نماز جنازہ میں اہلخانہ اورشہریوں کی بڑی کی تعداد نے شرکت کی۔
اس سے قبل ساہیوال واقعےمیں جاں بحق خلیل،اسکی اہلیہ اوربیٹی کی نمازجنازہ اداکردی گئی جس میں اہلخانہ اورشہریوں کی بڑی کی تعداد نے شرکت کی، سانحہ ساہیوال میں جاں بحق میاں،بیوی اوربیٹی کی تدفین شہرخموشاں میں کی جائیگی۔