بعد ازاں ماں نے عدالت کو بھی بیان ریکارڈ کروایا کہ میرا بیٹا اور بیٹی ابوظہبی میں بطور میاں بیوی رہ رہے ہیں ۔اخبار ڈیلی الاتحاد کا کہنا ہے کہ ماں اس وقت اپنے بیٹے اور بیٹی کے درمیان شادی شدہ زندگی کا پول کھولنے پر مجبور ہو گئی جب اسے اس کے بیٹے نے گھر سے نکال دیا ۔

ان میں سے ایک شخص نے امریکہ کے ایک اخبارکوانٹرویودیتے ہوئے بتایاکہ ہم سب بھائی اپنی اکلوتی بیوی سے ہم بستری کرتے ہیںاورکوئی بھائی کسی دوسرے بھائی سے جیلس نہیں ہوتا.سخت قانون ہونے کے باعث قانونی طورپرسب سے بڑابھائی ہی اکلوتی بیوی کاشورہوتاہے.اورسب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کسی باپ کواپنے بچے اورکسی بچے کواپنے باپ کاپتانہیں ہوتا.اس شخص کاکہناتھاکہ یہ رواج ہمارے خاندان میں صدیوں سے چلاآرہاہے.

اورہم امیدکرتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں بھی اس رواج کواسی طرح نبھایاجائے گا.سخت قانون ہونے کے باعث قانونی طورپرسب سے بڑابھائی ہی اکلوتی بیوی کاشورہوتاہے.اورسب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کسی باپ کواپنے بچے اورکسی بچے کواپنے باپ کاپتانہیں ہوتا.اس شخص کاکہناتھاکہ یہ رواج ہمارے خاندان میں صدیوں سے چلاآرہاہے.اورہم امیدکرتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں بھی اس رواج کواسی طرح نبھایاجائے گا.

یہ ٹیچر ڈیرہ دبئی کے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتا ہے۔کمسن طالبعلم کی شناخت 11 سالہ ایل وائی کے نام سے ہوئی ہے جو ششم کلاس کی طالبہ ہے۔گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق کمسن طالبہ کے ٹیچرز اس کے رویے میں کافی دنوں سے تبدیلی محسوس کر رہے تھے جبکہ اس لڑکی نے اپنے ہم جماعتوں کو بھی بتایا کہ وہ عنقریب خود کشی کرنے والی ہے۔

طالبہ کی ماں کا کہنا ہے کہ سکول انتظامیہ نے مئی میں اس سے رابطہ کیا اور اس کے بدلتے رویے اور نفسیاتی دباﺅ کے بارے میں آگاہ کیا۔دلہن پر تشدد کرنے کیلئے ساس سسر کا ہزاروں کلومیٹر طویل سفر”سکول سے شکایت آنے پر میں نے اپنی بیٹی کی نگرانی شروع کردی، جس کے بعد مجھے احساس ہوا

کہ میری بیٹی کسی قسم کے دباﺅ میں ہے اور وہ ہر وقت اپنے جسم میں درد کی شکایت کرتی رہتی ہے۔ آخر کار 5 جولائی کو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ اس کا کمپیوٹر ٹیچر اسے واٹس ایپ پر سکول کے اوقات کے بعد فحش پیغامات بھیجتا ہے، ٹیچر نے بچی سے یہ فرمائش بھی کی کہ اپنے جسم کے مخصوص حصوں کی تصاویر اتار کر اسے بھیجے “۔

یہ انکشاف ہونے کے بعد بچی کے والدین نے سکول کے پرنسپل سے رابطہ کیا جس نے انہیں کمپیوٹر ٹیچر کے پاسپورٹ کی کاپی فراہم کردی تاکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ آیا ان کی بچی کو جنسی طور پر بھی ہراساں کیا گیا ہے یا نہیں، لیکن انہیں یقین ہے کہ واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے بچی کو نفسیاتی و زبانی طور پر ہراساں کیا جا رہا تھا۔

جنوبی امریکہ کے ملک ’پیرو‘ میں 9سالہ بچی کا پیٹ اچانک بڑھنے لگا مگر جب اس کی ماں پریشان ہو کر اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی تو اس نے ایسا انکشاف کر دیا کہ ماں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نے خاتون کو بتایا کہ اس کی کم سن بیٹی حاملہ ہے اور اس کا حمل 5ماہ کا ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اسقاط حمل بھی ممکن نہیں رہا۔جب ماں نے اپنی بچی سے اس حوالے سے پوچھا تو اس یہ انسانیت سوز انکشاف کیا کہ اس کا سوتیلا باپ ہی اسے درندگی کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ انسانیت سوز واقعہ پیرو کے شہر وینٹینیلا میں پیش آیا۔ بچی نے اپنی ماں لینا وائلیٹا جولکا ریوس کو بتایا کہ جب گھر کے سارے فرد اپنے اپنے کام پر گئے ہوتے تھے تب اس کا 30سالہ ایلمر سرگیو