جو لوگ ابھی تک لارڈ میکالے کے نظامِ تعلیم کا ماتم کرتے چلے آئے ہیں انہیں کچھ دیر کے لئے اپنے اس ماتم اور نوحہ و گریہ کو روک کر آج کے جدید نظام تعلیم کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔ ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے جس جدید مغربی تہذیب نے جنم لیا ہے‘ اس نے اپنی بقا کے لئے پوری دنیا میں یکساں نظام تعلیم مرتب کیا ہے۔ لارڈ میکالے کا نظام تعلیم دہرا معیار رکھتا تھا۔ حکمرانوں کے لئے علیحدہ اور محکوموں کے لئے مختلف۔ لیکن جدید نظام تعلیم کی لاٹھی نیو یارک سے سڈنی تک سب کو ایک ساتھ اور ایک طرح ہانکنے پر لگی ہوئی ہے۔ جدید مغربی تہذیب دراصل سودی معیشت پر استوار کارپوریٹ معاشرے کی تخلیق کا نام ہے اور یہ کارپوریٹ معاشرہ پوری دنیا کو ایک ملک‘ ایک شہر‘ بلکہ ایک محلہ سمجھتا ہے۔ یوں تو انسانوں کو رنگ‘ نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے لئے سرحدیں تخلیق کی گئیں اور ایک سرحد سے دوسری سرحد میں داخلے کے لئے پاسپورٹ‘ ویزا اور انٹری جیسی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ مگر دنیا بھر میں کام کرنے والی پینتالیس ہزار کارپوریشنوں کا جال پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور ان کے سرمائے کی ترسیل‘ منافع کا ایک جگہ جمع ہونا۔ مال بنانے میں یکسانیت ‘یہاں تک کہ اشتہارات میں بھی ایک طرح کے نعرے‘ سلوگن اور بسا اوقات ماڈل بھی ایک جیسے دنیا بھر میںدکھائے جاتے ہیں۔ یہ پینتالیس ہزار کارپوریشنیں جن کو 500پانچ سو بنیادی(Core) کارپوریشنیں کنٹرول کرتی ہیں اور ان پانچ سو بنیادی کارپوریشنوں کو 20بنک مصنوعی کاغذی کرنسی اور سودی کاروبار سے سرمایہ فراہم کرتے ہیں‘ اپنے وجود میں ایک عالمی استعماری ایجنڈا رکھتی ہیں۔ اس ایجنڈے کا بنیادی مقصد پوری دنیا کو ایک طرح کے معاشرے اور تہذیب میں ڈھالنا ہے۔ سڈنی اور فیجی آئی لینڈ سے لے کر ہوائی کے ساحلوں تک لوگ ایک طرح کے برگر کھائیں‘ پیزا چکن اور خوراک استعمال کریں۔ ایک طرح کے جوتے جینز‘ شرٹیں پہنیں۔ ایک طرح کی خوشبو استعمال کریں۔ میوزک بھی تھوڑی بہت زبان کے فرق سے ایک جیسا ہو‘ گھروں کے نقشے‘ رہائش کا سامان‘ کھیل اور کھلاڑی سب کے سب یونیورسل یعنی عالمی سطح پر یکساں ہونے چاہئیں۔ اس لئے کہ اگر دنیا بھر کے کھانے ‘ پہننے‘ اوڑھنے اور کھیلنے کا معیار اور مقصد ایک جیسا نہ ہوا تو ان کا مال نہیں بکے گا۔ صرف ایک بڑی مشہور برگر بنانے والی کارپوریشن کے دنیا بھر میں 36,899ریستوران ہیں اور روزانہ سات کروڑ گاہک وہاں آتے ہیں۔ ان ریستورانوں میں تقریباً چار لاکھ ملازمین ایک جیسا لباس پہنے‘ ایک جیسے بیج لگائے کھڑے ہوتے ہیں‘ آپ کسی بھی ملک کے ریستوران کے بیرونی یا اندرونی حصے کی تصویر کھینچ لیں‘ آپ کو اس میں اور کسی دوسرے ملک کے ریستوران میں فرق نہیں ملے گا۔ یہی عالم دوسرے برگر بنانے والوں‘ پیزا بیچنے والوں اور چکن فروخت کرنے والوں کا ہے۔ اس عالمی ماحول کو پیدا کرنے کے لئے بہت محنت اور تگ و دو کی گئی ہے اور اس کے لئے ان تمام سرمایہ داروں نے بہت بڑی بڑی فائونڈیشنز بنا کر دنیا بھر کو ایک ایسا نظام تعلیم عطا کیا ہے جو ان کارپوریشنوں کے لئے ایسے نوجوان تخلیق کرتا ہے جو اس کا ایندھن بن سکیں ۔یہ جدید تعلیمی نظام پوری دنیا میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے ذہن میں ایک طرح کے ہیروز کا تصور مضبوط کرتا ہے‘ ایک طرح کی اقدار روایات اور ماحول کو جنم دیتا ہے‘ ایک طرح کی طرز زندگی اور ماحول سے رغبت پیدا کرتا ہے اور اس نظام تعلیم سے نکلنے والے افراد مکمل طور پر اس جدید مغربی تہذیب جو اصل میں کارپوریٹ دنیا ہے۔ اس کے دلدادہ ‘ مداح ‘ رسیا اور اس کی عمارت کے چھوٹے سے پتھر بن جاتے ہیں۔ یہ جدید نظام تعلیم اچانک یا خود بخود نہیں بنا بلکہ اس کے لئے بہت محنت کی گئی ہے۔ کارپوریشنوں کے دارالحکومت امریکہ میں اس کا جنم ہوا۔1896ء سے 1920ء تک امریکی سرمایہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے اپنے قائم کردہ خیراتی اداروں کے ذریعے امریکہ کی تمام یونیورسٹیوں میں پروفیسروں کی اسامیوں ‘ تحقیقی سرگرمیوں اور خصوصاً ملک میں پھیلے ہوئے بے شمار سکولوں کو سرمایہ فراہم کرنا شروع کیا۔ لازمی تعلیم کا نعرہ بلند ہوا ‘اور امریکہ کے ہر بچے کو سکول بھیجنے کے لئے مہمات شروع کی گئیں۔1915ء تک یہ سرمایہ دار امریکی حکومت سے بھی زیادہ تعلیم پر خرچ کر رہے تھے۔ یوں راک فیلر (Rocke feller)اور کارنیگی(Carnegie)دونوں نے اپنے سرمائے کی مدد سے پورے امریکہ میں ایک سکول سسٹم ترتیب دے دیا۔ اس سسٹم کو اس خاموشی سے ترتیب دیا گیا کہ کسی ماہر تعلیم ‘ سیاست دان‘ دانشور یہاں تک کہ اساتذہ کو بھی اس کا علم نہ ہو سکا۔1920ء تک اپنی پوری شکل و صورت بنانے والا یہ نظام تعلیم آج مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔ جس طرح لارڈ میکالے کے نظام تعلیم نے اپنے سامنے یہ مقصد رکھا تھا کہ ہم ایسے افراد پیدا کریں گے‘ جو باہر سے دیسی ہوں اور اندر سے انگریز اور وہ ہمارے لئے بہترین کلرک یا محکوم خادم ثابت ہو سکیں۔ اسی طرح اس جدید نظام تعلیم کا مقصد ایسے افراد کو جنم دینا تھا جن کے مقاصد زندگی میں علم‘ تحقیق‘ اقدار و روایات نہیں بلکہ ذاتی زندگی کی کارپوریٹ دنیا میں کامیابی اہم ہو‘ وہ اس کا ایندھن بنیں اور اس سارے عمل میں خاندان ‘ معاشرہ‘ وطن‘ سب کچھ کو بھول جائیں۔ ایک ایسا روبوٹ بن جائیں جو صرف اپنے آپ سے غرض رکھتا ہے یا اپنی نوکری اور ادارے سے۔ یہ ہوائی باتیں نہیں ہیں۔1906ء میں راک فیلر ایجوکیشن بورڈ نے اس جدید تعلیم کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا تھا: In our dreams… People yield themselves with perfect docility in out molding hands.The present educational conventions (of intelluctual and moral education) fade from our minds, unhampered by traditions we work our own good will upon a gratiful and responsive folk. we shall not try to make there people or thier childern into philosphers or men of learning or men of science. we have not to raise up from among them authors, education,poets, or men of letters. ’’ہمارا خواب یہ ہے کہ لوگ جوق در جوق مکمل سپرداری کے ساتھ ہمارے ہاتھ ایسے آئیں جیسے سانچہ والے کے ہاتھ مٹی آتی ہے۔ موجودہ نظام تعلیم(جس میں دانائی اور اخلاقیات کی تعلیم) شامل ہے ہمارے دماغوں سے نکل جائے اور روایت کے بندھن سے آزاد ہم ان لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کریں جو خوشی سے چاہتی بھی ہو۔ ہمیں ان لوگوں یا ان کے بچوں کو فلاسفر یا سائنس کے ماہر نہیں بنانا۔ ہمیں اس تعلیم سے مصنف‘ ماہرین تعلیم‘ شاعر یا ادیب پیدا نہیں کرنے ہیں‘‘ یہ ایک طویل خط ہے جس کا مقصد صرف ایک ہے کہ اس نظام تعلیم کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ علم وہی حاصل کرو جسے مارکیٹ میں پیسوں کے ترازو میں تولا جا سکے۔ باقی تمام علم بیکار ہیں خواہ وہ تمہیں اخلاق سکھائیں یا اقدار‘ شاعری پڑھائیں یا افسانہ نویسی‘ کائنات کے راز تم پر کھولیں یا مذہب کی حقانیت ‘یہ سب کے سب دنیا میں موجود پینتالیس ہزار کارپوریشنوں میں سے کسی کے کام کے نہیں‘ اس لئے یہ انسانیت کے لئے بھی لایعنی ہیں۔