انڈیا کے معروف مذہبی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند نے اپنے طلبہ کو ہندوستان کے یوم جمہوریہ کے موقعے پر سفر سے اجتناب کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

دارالعلوم دیوبند نے 20 جنوری کو ایک اعلان جاری کیا جس میں دیوبند کے طلبہ کو بلا ضرورت سفر سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

اعلان کے مطابق سکیورٹی کے پیش نظر ‘جگہ جگہ چیکنگ ہوتی ہے، اضطرابی کیفیت پیدا کی جاتی ہے، ڈر اور خوف کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے اس لیے بلا ضرورت سفر سے اجتناب کریں۔’

جب بی بی سی نے دارالعلوم سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس اعلان کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ سکیورٹی کے پیش نظر اپنے بچوں سے کہا گیا ہے۔

دارالعلوم کے ایک ذمہ دار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ‘گذشتہ کئی برسوں سے مختلف اوقات میں ایسی اپیل کی جاتی رہی ہیں۔ ملک کی صورت حال کے پیش نظر ایسا کیا جاتا ہے۔ اور ہم اسے میڈیا میں نہیں لے جانا چاہتے ہیں کیونکہ وہاں بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے۔’

دہلی کی معروف یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تاریخ کے پروفیسر رضوان قیصر نے کہا کہ ‘ملک میں عدم تحفظ کی صورت حال پر بہت سے لوگوں نے اظہار خیال کیا ہے لیکن جب کوئی مسلمان اظہار خیال کرتا ہے تو بات بگڑ جاتی ہے۔’

اعلانتصویر کے کاپی رائٹSAMEER CHAUDHRI

اس کے لیے انھوں نے حال ہی میں اداکار نصیرالدین شاہ کی جانب سے آنے والے بیان کی مثال دی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں اپنے بچوں سے متعلق تشویش لاحق ہے۔

پروفیسر رضوان نے کہا کہ دیوبند کا ہندوستان کی آزادی میں غیر فراموش کن کردار رہا ہے اور اس کا اپنے بچوں سے سکیورٹی کے پیش نظر ایسا کہنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ‘ایسے مواقع پر ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہوتی ہے اور پھر مدرسے کے طلبہ پر ان کے لباس اور وضع قطع کے پیش نظر شک کا ماحول پیدا ہوتا ہے، اس لیے بلاوجہ پریشانی سے بچنے کے لیے ایسا اعلان حیران کن نہیں۔ اسے کوئی دوسرا مطلب ہرگز نہ لیا جائے۔’

 

 

 

تاہم دیوبند کے رہائیشی اور اردو اخبار کے ایک صحافی سمیر چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قسم کے اعلان پہلے بھی آئے ہیں اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے لیکن ‘اگر میری ذاتی رائے پوچھیں تو میں یہی کہوں گا کہ ماحول میں کشیدگی آئی ہے اور سفر کرنا پہلے کی طرح محفوظ نہیں رہا۔’

دیوبند کے باہر کا منظرتصویر کے کاپی رائٹAFP

انڈیا کے اخبار دی ٹیلیگراف نے دیوبند کے سینيئر استاد مولانا منیرالدین عثمانی کے حوالے سے لکھا: ‘قومی اہمیت کی تقریبات کے دوران پولیس اور حکام سکیورٹی انتظامات بڑھا دیتے ہیں۔ ماضی میں ہمارے طلبہ کو حراساں کیا گیا ہے، یہاں تک کہ ان پر حملہ بھی کیا گيا۔ اس لیے انھیں ناگزیر سفر کے دوران بھی انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا گيا ہے۔’

دارالعلوم دیوبند کے فارغ اور تبلیغی جماعت کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے عالم اور سکالر مولانا راشد کاندھلوی نے کہا کہ احتیاط برتنا اہمیت کا حامل ہے لیکن صورت حال تشویشناک نہیں ہے۔

جبکہ صحافی رعنا ایوب نے سوشل میڈیا پر دیوبند کے متعلق خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اس سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے یوم جمہوریہ جیسے اعتماد بخش اور شاندار دن بھی ہندوستان کے ایک طبقے میں معمول کی زندگی گزارنے میں بھی خوف کا عالم ہے۔’