ہندوستان میں دارالعلوم دیوبند نے رمضان المبارک کے دوران باجماعت نماز اور تراویح گھروں میں ادا کرنے کا فتویٰ جاری کردیا ہے۔

دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے تفصیلی فتویٰ میں اجتماعات سے سختی سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی، فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران سماجی فاصلے پر عمل کرنا ضروری ہے اسی لیے مساجد میں امام، موذن سمیت 5 افراد سے زائد نماز ادا نہ کریں، لوگ اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے عبادات کریں۔

دارالعلوم دیوبند کے اس فتویٰ کی جمیعت علماء اور علماء دیوبند نے تائید کرتے ہوئے لوگوں سے اس فتویٰ پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

جمیعت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ صورتحال بہت گھمبیر ہوتی جارہی ہے اور بھارت میں بھی یہ مرض بڑھتا چلا جارہا ہے، اس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ جیسے ہم گھروں میں اپنی دیگر عبادات کرتے ہیں رمضان المبارک میں خاص طور پر تراویح کا اہتمام بھی ویسے ہی گھروں میں کیا جائے، مسجد کے اندر امام ، موذن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 2،3 نمازی باجماعت نماز ادا کریں۔

عالم دین قاری اسحاق کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے باعث لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ گھروں میں ہی عبادات کا اہتمام کریں ، فتویٰ میں تفصیلی طور پر بتایا گیا ہے کہ گھروں میں کیسے نماز تراویح کا اہتمام کیا جاسکتا ہے، اور جہاں انتظامیہ کی جانب سے مساجد میں 5 افراد کے نماز کی ادائیگی کی اجازت ہے وہاں قرآن پاک کی تلاوت کا زیادہ اہتمام کیا جائے تاہم سماجی فاصلے کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔