خیبر پختونخوا کے 3 وزرا کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے جن میں عاطف خان، شہرام ترکئی اور شکیل خان شامل ہیں، کے پی حکومت کی جانب سے برطرفیوں‌ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

خیبرپختونخوا میں تین اہم وزرا کوعہدوں سے ہٹا ئے جانے پر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ یہ ایکشن پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر لیا گیا، اگر پارٹی میں جزا و سزا کا عمل نہ ہو تو ہر کوئی پارٹی کے خلاف بیان بازی کرتا رہے گا، یہ دوسروں کیلئے مثال ہے کہ قواعد و ضوابط کا خیال رکھا جائے ، ایسے باتوں سے جماعت کا بیانیہ کمزور اور مخالفین کو فائدہ پہنچے گا 

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے برطرف ہونے والے کے پی حکومت کے وزیر شکیل احمد کا کہنا تھا کہ پارٹی میں 7 سال ہو گئے، کبھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور نہ کریں گے، عمران خان نے ٹکٹ دیا اور وزیر بنایا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت سے کیوں ہٹایا گیا پتہ نہیں جس نے ہٹایا، ان سے پوچھا جائے۔
شکیل احمد کا کہنا تھا کہ حیات آباد میں اجلاس کے لیے نہیں بلکہ ڈنر کے لیے گیا تھا، اس ڈنر میں شہرام تراکئی، عاطف خان اور دیگر 5,6 دوست موجود تھے۔
 

 کابینہ بدر کئے گئے وزرا میں عاطف خان، شہرام ترکئی اور شکیل خان شامل ہیں، عاطف خان کے پاس سپورٹس اور کلچر کا قلمدان تھا جبکہ شہرام ترکئی کے پاس صحت اور شکیل احمد ریونیو کے وزیر تھے۔

 وزیراطلاعات سندھ شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ہٹائے گئے وزراء گروپنگ میں ملوث تھے، ان کی طرف سے یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی گئی کہ وزیراعلیٰ اہل نہیں اورکام نہیں کرتے، حالانکہ فاٹا انضمام وزیراعلی محمود خان کا کارنامہ ہے اور ان وزرا نے فاٹا انضمام میں بھی تعاون نہیں کیا۔ وزیراطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے اظہار ناراضی کیا۔

  معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کے پی وزرا کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ہٹایا گیا،اگر پارٹی میں جزا و سزا کا عمل نہ ہو تو ہر شخص پارٹی کے خلاف بیان بازی کرتا رہے گا،یہ دوسروں کیلئے مثال ہے کہ پارٹی قواعد و ضوابط کا خیال رکھا جائے۔