خیبر پختونخوا میں چین سے پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس کا پہلا مشتبہ کیس سامنے آیا ہے۔ضلع سوات کے علاقے اوڈیگرام سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ بائیو میڈیکل انجینئر یاسر میں کورونا وائرس کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے جس کا چین آنا جانا لگا رہتا تھا۔محکمہ صحت کے پی کے مطابق یاسر کا علاج کے باوجود بخار اور زکام ٹھیک نہیں ہو رہا تھا جب کہ اس کے خون کے سفید خلیوں (وائٹ سیلز) میں کمی آ رہی تھی جس پر یاسر کو سیدو شریف ٹیچنگ اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا۔محکمہ

صحت نے بتایا کہ مریض یاسر کے نمونے قومی ادارہ صحت اسلام آباد بھجوا دیئے گئے ہیں۔ کورونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اکرام شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں اسپتال میں ہنگامی بنیادوں پر 10 بستروں پر مشمتل آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ مریض یاسر چین کا سفر کرتا رہا ہے جو دو ماہ کے دوران جنوبی وزیرستان، لاہور اور کرک کا دورہ بھی کر چکا ہے۔دو روز قبل کراچی کے علاقے لیاری کا رہائشی ارسلان بھی چینی شہر ووہان سے بخیرو عافیت اپنے گھر واپس پہنچا تھا جس میں کورونا وائرس کی علامات نہیں پائی گئیں تاہم اس کے خون کے سیمپلز بھی قومی ادارہ صحت اسلام آباد بھجوائے گئے ہیں

Source