وہ کہ جن کا سارا کاروبار سیاست و معیشت ہی غریب و پسماندہ ملکوں کو سودی قرضوں میں جکڑنے سے چلتا ہو‘ جنہوں نے آئی ایم ایف‘ ورلڈ بنک اور تجارتی بنکوں کے ذریعے پوری دنیا کو یرغمال بنایا ہو‘ اس مغربی دنیا کی عالمی طاقت امریکہ کا نائب صدر مائیک پینس(Mike pence)اچانک تڑپ کرکہتا ہے کہ سری لنکا کی مثال ان تمام ملکوں کے لئے ایک وارننگ ہے جو ایک بیلٹ ایک روڈ کے منصوبے کا حصہ ہیں‘ کیونکہ چین انہیں قرضوں کے جال (debt trap)میں پھنسا رہا ہے۔ چین نے اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کے لئے قرضوں کی سفارت کاری(debt Diplomacy)کا استعمال کیا ہے۔ سری لنکا کی حکومت سے پوچھا جائے جس نے چین سے اتنا زیادہ قرضہ وصول کیا اور اس سے ایک قابل اعتراض کاروباری بندرگاہ کی تعمیر کی۔ یہ بندرگاہ یقینا ایک دن چین کی نیلے سمندروں کی بحریہ (Blue weter navy)کا ٹھکانہ (Base) بن جائے گی‘‘ امریکی نائب صدر کے یہ الفاظ اکتوبر میں گونجے تھے اور اس میں دراصل ایک بیلٹ ایک روڈ منصوبے کے سب سے اہم ملک پاکستان کے لئے وارننگ چھپی ہوئی تھی۔ یہی وارننگ تھی جس کا اگلا قدم صدر ٹرمپ کی دھمکیاں اور پاکستان کو دی جانے والی امداد پر پابندی کی صورت میں سامنے آیا۔ کیا امریکہ صرف اور صرف چین کی بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں سے خوفزدہ ہے۔ اس کا جواب مکمل طور پر نفی میں ہے۔

کیونکہ چین کا تجارتی حجم یا اس کی تجارت کے بازار امریکہ اور یورپ کے کاروبار کے ساتھ باہم شیر و شکر ہو کر چلتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ان تمام ممالک میں جو ایک بیلٹ ایک روڈ کے منصوبے سے منسلک ہو رہے ہیں‘ وہاں چین کا اثر ورسوخ اس قدر بڑھا کہ وہ اس کی فوجی قوت کا حصہ بن گئے تو پھر اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ سب کے سب اپنا تیل‘ معدنیات ‘ زرعی اجناس اور مصنوعات کا کاروبار چین کی کرنسی میں کرنے لگیں گے اور اگر ایک دفعہ ڈالر میں تیل کی فروخت ختم یا کم ہو گئی اور ڈالر سکہ رائج الوقت(hard Currency) کے طور پر قابل قبول نہ رہا تو پھر تو پاکستانی ایک روپے کے بھی بہت سے ڈالر ملنے لگیں گے۔ پیٹرو ڈالر اس ایک بیلٹ ایک روڈ منصوبے پر چلنے والی گاڑیوں کے پہیوں تلے کچلے جائیں گے۔ یہ ہے اصل خوف۔ صدیوں سے بنائے گئے عالمی مالیاتی نظام کے ڈوب جانے کا خوف۔ اس لئے کہ یہ سودی عالمی مالیاتی نظام فوجی قوت اور عسکری طاقت کے بل بوتے پر کھڑا کیا گیا ہے اور اگر مقابلے میں چین کی فوجی قوت ان ملکوں سے امریکہ کے خوف کو نکالنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ عمارت دھڑام سے گر جائے گی۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ خطرہ چین اور پاکستان کے اتحاد کا ہے جو عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق اب صرف معاشی نہیں رہ گیا بلکہ ایک دفاعی اتحاد بن چکا ہے اور اپنے اندر وہ تمام خطرات لئے ہوئے ہے جو خطے میں امریکی مفادات پر کاری ضرب لگا کر اسے خطے سے باہر بھی کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے اخبارات اب سی پیک منصوبے کو ایک جارحانہ دفاعی منصوبے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ بات حیران کن ہے کہ 2013ء میں سی پیک منصوبے کے اعلان سے پہلے چین نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت چین جنوبی ایشیا میں ایک ایسا سیٹلائٹ نیٹ ورک قائم کرے گا جس کے ذریعے پاکستان کو چین کے بیڈو نیوگیشن سسٹم تک رسائی حاصل ہو گی اور یہ سسٹم خطے میں امریکی GPS(جی پی ایس) کا متبادل ہو گا۔ چین کا بیڈو (Beidu)نیوگیشن سسٹم ایک بیلٹ ایک روڈ کے بنیادی (Core)مقاصد کا حصہ ہے۔ اس سسٹم کے ساتھ جب فوجی و عسکری قوت بھی منسلک ہو گئی اور چین نے ان تمام ممالک کو بھی اس سسٹم میں ڈھال لیا تو امریکہ کے لئے ان تمام ممالک کی فوجی نقل و حمل کی سیٹلائٹ سے نگرانی کرنا مشکل ہو جائے گی اور یہ ایک ایسا بلاک بن جائے گا جو امریکی دسترس میں نہیں ہو گا۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کو چین نے اس سسٹم میں شامل کر لیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے میزائلوں‘ جہازوں اور بحری جہازوں کو زیادہ درست اور براہ راست رہنمائی میسر آئے گی۔ امریکی صدر نے یوں تو پاکستان کی امداد روکنے کا اعلان اس لئے کیا تھا کہ پاکستان امریکی گروپ سے باہر نکلنے کا نہ سوچے‘ مگر اس اعلان کے صرف دو ہفتے بعد پاکستان کی فضائیہ اور چین نے ایک معاہدے پر عمل شروع کر دیا جس کے تحت پاکستان ان سہولیات اور اداروں کو وسعت دے گا جو چین کے فائٹر جیٹ بناتے ہیں۔ اب پاکستان کے اداروں میں فائٹر جیٹ کے ساتھ فضائی اسلحہ اور میزائل ہارڈ ویئر بھی بننا شروع ہو گا۔ امریکہ کے لئے خوفزدہ کرنے والی بات یہ تھی کہ پاکستان چین کے ساتھ خلا میں موجود سیٹلائٹ سسٹم کا بھی حصہ دار بن گیا ہے۔ چین کے خلائی نظام کا خوف اس وقت سے زیادہ شدید ہو گیا تھا جب سے چین نے اپنے ایک خراب ہونے والے سیٹلائٹ کو زمین سے ایک دوسرا سیٹلائٹ بھیج کر تباہ کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا

کہ اب خلا میں کوئی اور سیٹلائٹ بھی محفوظ نہیں ہے اور کوئی دوسرا ملک بھی وہاں موجود سیٹلائٹ کو اپنے سیٹلائٹ کے ذریعے تباہ کر سکتا ہے۔ یعنی اس دن سے خلا میں امریکی بالادستی خطرے میں پڑ گئی تھی۔ خلائی بالادستی کے خاتمے کا خوف اور بڑھ جاتا ہے کہ چین کے اس پروگرام کے تحت 2020ء تک 35سیٹلائٹ خلا میں داخل کر دیے جائیں گے۔ یہ سیٹلائٹ ایشیا‘ افریقہ اور مشرقی یورپ کے ممالک میں ایک ایسا نیٹ ورک قائم کر دیں گے جو لوگوں کو سبزی کی دکان تک جانے اور فوجوں کے میزائل داغنے تک پھیلا ہوا ہو گا۔ اسی 2020ء میں چین کی مدد سے پاکستان اپنا سیٹلائٹ بھی خلا میں بھیجے گا۔ اس بدلتی ہوئی صورت حال میں جہاں امریکی پریشان ہیں وہیں سب سے بڑی پریشانی بھارت کے لئے ہے جو ایک بیلٹ ایک روڈ کے منصوبے کو فوجی اور عسکری قوت میں تبدیل ہوتے دیکھ رہا ہے اور کچھ نہیں کر پا رہا۔ اس تبدیلی کے بعد اس کی خطے میں حیثیت کم تر ہو رہ جائے گی اور وہ کسی بھی وقت چھوٹی سی چھیڑ چھاڑ کے ساتھ یہ لمبی ہزیمت والی جنگ کا شکار ہو سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی حیثیت اور خطے میں عسکری اختیار اب بھارت کے لئے ایٹم بم سے کم نہیں۔ کس قدر سچ کہا تھا میرے آقا‘ مخبر صادق،سیدالانبیاء ﷺ نے، فرمایا تھا ’’سندھ کی خرابی ہند سے اور ہند کی بربادی چین سے ہو گی‘‘ یہ ایک طویل حدیث ہے جسے ابن الجوزی نے اپنی کتاب ’’روضۃ المشتاق والطریق الی الملک الخلاق‘‘ میں نقل کیا ہے۔ جسے پھر امام قرطبی نے اپنی کتاب تذکرہ میں بھی درج کیا ہے۔ اس حدیث کے راوی حضرت حذیفہ بن یمان ؓ ہیں۔ جن سے دور فتن کی بے شمار حدیثیں مروی ہیں۔ یہاں رسول اکرم ﷺ نے ملکوں کی خرابی کا ذکر کیا ہے۔ آپؐ نے قیامت تک دنیا کے لاتعداد ممالک میں خرابی کی وجوہات کا ذکر اس حدیث میں کیا ہے۔ اس میں سندھ جو کہ آج کا پاکستان ہے اس کی خرابی ہند یعنی بھارت سے ہو گی اور بھارت کی خرابی چین سے۔ جوں جوں دور فتن قریب آ رہا ہے میرے پیغمبر برحق ‘ ہادیٔ صادق کی پیش گوئیاں اپنی صداقت اور براہین کے ساتھ واضح ہوتی جا رہی ہیں۔