Image result for UAE COURT

خبردار! امارات میں یہ کام آپ کو جیل بھجوادے گا، جرمانہ بھی ہوگا

 

سائبر کرائم

 

 

دبئی: متحدہ عرب امارات کی عدالتوں میں سائب کرائم کے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے ، کسی بھی شخص کو سوشل میڈیا پر جارحانہ مواد بھیجنا بھی سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں نافذ قانون کے تحت کسی بھی شخص کو سوشل میڈیا پر توہین آمیز یا جارحانہ مواد بھیجنا جرم تصور کیا جاتا ہے اور اس میں معاملے کی سنگینی کے حساب سے جیل اور جرمانے کا تعین کیا جاتا ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطاقب جرمانے کی رقم زیادہ سے زیادہ دس لاکھ درہم تک ہوسکتی ہے جو کہ ایک خطیر رقم ہے اور ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا کی مدت میں اضافہ ہوجائے گا۔

Most Powerful and Strongest Passport Rank 2019 Index
حال ہی میں ابوظہبی میں ایک شخص پر اس کی منگیتر نے مقدمہ درج کرادیا جس کے نتیجے میں اسے دو ماہ کی جیل اور 20 ہزار درہم جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ اس کا جرم یہ تھاکہ اس نے اپنی منگیتر کو واٹس ایپ پر ’احمق ‘ کہا تھا۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ اس کی نیت خاتون پر اثر انداز ہونے کی نہیں تھی بلکہ اس نے ایسا مذاق میں کہا تھا۔

ایک اور کیس میں ایک شخص کو اپنی فرینڈ لسٹ میں شامل ایک خاتون کو اخلاق باختہ ویڈیو کلپ بھیجنا مہنگا پڑگیا، اس کا کہنا تھا کہ اس نے بھیجتے وقت کلپ دیکھا نہیں اور یہ اسے ایک ایسے شخص کی جانب سے بھیجا گیا تھا جو کہ زیادہ تر مذہبی مواد بھیجتا ہے۔

ماہر قانون حسن الریامی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا یا میسجنگ سروسز کے ذریعے کسی بھی قسم کا متنازعہ مواد بھیجنا، چاہے وہ جان بوجھ کر بھیجا ہو یا غلطی سے ، قابلِ سزا جرم ہے ۔

 

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے جاسوسی کے الزام میں قید ہونے والے برطانوی اسکالر میتھیو ہیجز کو معافی دے دی۔