وفاقی کابینہ نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دے دی ہے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وزیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان امور علی امین گنڈا پور سمیت کئی وزراء نے یوٹیلٹی اسٹورز پیکج کی مخالفت کی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی صورتحال پر غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں کابینہ نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دی جس کے بعد یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹا، گھی، دالیں، چینی اور چاول مارکیٹ سے 10 سے 25 فیصد کم ریٹ پر ملیں گے۔

وفاقی کابینہ نے 5 ماہ میں یوٹیلٹی اسٹورز کو 10 ارب روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی، اس کے علاوہ ماہ رمضان میں یوٹیلٹی اسٹورز کو 5 ارب روپے الگ سے ملیں گے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور وزیر برائے کشمیر، گلگت و بلتستان امور علی امین گنڈا پور سمیت کئی وزراء نے یوٹیلٹی اسٹورز پیکج  کی مخالف کی۔

یوٹیلٹی پیکج کی مخالفت کرنے والے وزراء کا مؤقف تھا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو اربوں روپے دینے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جائیں۔ 

ذرائع کے مطابق ملک بھر کے 4 ہزار یوٹیلٹی اسٹورز پر کھانے پینے کی بنیادی اشیاء سستی فراہم کی جائیں گی۔ 

ذرائع نے بتایا کہ جولائی میں وفاقی حکومت نیا پیکج متعارف کرائے گی، جس میں 3 اقسام کے چاول، 3 اقسام کا پکوان تیل اور 3 اقسام کی دالیں دستیاب ہوں گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے مہنگائی کے ستائے عوام کی ریلیف کے لیے  تقریباً 18 ارب روپے تک کا پیکج لانے کا فیصلہ کیا تھا جس کی منظوری کابینہ سے لی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ملک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے اور رواں سال کے پہلے مہینے میں مہنگائی کی شرح 14.6 فیصد رہی جو کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت میں سب سے زیادہ ہے۔

ادارہ شماریات پاکستان کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2019 میں مہنگائی کی شرح 12.6 فیصد تھی جو جنوری 2020 میں بڑھ کر 14 اعشاریہ 6 فیصد ہو گئی جب کہ جنوری 2019 میں یہ شرح 5.6 فیصد تھی۔

اس کے علاوہ میں ملک میں اِس وقت آٹے اور چینی کا بحران بھی موجود ہے اور اسی وجہ سے آٹے اور چینی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں۔

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھے 2 لوگ جہانگیرترین اور خسرو بختیار چینی بحران کے ذمہ دار ہیں لہٰذا ان کی ملوں کی تلاشی لی جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں جاری گندم اور چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے اور وہیں انہوں نے منگل کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں عوام کی ریلیف کے لیے اہم فیصلے کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ملک میں آٹے اور چینی کے بحران کا ذمہ ایک وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے اہم رہنما کو قرار دیا جاتا ہے۔

جہانگیر ترین حکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنما ہیں جنہیں سپریم کورٹ نااہل قرار دے چکی ہے جبکہ خسرو بختیار وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک اور تحقیق ہیں۔

گذشتہ ماہ سے آٹے کے بحران کے بعد ملک میں چینی کا بحران بھی سر اٹھانے لگا ہے جس کے باعث قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں چینی کی 83 سے 86 روپے فی کلو میں فروخت جاری ہے اورادارہ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک سال میں چینی 18 روپے فی کلو سے زائد مہنگی ہوچکی ہے۔

گذشتہ دنوں وزارتِ صنعت و پیداوار نے چینی کی قلت پر قابو پانے کے لیے 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی تجویز دی تھی جسے اقتصادی رابطہ کونسل نے مسترد کردیا ہے۔