حامد میر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک کالم شئیر کرتے ہوئے طنزیہ ٹویٹ کی کہ کتنا اچھا ہو کہ تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی آپس میں مدغم ہو جائیں اور ایک پارٹی بن جائیں عمران خان نئی پارٹی کے صدر، شہباز شریف نائب صدر اور بلاول جنرل سیکرٹری بن جائیں چوہدری شجاعت کو چئیرمین بنا دیں کیونکہ تینوں بڑی پارٹیاں قاف لیگ بن چکیں

جس پر فواد چوہدری بھی سامنے آگئے اور جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی مخالفت سے کوئی سیاسی لیڈر نہیں بن جاتا، فوج کے بغیر آپ انارکی میں چلے جائیں گے،مشرق وسطیٰ کو دیکھ لیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں نے درست فیصلہ کیا اداروں کے درمیان توازن کی ضرورت ہے فوج اور عدلیہ دونوں کو اپنی باونڈریز خود دیکھنی چاہئیں ان دونوں اداروں کا متنازعہ ہونا تباہ کن ہے۔

جس پر حامد میر نے فواد چوہدری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ فوج کی مخالفت کہاں سے آگئی؟بات یہ ہو رہی ہے کہ اتنے اہم قومی معاملے پر بحث کی اجازت نہیں دی گئی جنہوں نے ترمیم تجویز کی انہیں ترمیم واپس لینے پر مجبور کر دیا گیا فوج کو اس قسم کے تنازعوں میں نہ الجھائیں یہ ایک قومی ادارہ ہے یہ کسی فرد کا محتاج بن جائے تو یہ کمزوری ہے طاقت نہیں

واضح رہے کہ ماضی میں فواد چوہدری اور حامد میر کے درمیان اختلافات رہ چکے ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر ٹوئٹر اور ٹی وی پروگرامز میں لفظی حملے کرتے رہے لیکن فواد چوہدری کے وزیر بننے کے بعد حامد میر اور فواد چوہدری میں صلح ہوگئی ۔۔ حامد میر نے بہت سے معاملات پر فواد چوہدری کی حمایت بھی کی ۔ بہت عرصہ بعد حامد میر اور فواد چوہدری کے درمیان نوک جھونک نظر آئی۔

یادرہے کہ حامد میر کا امیج فوج مخالف ہے اور وہ اکثر وبیشتر فوج پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں جبکہ حامد میر فوج کے حامی ہیں اور ماضی میں سابق آرمی چیف اور صدر پرویز مشرف کی جماعت کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔