سازش ہوئی ہے لیکن ہمارے خلاف ہوئی: عاطف خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عاطف خان کا کہنا ہے کہ سازش ہوئی ہے لیکن ہمارے خلاف ہوئی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عاطف خان کا کہنا تھا کہ سازش کرنے والوں کا بھی پتا ہے لیکن ابھی نام نہیں لونگا۔

 یاد رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے 3 وزرا کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا جن میں عاطف خان، شہرام ترکئی اور شکیل خان شامل تھے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے برطرف ہونے والے کے پی حکومت کے وزیر شکیل احمد کا کہنا تھا کہ پارٹی میں 7 سال ہو گئے، کبھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور نہ کریں گے، عمران خان نے ٹکٹ دیا اور وزیر بنایا۔ وزارت سے کیوں ہٹایا گیا پتہ نہیں جس نے ہٹایا، ان سے پوچھا جائے۔

شکیل احمد نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ورکر ہوں، مرتے دم تک عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔شکیل احمد کا کہنا تھا کہ حیات آباد میں اجلاس کے لیے نہیں بلکہ ڈنر کے لیے گیا تھا، اس ڈنر میں شہرام تراکئی، عاطف خان اور دیگر 5,6 دوست موجود تھے۔

کابینہ بدر کئے گئے وزرا میں عاطف خان، شہرام ترکئی اور شکیل خان شامل ہیں، عاطف خان کے پاس سپورٹس اور کلچر کا قلمدان تھا جبکہ شہرام ترکئی کے پاس صحت اور شکیل احمد ریونیو کے وزیر تھے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر عاطف خان کا کہنا ہے کہ محمود خان کوعمران خان کی سپورٹ حاصل ہم کیسے ہٹاسکتے ہیں۔ ڈنر پر ہماری ملاقات کا مقصد وزیراعلیٰ کوہٹانا نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک کی کوشش تھی کہ میرے علاوہ کسی اور کو وزیر بنا دیں۔ اب جو معاملات چل رہے ہیں ان میں سابق وزیراعلیٰ کے پی کے اور موجودہ وزیر دفاع کا ہاتھ لگتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں20ایم پی ایزنے بھی تحفظات کا اظہارکیا، ہم نے آج تک پارٹی کے خلاف کوئی بات نہیں کی، یہی چیزعمران خان نے سکھائی اگرکوئی چیزغلط ہو تو آواز اٹھاؤ پھرسازش کیسے ہوگئی؟

عاطف خان کا کہنا تھا کہ ٹی وی پردیکھا کہ مجھے ہٹادیا گیا، عمران خان سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ جب تحریک انصاف میں آیا اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی پورے پاکستان میں کونسلربھی نہیں تھا، عمران خان صاحب کوکہا تھا پارٹی میں کوئی عہدے کے لیے نہیں آیا تھا۔

موجودہ وزیراعلیٰ کے پی کے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں عاطف خان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچھا اورشریف آدمی ہیں، محمود خان کے اردگرد لوگ انہیں سازش کا کہتے تھے تاکہ ان کے قریب آجائیں، ایک شخص کا نام نہیں لونگا اس نے کہا آپ کی جتنی لڑائی ہوگی میری عزت بڑھے گی۔

برطرف کیے جانے والے شہرام ترکئی کا کہنا تھا کہ :وزیراعلیٰ کوہٹانے کی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ہم وزیراعلیٰ کے فیورٹ امیدوار تھے۔ ایشوز پر ناراضگی ہوتی ہے، گورننس کے ایشوہے،ہمارا موقف نہیں سنا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے جیسے لوگ سیدھی بات کرتے ہیں، سیدھی بات کرنے والوں کی اکثرپارٹیوں میں جگہ نہیں ہوتی۔ پی ٹی آئی میں چودہ سال محنت کی۔ ٹھیک اورغلط پراسٹینڈ لیتا ہوں۔

شہرام ترکئی کا کہنا تھا کہ پارٹی کے لوگوں نے ہماری لڑائی سے فائدہ اٹھایا، یہ ساری چیزیں چل رہی ہے،پوری فلم ہے۔ دس یا بارہ دفعہ وزیراعلیٰ کے پاس گئے،ہم نے کہا چیزوں کوٹھیک کریں سپورٹ کریں گے۔