پوری تاریخ میں ایک دوسرے کو مارنے کے نت نئے طریقوں کی دریافت میں نسلِ انسان نے ایک دوسرے پر سبقت لیے رکھی۔ جنگوں نے ہلاکت کے طریقوں کی دریافت کے عمل کو تیز تر کیا پھر انسان نے معاونت کے لیے جانوروں کا رخ کیا۔

 

سب سے پہلے آشوریوں اور اہل بابل نے کتوں کو جنگوں میں استعمال کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت یونین نے انسانوں کے دوست اس جانور کو اینٹی ٹینک بارودمیں بدل ڈالا۔

بیسویں صدی کے اوائل تک گھوڑے جنگوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ آئیے جنگوں میں استعمال ہونے والے چھ جانوروں کا جائزہ لیتے ہیں۔

ہاتھی

جنگ پونک دوم، 218 تا 201 ق م میں اٹلی اور ہنی بال کی فوجوں کے درمیان لڑی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ہنی بال نے رومیوں کے خلاف ہاتھیوں کو استعمال کیا۔

رومیوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ وہ اپنی صفوں میں حملہ آور ہاتھیوں کے گزرنے کی جگہ چھوڑ دیتے جس سے ہاتھی آرام سے آگے نکل جاتے۔ بالآخر ہنی بال کے ہاتھی کم پڑ گئے اور وہ جنگ ہار گئے۔

ڈولفن

ڈولفن کو سرد جنگ کے دوران 1960ء کی دہائی میں امریکا اور سوویت یونین نے جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ انہیں بارودی سرنگوں اور غوطہ خوروں کو شناخت کرنے کی تربیت دی گئی۔

ان سے یہ کام آج بھی لیا جاتا ہے۔ جب روس نے یوکرین کے خود مختار علاقے کریمیا پر مارچ 2014ء میں قبضہ کر کے اپنے ساتھ ملایا تو یوکرینی بحریہ کے ڈولفن پروگرام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

چوہے

چوہوں کو دنیا کی افواج میں خوش آمدید نہیں کہا جاتا، یہ افواج کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔ بحری جہازوں میں گھس جائیں تو انہیں نقصان پہنچاتے ہیں اور فوجی کیمپوں میں چلے جائیں تو بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

پہلی عالمی جنگ میں چوہوں نے مورچوں میں اتنا ہنگامہ برپا کیا کہ انہیں مارنے کے لیے بہت سارا اسلحہ استعمال کیا گیا تھا۔ اسلحے کے ذخیرے کو بچانے کے لیے انہیں مارنے کے طریقے تلاش کرنا پڑے تھے۔

اکیسویں صدی میں انہیں بارودی سرنگیں تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا جو ہر سال سینکڑوں افراد کی جانیں لے لیتی ہیں۔ چوہوں میں سونگھنے کی صلاحیت بلا کی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ ان بارودی سرنگوں کا بھی پتہ لگا لیتے ہیں جن کا سراغ الیکٹرانک آلات بھی نہیں لگا سکتے۔

چیمپینزی

سائنس دان بندروں اور چیمپینزیوں کو انسانوں کا پرانا دوست بتاتے ہیں، مگر ان کے ہاتھوں میں بندوق نہیں پکڑائی جا سکتی۔ تاہم سرد جنگ کے دوران شروع ہونے والی خلائی دوڑ میں چیمپینزی نے اہم کردار ضرور ادا کیا ہے۔ انہیں تجرباتی طور پر خلا میں بھیجا گیا۔

کبوتر

قبل از مسیح سے کبوتروں کو جنگوں میں پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران مغربی محاذ کے دور دراز مقامات پر کبوتر ان اہم مقامات تک پیغامات پہنچانے کا ذریعہ تھے جہاں ٹیلی گراف کی سہولت میسر نہ تھی اور انسانوں کا آنا جانا بھی مشکل تھا۔ اس جنگ میں شرایمی نامی کبوتری نے قریب دو سو امریکی سپاہیوں کی جان بچائی۔ اس نے پیغام پہنچایا کہ آرٹلری کے گولے اتحادی سپاہ پر گر رہے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ میں برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو نے کبوتروں کے ذریعے خفیہ پیغام رسانی سے نپٹنے کے لیے فضاؤں میں عقاب چھوڑے۔ بعد ازاں منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ عقاب کسی ایک بھی دشمن کبوتر کو گرانے میں ناکام رہے۔ تاہم دو دشمن کبوتروں کو ’’جنگی قیدی‘‘ ضرور بنایا گیا۔

سانپ

جب کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عظیم عسکری رکن تھا تو پھر یہ بتانا پڑتا ہے کہ کیوں؟ ہم یہاں ہنی بال کا دوبارہ ذکر کرتے ہیں جسے رومیوں نے شکست دی۔

بعد ازاں اسے قرطاج کے علاقے سے بھی بے دخل ہونا پڑا تھا۔ اس نے بیتھینیا کے بادشاہ پروسیاس کے ہاں پناہ لی۔ وہ اب بھی رومیوں پر حملہ کرنے کے لیے پُرعزم تھا۔

اس نے پروسیاس سے جومینیز دوم سے جنگ پر مشاورت کی جو روم کی باجگزار ریاست پرگامم کا سربراہ تھا۔ بیتھینیوں کے پاس اتنی افرادی قوت نہ تھی کہ زمین پر مقابلہ کرتے۔

اس لیے ہنی بال نے سمندری جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہاں بھی صورت حال زیادہ اچھی نہ تھی، تاہم ہنی بال میسر اشیا کو مصرف میں لانا خوب جانتا تھا۔ اس نے سانپوں کو استعمال کیا۔

بہت زیادہ سانپوں کو اس نے اپنے آدمیوں کو سانپ پکڑ کر مٹی کے برتنوں میں ڈالنے کاحکم دیا۔ اس کے بعد ہنی بال نے منجنیقوں سے لیس دشمن کے اعلیٰ ترین بحری جہازپر سانپوں سے بھرے برتن پھینکوا دیے۔

جب بحری جہاز میں سانپ پھیل گئے تو وہی ہوا جس کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ ہنی بال کی فوج جیت گئی۔

دنیا نیوز