بھارت میں فلم پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور اداکاروں کی جانب سے کام کے بدلے جنسی تعلقات کے مطالبے کے خلاف نیم برہنہ احتجاج کرنے والی اداکارہ کو گرفتار کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ بھارت کی فلم انڈسٹری سمیت ہولی وڈ اور کئی فلمی ایوارڈ دینے والی تنظیموں اور یہاں تک کہ نوبل انعام دینے والی تنظیم میں بھی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور انہیں ’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

سب سے پہلے گزشتہ برس اکتوبر میں ہولی وڈ پروڈیوسر 65 سالہ ہاروی وائنسٹن کی جانب سے اداکاراؤں و دیگر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کا اسکینڈل سامنے آیا۔

ہاروی وائنسٹن کی جانب سے کم سے کم 3 دہائیوں تک 100 سے زائد اداکاروں و خواتین کو جنسی طور پر ہراساں اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے کے بعد ان کی آسکر رکنیت معطل کیے جانے سمیت ان کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئیں، جو تاحال جاری ہیں، مگر ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

اس واقعے کے بعد دیگر پروڈیوسز، ڈائریکٹرز و اداکاروں پر بھی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انہیں’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کے معاملات سامنے آئے۔


آسکر اکیڈمی کے صدر بھی الزامات لگے، تاہم تحقیقات کے بعد انہیں بری قرار دیا گیا۔

گزشتہ روز ہی دنیا کے سب سے معتبر اور اہم ایوارڈ ’نوبل‘ دینے والی ادب کی کمیٹی میں بھی خواتین کو ہراساں اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کی خبر سامنے آئی۔

خواتین کو ہراساں اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد دنیا بھر میں گزشتہ برس کے اختتام سے ’می ٹو‘ اور ’ٹائمز اپ‘ نامی مہم چل رہی ہیں اور اب یہی مہم بھارت کی تامل فلم انڈسٹری میں بھی پہنچ گئی۔

تیلگو فلم انڈسٹری جسے ’ٹولی وڈ‘ بھی کہا جاتا ہے، بولی وڈ کے بعد بھارت کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری ہے، اس انڈسٹری نے رجنی کانتھ اور کمال ہاسن جیسے اداکار بھی دیے۔

اسی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی نئی اداکارہ سری ریڈی نے تامل فلم انڈسٹری میں خواتین سے کام کے بدلے سیکس یعنی ’کاسٹنگ کوچ‘ کے خلاف نیم برہنہ احتجاج کیا، جس کے بعد اسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق سری ریڈی نے ہفتے کے دن ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں ’مووی آرٹسٹز ایسوسی ایشن‘ (ایم اے اے) کے دفتر کے باہر نیم برہنہ احتجاج کیا۔


کیریئر کو بہتر بنانے کے لیے محنت کرنے والی اداکارہ سری ریڈی نے الزام عائد کیا کہ تیلگو فلم انڈسٹری کے بااثر پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور اداکار خواتین سے فلموں میں کام کے بدلے جنسی تعلقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا یہ احتجاج تیلگو فلم انڈسٹری میں رائج ’کاسٹنگ کوچ‘ کے نظام کے خلاف ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تیلگو فلم اںڈسٹری کے لوگ مقامی اداکاراؤں کو چانس دینے کے بجائے ممبئی سمیت دیگر شہروں سے نئی لڑکیوں کو بلاکر انہیں چانس دیتے ہیں۔

سری ریڈی نے دعویٰ کیا کہ مقامی اداکاراؤں کے بجائے دیگر ریاستوں کی لڑکیوں کو اس لیے چانس دیا جاتا ہے، کیوں کہ تیلگو فلم اںڈسٹری کے بااثر افراد کے مطالبے پورے کرتی ہیں۔

سری ریڈی نے احتجاج کے دوران مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تیلگو فلم انڈسٹری میں رائج ’کاسٹنگ کوچ‘ کی وجہ سے کئی اداکاراؤں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، جب کہ کئی اس کا شکار ہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ برہنہ احتجاج کرنے پر اس لیے مجبور ہوئی، کیوں کہ ان کی بات کوئی بھی نہیں سن رہا تھا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق اداکارہ نے احتجاج کے دوران ایک کے بعد ایک اپنے جسم کے کپڑے اتارے، بعد ازاں پولیس نے اطلاع پر پہنچ کر سری ریڈی کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق سری ریڈی نے تیلگو فلم انڈسٹری کے کسی بھی شخص کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کروائی۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اداکارہ کو پیش کش کی کہ وہ کسی بھی شخص کے خلاف شکایت درج کروائے، پولیس اس کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی، تاہم اداکارہ نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔