جنرل مشرف تمہاری بھی عمر ہو….. ابھی زندہ ہو؟ – ملک الطاف حسین

24
ملک الطاف حسین

کچھ لوگ شرم سے ڈوب مرتے ہیں، کچھ غیرت سے مرتے ہیں، کچھ مقابلہ کرکے قتل ہوجاتے ہیں، کچھ پھانسی چڑھ جاتے ہیں اور کچھ زندہ رہ کر بھی مرجاتے ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ آپ کو ان میں سے کوئی بھی موت نہیں آئی اور آپ ماشاء اللہ صحت مند اور بخیر و عافیت ہیں، ریٹائرڈ جنرل صاحب میرے پاس آپ کے زندہ ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی کیوں کہ میرا خیال تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو، نواب اکبر خان بگٹی اور غازی عبدالرشید کے قتل میں آپ کے براہ راست ملوث ہونے کی خبروں کے بعد آپ کہیں زیر زمین چلے گئے ہوں گے، تاہم بعد میں کسی کتاب میں پڑھا تو معلوم ہوا کہ زمین ایسے لوگوں کو اتنی جلدی اپنے اندر نہیں لے لیتی کہ جنہوں نے اپنے ہم وطنوں کو قتل کرنے، بیٹیوں اور بیٹوں کو ڈالروں کے عوض فروخت کرنے اور برادر پڑوسی ملک پر صلیبی جنگجوؤں سے حملہ کرانے جیسے ناقابل معافی جرم کیے ہوں، ان سے قبر بھی اللہ کی پناہ مانگتی ہے۔
بہرحال جنرل (ر) صاحب آپ کی موجودگی کی خبر مجھے تب ہوئی جب 12 فروری 2018ء کا ’’جنگ‘‘ میری نظر سے گزرا، اخبار کے فرنٹ پیج پر آپ کا بیان کچھ اس طرح سے تھا ’’تیسری سیاسی قوت کے ساتھ نیا پاکستان بنائیں گے‘ کرپٹ لوگ پھر منتخب ہوگئے تو ملک کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکے گا، وطن واپس آکر لیگی دھڑوں کی طاقت سے بننے والی تیسری قوت کی قیادت کروں گا، اے پی ایل ایم میں کوئی بدنام، چور، ڈاکو اور لٹیرا نہیں، حلال کھائیں گے اور پاکستان مضبوط بنائیں گے، پچھلے 10 سال میں ملک میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، میرے دور میں پاکستان عروج پر تھا، مسلم امہ سمیت پوری دنیا میں ایک رتبہ تھا، اب ہر جگہ تباہی نظر آتی ہے وغیرہ وغیرہ‘‘ خبر کے مطابق آپ نے یہ خطاب ویڈیو لنک کے ذریعے اسلام آباد کے ایک جلسے سے کیا

مشرف صاحب آپ نے جو کچھ کہا اس پر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی کیوں کہ آپ جیسے لوگ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں، مجھے آپ کا ایک انٹرویو یاد ہے جس میں آپ نے کہا تھا کہ میں صبح سات بجے اُٹھتا ہوں اور واش روم میں جا کر موسیقی سنتا ہوں، وہیں پر میرے ذہن میں نئے نئے خیالات آتے ہیں اور پھر میں دفتر جا کر اُن پر عمل کرتا ہوں، واش روم میں موسیقی کے دوران آنے والے خیالات اور نماز فجر پڑھنے کے بعد آنے والے خیالات میں یقیناًایسا ہی فرق ہوتا ہے جو رحمن اور شیطان کے بندوں میں ہوتا ہے۔ آپ کی ایک ٹی وی کلپ بھی مجھے یاد ہے جس میں آپ ایک تقریب میں بیٹھے پکا راگ گا رہے ہیں اور مجھے وہ خبر بھی یاد ہے کہ جب آپ کاکول اکیڈمی میں کیڈٹ تھے تو ڈانس کرنے میں پہلے نمبر پر آئے، آج کل بھی آپ سے متعلق ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ آپ دبئی، لندن اور امریکا کے کلبوں میں ڈانس کرتے پھر رہے ہیں حالاں کہ آپ کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ اکثر آپ کی کمر میں درد رہتا ہے۔ مشرف صاحب آپ کتنے بہادر جنرل تھے آپ کا ایسا کوئی سروس ریکارڈ میرے سامنے موجود نہیں البتہ آپ کتنے بزدل جنرل تھے یہ بات مجھے ضرور معلوم ہے، آپ کے 10 سالہ دور میں نہ تو مقبوضہ کشمیر آزاد ہوا نہ کارگل پر قبضہ برقرار رکھ سکے اور نہ ہی

سیاہ چن کی چوٹیوں سے بھارتی فوج کو اُتارا جاسکا، چلیں یہ تو جو ہوا سو ہوا لیکن آپ کی بزدلی کی انتہا تو یہ ہے کہ امریکی صدر بش کی ایک فون کال پر دی جانے والی دھمکی پر ہی آپ نے سرنڈر کردیا، افغانستان جو ہمارا برادر اسلامی اور پڑوسی ملک تھا اور جس کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات تھے اُس پر حملہ کرنے کے لیے امریکی اور ناٹو افواج کو پاکستان کی بندرگاہ، زمینی اور فضائی حدود سمیت انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کر ڈالا، آپ کے اس بزدلانہ فیصلے کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان ایسی دلدل میں اُتر گئے کہ جس سے نکلنے کا اب کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ افغانستان اور پاکستان دونوں لہولہان ہیں، پورا خطہ غیر مستحکم اور بدامنی کا شکار ہے، جس جنگ میں آپ نے پاکستان کو دھکیلا تھا اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے 74 ہزار شہری جن میں 10 ہزار کے قریب سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں شہید ہوچکے جب کہ پاکستانی معیشت کو اپنے وسائل سے ایک کھرب 23 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا، 17 برس سے یہ جنگ جاری ہے اس جنگ میں نہ امریکا کامیاب ہورہا ہے نہ پاکستان کی جان چھوٹ رہی ہے اور نہ ہی افغانستان آزاد ہوپارہا ہے، آپ ایسی جنگ شروع کروا گئے کہ جس کا کوئی حل کسی کے پاس نہیں۔ علاوہ ازیں آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ افغانستان پر 2001ء میں حملہ کرنے کے بعد ہی امریکا کو یہ حوصلہ ملا کہ اس نے 2003ء میں ایک دوسرے مسلم ملک عراق پر بھی حملہ کردیا جس کے نتیجے میں مشرقی وسطیٰ کا پورا مسلم خطہ ہی غیر مستحکم ہوگیا یہ جنگ بھی گزشتہ 14 برس سے جاری ہے جب کہ امریکی فوجی حملے عراق سے نکل کر شام تک پھیل گئے ہیں۔ اسرائیل مضبوط اور بیت المقدس کی آزادی مزید مشکلات سے دوچار ہوگئی ہے۔ اس تمام صورت حال کے بھی آپ براہ راست ذمے دار ہیں اگر ایٹمی قوت کا حامل پاکستان امریکی فوج کو افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے تعاون اور سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیتا تو امریکا افغانستان سمیت عراق پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرتا مگر چوں کہ آپ میراثیوں جیسا مزاج اور بردہ فروشوں جیسا کردار رکھتے ہیں اس لیے آپ یہ تجزیہ ہی نہ کرسکے کہ افغانستان پر براستہ پاکستان حملہ کرنے کی اجازت دینے کے نتائج کس قدر بھیانک اور کہاں کہاں تک جائیں گے۔ آپ نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ 10 سال ملک میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، آپ کو یہ بات کہتے ہوئے کچھ شرم محسوس کرنی چاہیے تھی آپ نے ’’افغان امریکا جنگ‘‘ میں پاکستان کو دھکیل کر ایسا کام کیا ہے کہ سابقہ 10 سال تو کیا آئندہ 200 سال بھی پاکستان کی ترقی کے لیے مشکل ہوں گے کیوں کہ جب تک امریکا افغانستان میں موجود رہا اور حکومت پاکستان قُلی بننے کی ڈیوٹی جو آپ نے شروع کی تھی انجام دیتی رہی تو جنرل صاحب پاکستان کہاں سے ترقی کرسکے گا؟؟۔ آپ نے کہا کہ پی ایم ایل اے میں کوئی بدنام، چور، ڈاکو اور لٹیرا نہیں، حیرت ہے کہ آپ سے زیادہ بدنام، چور، ڈاکو اور لٹیرا دوسرا کون ہوسکتا ہے آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ آپ کے ناجائز اثاثوں پر تفتیش کے لیے نیب کو اختیار دے چکی ہے۔ 25 اپریل 2013ء کے اُس خط کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ احتساب بیورو کو سابق آرمی چیف کے اثاثوں کی تفتیش کرنے کا اختیار نہیں۔

آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ حلال کھائیں گے اور پاکستان مضبوط کریں گے، پاکستان کو امریکا کی برپا کی ہوئی (افغان جنگ) پرائی جنگ میں دھکیل کر آپ نے کس قدر کمزور کیا ہے اس پر ہم اوپر تبصرہ کرچکے ہیں تا ہم یہاں صرف اتنا کہنا چاہیں گے کہ یہ جو آپ نے حلال کھانے کی بات کی ہے آپ کو زیب نہیں دیتی کیوں کہ بیٹیوں اور بیٹوں کو فروخت کرنے والوں کے منہ میں جو نوالہ ہوتا ہے اس کو حلال نہیں کہتے، آپ نے خود اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ کس طرح سے چند ہزار ڈالروں کے بدلے میں ماورائے عدالت اپنے شہریوں کو قیدی بنا کر امریکا کے حوالے کیا گیا، گوانتاناموبے کا قید خانہ آپ نے بھرا، ڈاکٹر عافیہ کو آپ نے امریکا کے حوالے کیا، اس طرح سے مسلم امہ کو جو شرمندگی ہوئی اور تکلیف پہنچی اُس کے آپ براہ راست ذمے دار ہیں۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ میرے دور میں پاکستان عروج پر تھا، مسلم امہ سمیت دنیا بھر میں ایک رتبہ تھا اب ہر جگہ تباہی نظر آتی ہے، جنرل صاحب آپ نے یہ بھی غلط کہا، آپ کے دور میں پاکستان عروج پر نہیں تھا، آپ کی عیاشیاں عروج پر تھیں، شراب اور شباب کی محفلیں عروج پر تھیں مسلم امہ کے سامنے پاکستان کی توہین تو اس دن آپ نے کردی جب افغانستان کے سفیر ملا ضعیف پشاور ائرپورٹ پر امریکیوں کے حوالے کیا گیا اور وہ اُسے ہماری ایجنسیوں کے آفیسرز کے سامنے ننگا کرکے لاتیں اور گھونسے مارتے ہوئے ہیلی کاپٹر تک لے گئے جس کے بعد سفیر موصوف کو گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں منتقل کردیا گیا، دور قدیم سے لے کر دور جدید تک کبھی بھی کسی ملک کے سفیر کے ساتھ ایسا حشر نہیں ہوا جو آپ نے برادر اسلامی اور پڑوسی ملک افغانستان کے سفیر کے ساتھ کیا۔ جنرل آپ کی عزت اور غیرت تو اُس دن ختم ہوگئی جس روز ملا ضعیف کو پشاور ائر پورٹ پر اور ڈاکٹر عافیہ کو بگرام کے قید خانے میں برہنہ کیا گیا۔
جنرل مشرف ہم جانتے ہیں کہ تم کبھی پاکستان نہیں آؤ گے، الطاف حسین کی طرح انگریزوں کے کتے نہلاتے نہلاتے وہیں کہیں دم توڑ جاؤ گے۔ مگر نہیں ایسا نہیں ہوگا، تمہیں پاکستان ضرور لایا جائے گا، پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے، پاکستان کے عوام، عدالتیں اور مسلح افواج آئین کی حفاظت اور قانون کی بالادستی کے لیے مکمل اتفاق اور یکسو ہو چکے ہیں، کوئی مارشل لا لگنے والا نہیں، کوئی جنرل تمہاری سفارش کرنے والا نہیں، تم کسی سیاسی اتحاد کی قیادت کرنے والے نہیں بلکہ تمہارے ریڈ وارنٹ جاری ہونے والے ہیں، نیب اور ایف آئی اے تمہیں گرفتار کرکے لائیں گے، تمہارے مقدمات عدالتوں میں چلیں گے، شفاف ٹرائل ہوگا، یتیموں، بیواؤں، شہدا اور مقتولین کے لواحقین کی فریادیں رنگ لائیں گی اور تمہیں سخت سے سخت سزا ہوسکتی ہے جب کہ ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح کے سنگین الزامات اور مقدمات تم پر قائم ہیں شاید اُس کا نتیجہ ایسا ہی نکلے اور انصاف کا ترازو یوں برابر ہوجائے کہ ایک منتخب وزیراعظم کے بعد ایک ریٹائرڈ جنرل کو بھی پھانسی دے دی گئی۔
اللہ ربّ العزت سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں مظلوم کی داد رسی اور انصاف کی خاطر مشکل فیصلے کرنے کا حوصلہ اور جرأت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

Published 19 February 2018 (Jasarat)

Source Link