جو دانشور، ادیب، فلاسفر نما لکھاری اور ماڈرن اسلام کے داعی جدید مذہبی سکالر، بھارت نہیں صرف دلّی شہر میں مسلمانوں پر جو کچھ بیت رہا ہے، اسے دیکھنے کے بعد بھی یہ تصور رکھتے ہیں کہ اس دنیا میں جدید مغربی تہذیب و تمدن نے جو ”جمہوری مذہب” بزور طاقت نافذ کیا اس میں انسانی معاشرے کی فلاح چھپی ہوئی ہے تو پھر مجھے ان کی اس کورچشمی پر ماتم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ ایک ایسا متعصب اندھا پن ہے جس کا عقل و ہوش کے پاس بھی کوئی علاج نہیں۔ گذشتہ تقریبا سو سال سے یہ جمہوری مذہب دنیا پر پوری آب و تاب سے نافذ ہو چکا ہے اور اس کے مخالفین مردود، مرتد، انسانیت سے عاری اور آمریت کے بھی خیرخواہ قرار دیئے جارہے ہیں۔ سو سال میں نے اس لیے کہا، کیونکہ 1920ء میں خواتین کومغربی جمہوری ممالک میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا اور یوں جمہوریت کے بڑے آدرش کی تکمیل ہو گئی کہ حکومت تمام عوام کی رائے سے منتخب ہوتی ہے۔ رائے یا ووٹنگ دراصل ایک ایسا دھوکہ اور فراڈ ہے جس کے خوبصورت پردے کے پیچھے اس جدید مغربی، سودی اقتصادی تہذیب کا کریہہ چہرہ چھپا ہوا ہے۔ یہ مذہبِ جمہوریت (Religion of Democracy) صرف ووٹنگ نہیں بلکہ اپنا ایک نظام زندگی اور اپنی اخلاقیات رکھتا ہے اور اس کے نفاذ کے لئے بہت متشدد ہے،اسے کسی اکثریت کی حاجت نہیں ہوتی۔ مثلا ہم جنس پرست دنیا کے ہر ترقی یافتہ ممالک میں شاید ایک فیصد سے بھی زیادہ نہ ہوں۔ ان کے ووٹوں کا امریکہ، برطانیہ، یورپ یا کسی دوسرے جمہوری ملک کے انتخابات پر شاید ہی کوئی اثر و رسوخ ہو۔لیکن طاقتور معاشی اور تہذیبی قوتیں چاہتی ہیں کہ انکے جمہوری مذہب کی اخلاقیات کے مطابق پوری دنیا میں اس خاندانی نظام کو تہہ و بالا کردیا جائے جو انسانوں کو الہامی مذاہب نے عطا کیا ہے۔ اسی لئے دنیا کے ہر ترقی یافتہ، مہذب کہلائے جانیوالے والے جمہوری ملک میں لوگوں کی اکثریت کو بھی مرد و عورت کی آپس میں ہم جنس پرستی کے حقوق ”Gay and Lesbian Right” کے خلاف جانے کی اجازت نہیں۔ اس ایک فیصد سے بھی کم ہم جنس پرست مخلوق جو قوانین فطرت کا مذاق اڑاتی ہے، اسے یوں آنکھوں کا تارا بنا کر رکھا گیا ہے کہ ان کے خلاف گفتگو کرنے والے کو شدت پسند، بنیاد پرست اور انسانی حقوق کا مخالف کہا جاتا ہے۔اسے قانونی اور تہذیبی طور پر ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے۔میں انگلینڈ کے ایک ڈاکٹر صاحب کو جانتا ہوں جو بنیادی طور پر پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں، مذہبی آدمی ہیں، نماز روزے کے پابند ہیں، اکثر اوقات میرے جیسے پاکستانیوں سے بحث میں الجھے رہتے تھے کہ پاکستان میں آزادی اظہار نہیں، آمریت ہے، جمہوریت نہیں، میں برطانیہ میں بہت خوش ہوں کم از کم ایک آزاد شہری کی تمام سہولیات مجھے میسر ہیں۔ انہوں نے اسی ترنگ میں آکر برطانیہ کے ایک میڈیکل ریسرچ کے تحقیقی رسالے میں ایک مضمون تحریر کردیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ وہ افراد جو ہم جنس پرستی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، اس غیر فطری طرز حیات کی وجہ سے ان میں ایسی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن کا علاج بہت مہنگا ہے اور چونکہ برطانیہ میں علاج حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے یہ لوگ اپنی اس ”بیمار” طرز زندگی کی وجہ سے حاصل شدہ بیماریوں کے علاج کا بوجھ عام آدمی کے ٹیکسوں پر ڈالتے ہیں جو سراسر ظلم ہے۔ یہ ایک خالصتاً سائنسی مضمون تھا جو ایک سائنسی میڈیکل جرنل میں چھپا تھا۔ لیکن چونکہ یہ ”مذہبِ جمہوریت” کی ”اخلاقیات ”کے خلاف تھا،اس لئے سب سے پہلے ان ڈاکٹر صاحب کا میڈیکل پریکٹس کرنے کا لائسنس کینسل کیا گیا اور انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس بعد میں دیا گیا۔ وہ بہت سٹپٹائے۔چالیس سال کی میڈیکل پریکٹس اور تعلیم گٹر کی زینت بنا دی گئی تھی۔ بہت سوچا، دفاع کا کوئی راستہ ہی نہ تھا۔ فوراً ایک خط تحریر کیا کہ دراصل میں کمپیوٹر سے بہت کم شدھ بدھ رکھتا ہوں، اس لیے میں نے اپنا مضمون اپنے بیٹے کو ٹائپ کرنے اور اسے بہتر زیبائش کے لیے دیا تھا۔ میرا بیٹا چونکہ مذہبی خیالات کا حامل ہے، اس لیے اس نے اس مضمون میں ایسے تصورات ڈال دیے جن کا میری سوچ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ برطانوی جمہوریت نے انہیں جواب دیا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تمہارے اندر بذات خود ایک شدت پسند سوچ پائی جاتی ہے، اس لیے آپ کو چار ماہ ہمارے تربیتی مرکز میں گزارنا ہوں گے، جہاں ہم شدت پسند (Extremist) نظریات رکھنے والے افراد کے لاشعور اور شعور میں موجود ایسے خیالات کی اصلاح کرتے ہیں۔ وہ چار ماہ اس تربیتی مرکز میں مسلسل جاتے رہے لیکن اس چار ماہ کی صبر آزما ٹریننگ کے بعد ان کو کہا گیا کہ آپ کے اندر شدت پسند خیالات جڑ چکے ہیں،آپ ناقابلِ اصلاح ہیں اس لیے آپ کو برطانیہ میں میڈیکل پریکٹس کرنے کا لائسنس نہیں دیا جاسکتا۔آپ آرام سے اپنے نظریات کے ساتھ زندگی گزاریں۔سوال یہ ہے کہ ایسا ان کیساتھ کیوں کیا گیا؟ کیا آزادی اظہار، حق ِرائے یا کسی بھی نام نہاد جمہوری اصول کے تحت ان کیساتھ یہ سلوک کیا جا سکتا تھا۔ یقیناً نہیں۔ کوئی فرد جمہوری اصولوں کے مطابق اس کا جواز پیش نہیں کرسکتا۔ لیکن وہ جو مذہبِ جمہوریت کی اخلاقیات پر یقین رکھتے ہیں ان کے پاس اس کا جواز موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کی سوچ جمہوری نظام کیلئے خطرہ ہے اور ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ایسے لوگ مذہبِ جمہوریت کے مرتد اور کافر ہیں۔انکی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب کے مقابلے میں جمہوریت صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ”طرزِ زندگی” ہے۔ جھوٹ بولتے ہیں وہ لوگ،جو یہ کہتے ہیں کہ جمہوری نظام میں اکثریت ہی بالاتر ہے اور جمہوری معاشرے میں ہر فرد اپنی سوچ و فکر میں آزاد ہے۔ جمہوریت وہ بدترین مذہب ہے جس کے ایک ہی شہر فرانس میں رسول اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنانے والے کے حق میں جلوس نکلتے ہیں اور آسیہ مسیح کو ایوارڈ دیا جاتا ہے جبکہ اسی شہر میں صرف 92 عورتیں مکمل حجاب پہنتی ہیں مگر کئی سو منتخب اراکین اسے جمہوری نظام کے لیے خطرہ تصور کرکے اس پر پابندی لگواتے ہیں۔ یہ رائے عامہ نہیں سیاسی پارٹیوں کو دی جانے والی گائیڈ لائن ہے جو اس جمہوری نظام کے اصل مالک و مختار، سودی کارپوریٹ سرمایہ دار انہیں دیتے ہیں۔ اربوں ڈالر کے پارٹی فنڈ رک جائیں تو کوئی پارلیمنٹ کا رکن بننے کا خواب بھی نہ دیکھے۔ اسی طرح اربوں ڈالر کے اشتہارات رک جائیں تو میڈیا کی سانسیں رک جائیں۔میڈیا کے اس میدان میں نہ کوئی ہم جنس پرست کی بات کرنے والا ہو اور نہ عورت کو تماشہ محفل بنائے۔ جمہوری مذہبی معاشرے کی اخلاقیات ہی تو ہیں کہ صرف چند سو خواتین ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد عوام کے منہ پر طمانچہ رسید کر کے عورت مارچ کرتی ہیں اور غلاظت و بیہودگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔پورا جمہوری نظام ایک ”مصنوعی اکثریت” کے گرد گھومتا ہے جو مغرب میں سرمائے کی طاقت اور غریب ممالک میں دھونس، دھاندلی اور بدمعاشی سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ وہ اکثریت کی آمریت ہے جس میں دلّی میں ہجوم گھروں کو آگ لگاتا ہے، قتل کرتا ہے، لوگوں کو زندہ جلاتا ہے، لیکن یہ سب کچھ کرنے کے باوجود نریندر مودی کی حکومت جائز ہے،نمائندہ ہے، عالمی جمہوری اصولوں کے عین مطابق ہے اور قانونی بھی ہے۔اسکے مقابلے میں دنیاکے کسی بھی ملک میں کوئی ایک فرد واحد خواہ کتنا ہی انصاف پسند کیوں نہ ہو، رعایا اس سے خوش ہو، تمام طبقات کا برابر خیال رکھتا ہو، خود درویشانہ زندگی گزارتا ہو مگر وہ مذہبِ جمہوریت کے تحت قابل نفرت ہے کیونکہ وہ حکمران اس مذہب کی اخلاقیات کا پاس دار نہیں ہے۔ اس ایک شخص کے خلاف پوری دنیا متحداور حملہ آور ہو جاتی ہے۔ اسکے مقابلے میں اگر کوئی جمہوری طور پر منتخب ہو جائے اور لاکھوں انسانوں کے گھر اجاڑ دے تو وہ قابل احترام رہتا ہے۔ افغانستان کے ملا محمد عمر اور بھارت کے نریندر مودی میں یہی فرق ہے